احبابِ محترم۔۔خواتین فی الزمانہ ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے آتی نظر آرہی ہیں ۔۔ امتحانات میں اعزازات کی بات ہو یا پیشہ ورانہ زندگی کے اہم معاملات وہ تحمل سے اپنے فرائض گھر اور اپنے ادارے میں نبھانے پر دسترس رکھتی ہیں ۔ اس اہمیت یا اس تعریف کی حق دار بننے کے لئے وہ کس قدر محنت کرتی ہیں انہیں دیکھنے والے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ عورت محبت و ہمدردی کا استعارہ سمجھی جاتی ہے۔۔وہ جس شعبے کو بھی اختیار کرے اپنے گرد ایک خوبصورت ماحول بنانا جانتی ہے ۔۔
صحافت بظاہر ایک ایسا پیشہ ہے جو عرصہ دراز تک مرد حضرات کے لئے ہی مخصوص رہا ہے۔۔ مگر موجودہ دور میں خواتین سیاست اور معاشرت پر جس بھرپور انداز سے رائے دیتی نظر آتی ہیں وہ ان کے مطالعے کی وسعت اور مشاہدے کی گہرائی کا عکس دکھائی دیتا ہے ۔۔
جب کوئی عورت کسی موضوع پر قلم اٹھاتی ہے تو وہ یقینا ً اس اعتماد سے اظہار خیال کرتی ہے کہ وہ اس ماحول سے ان حالات سے خود گزر کر تحریری صورت میں اس کا اظہار کر رہی ہو ۔ ۔وہ اپنے پڑھنے والوں میں احساسات کو بیدار کرنے کا طریقہ بخوبی جانتی ہے۔ ایک دور تھا کہ جب ادب میں بھی حساسیت برائی سمجھی جاتی تھی۔گفتگو میں ڈھکے چھپے الفاظ میں بیانیہ لکھا جاتا تاکہ مخصوص طبقہ ہی بات کی تہہ تک پہنچے ۔مگر نئے انداز نئے اظہاریہ میں وہی لوگ کامیاب نظر آتے ہیں ۔ جو بلا تامل حق سچ کہنے میں کوئی دباؤ قبول کئے بنا غیر جانبدار رائے دینا جانتے ہوں ۔۔
اقر اگر آپ کسی تحریر کو پڑھتے ہوئے آنسووں پر قابو نہ رکھ سکیں تو سمجھ لیجئے لکھنے والے نے بھی اس تحریر کو اپنے خون کی روشنائی سے ہی رقم کیا ہے۔۔
آج ایک ایسی صحافی کالم نگار خاتون ہماری مہمان ہیں جو بظاہر انتہائی نرم گو اور سادگی کا پیکر نظر آتی ہیں لیکن اپنی تحریر سے ہر دیدہء بینا پر حقیقت کو روشن و آشکار کرنا جانتی ہیں ۔
جیسے کسی شاعر نے کہا ۔۔
عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں۔۔
سعدیہ قریشی صاحبہ آج کی نشست میں خوش آمدید ۔۔یومِ خواتین پر آپ جیسی خاتون کا تعارف بیشمار خواتین کے لئے اپنے خول میں سے نکلنے کا باعث ہوگا ۔۔لفظ خول کا مطلب محض گھر یا چہار دیواری نہیں ہے بلکہ وہ رنگا رنگ آرام دہ ماحول اور خود ساختہ دنیا بھی ہے جس میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں سے ہم بے خبر رہ جاتی ہیں ۔
تو سعدیہ قریشی صاحبہ آپ کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہوئے سوالات کا آغاز آپکے بچپن سے ہی کرتے ہیں
سوال 1 _
آپ کی شناخت آپ کے لکھے کالمز سے زیادہ رہی ہے۔۔آپ کا بچپن کیسا گزرا ۔ لکھنے کا آغاز کب سے کیا؟
جواب_ بہت بہت شکریہ روما اکثر گھروں کی طرح ہمارے گھر کا ماحول ہمیشہ سے کتابوں سے محبت والا تھا, علم سے محبت کرنے والا تھا. اور میں نے اپنی اردگرد ہمیشہ کتابیں ہی دیکھیں۔۔ ہمارے گھر اخبار بڑی باقاعدگی سے آتا تھا. رسالے آتے تھے. بچپن تھا تو بچوں کے ہی چار پانچ رسالے ہمارے گھر آیا کرتے تھے.
اردو انگریزی دونوں اخبار ہی باقاعدگی سے آتے تھے ۔میں آپ کو بتاؤں کہ میرے والد گورنمنٹ آفیسر تھے اور ان کی زیادہ تر پوسٹنگ جنوبی پنجاب میں رہی. جسے سرائیکی علاقہ کہتے ہیں۔۔ خان پور، رحیم یار خان اور احمد پور اس علاقے میں ہم لوگ زیادہ رہے. اور زیادہ عرصہ خان پور میں گزرا.
وہ چھوٹا سا شہر تھا اور ظاہر ہے یہاں پر اتنی رسائی نہیں تھی کہ ہر طرح کے میگزین اور ہر طرح کے اخبارات ملتے. تو جب بھی میرے والد صاحب کا لاہور جانا ہوتا تو وہ ریڈرز ڈائجسٹ لے کر آیا کرتے تھے. پرانی ریڈر ڈائجسٹ وہ ہمارے لئے خریدتے اور پھر ہم بہن بھائی ان کو پڑھا کرتے تھے۔ .وہ وقت مجھے ابھی بھی یاد ہے ۔۔
اور طویل چھٹیاں ہوتیں تو باقاعدہ ہم لوگ لائبریری بنا لیتے. ہمارے اپنے گھر میں بچوں کے لیے رسائل بچوں کے شمارے اور مختلف موضوعات پر کہانیوں کی کتابیں موجود ہوتی تھیں ۔
ان کہانیوں میں عمر عیار کی کہانیاں یا عمران سیریز بھی شامل ہوتی تھیں. ہم پانچ بہن بھائی ہیں تو سب ہی کی پسند کی کہانیاں ہماری اس گھریلو لائبریری میں موجود ہوتی تھیں۔ یہ کتابیں ہم بہن بھائیوں نے مختلف اوقات میں خریدی و جمع کر رکھی ہوتی تھیں یوں سمجھئے کہ ہم سب کی ان تمام کتابوں کے باعث چھٹیوں میں پڑھنے کے لئے بیشمار کتابیں موجود ہوتی تھیں۔ جن سے اور لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے تھے.
پھر ہمیشہ اچھا ادب پڑھا کیونکہ گھر میں ماحول تھا ۔۔
ہم نے اقبال کی نظمیں جو بانگ درا میں ہیں بچپن میں خوب زبانی یاد کی ہوئی تھیں. جب بجلی چلی جاتی تو سارے بہن بھائی اکھٹا بیٹھتے اور ایک دوسرے کو کوئی نہ کوئی اقبال کے اشعار سنا رہے ہوتے تھے ہوں سمجھئے کہ اس طرح کا گھر میں ماحول تھا. پھر جب ذرا بڑے ہوئے مثلاً ساتویں یا آٹھویں جماعت میں تو فیض احمد فیض کی کتابوں سے اشعار و غزلیں یاد کیں اردو مضامین میں لکھ ڈالے تھا ۔۔
پھر بانو قدسیہ، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب, عصمت چغتائی، منٹو تک۔۔۔یوں سمجھئے
میٹرک تک مطلب انٹر میڈیٹ تک چلئے میں کہہ سکتی ہوں کہ پڑھ لیا تھا. اس وقت وہ سمجھ میں آیا یا نہیں آیا لیکن اس عمر میں وہ سب نظر سے گزر چکا تھا
2سوال۔
اچھا ادب پڑھتے پڑھتے خود کیسے لکھنا شروع ہوئیں ؟ سب سے پہلے کیا لکھنے کی کوشش کی ؟
جواب _
لکھنا بھی یوں سمجھیں کہ سکول ہی کے زمانے میں شروع کر دیا تھا اور تب میں چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھا کرتی تھی کہانیاں بھی لکھتی تھی. اور چھٹی کلاس یا ساتویں کلاس میں کبھی کبھی کسی رسالے میں بھی بھیج دیتی تھی. کالج تک پہنچی تو میں نے ایک ڈائجسٹ میں بھی اپنا افسانہ بھیج دیا اور وہ چھپ بھی گیا. پہلی دفعہ بہت ہی خوشی ہوئی. اپنے شوق سے منتخب اشعار و موضوعات لکھنے کے لئے ڈائری بنا رکھی تھی ۔۔
اس وقت عمر زیادہ نہ تھی شاید ساتویں یا آٹھویں جماعت کی طالبہ رہی ہوں گی ۔
اس قیمتی ڈائری کو بڑی چھپ چھپا کے رکھا کرتی تھی کہ کوئی دیکھ نہ لے ایسے دل میں بات آتی تھی کہ پتہ نہیں یہ اچھی بات ہے کہ نہیں؟
لیکن شاعری کی طرف فطری رجحان تھا.
لفظوں سے شاعری سے الفاظ کی بنت سے ادب کی اصناف سے فطری طور پر میرا لگاؤ تھا. اور ماحول بھی ایسا تھا تو سمجھیں کے لڑکپن سے ہی میں لکھتی تھی اور ذاتی ڈائری بھی لکھا کرتی تھی ۔
سوال3_ یہ چھپا چھپا کر لکھنا کب منظر عام پر آیا اور آپ کے لکھے کو کب پہلی بار تعریف حاصل ہوئی ؟
جواب _ مجھے لگتا ہے کہ میرے لکھے ہوئے کو جب میں سکول, کالج میں ہی تھی تو گھر میں اپنے والدین کی طرف سے بہت زیادہ سراہا جاتا تھا اور بے حد حوصلہ افزائی ملتی تھی.
وہ زمانہ جو اب مجھے یاد آتا ہے کہ یونیورسٹی میں میں جب انگلش ڈیپارٹمنٹ میں تھی تو ایک مقابلہ ہوا تھا انگلش اور اردو شاعری کے حوالے سے تو اس میں میں نے دونوں میں حصہ لیا تھا اور اس روز میں نے دونوں ہی میں انعامات حاصل کیے تھے.
اردو نظم میں بھی میں نے پہلا پرائز لیا تھا اور انگلش, پوئٹری میں بھی میں نے پہلا پرائز لیا تھا. تو آج بھی سوچتی ہوں تو بہت اچھا لگتا ہے. اور بعد ازاں جب میں صحافت میں آئی تو بہت اللہ تعالٰی نے ہی بھرم رکھا سراہا بھی گیا پذیرائی بھی ہوئی لیکن وہ پذیرائی وہ حوصلہ افزائی جو میرے والدین مجھے بہت بچپن میں میری ٹوٹی پھوٹی تحریروں کو پڑھ کر دیا کرتے تھے.وہ میرے خیال میں آج بھی میرے لیے زادِ راہ ہے.
سوال 4_ صحافت جیسے پیشے کی طرف دلچسپی کیسے پیدا ہوئی ؟
جواب _دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے بچپن میں اخبار پڑھنے کا رواج عام تھا یہاں تک کہ میری والدہ جو بظاہر بالکل گھریلو خاتون تھیں لیکن اس کے باوجود وہ اخبار کا مطالعہ بڑی باقاعدگی سے کرتی تھیں. ایڈیٹوریل پیج بڑے شوق سے پڑھا کرتی تھی اور کہتی بھی تھیں کہ اس کو لازمی پڑھا کرو. تو یہ چیز مجھے آج یاد آتی ہے کہ میں نے تو کبھی نہیں سوچ تھا کہ میں صحافت میں آؤں گی. لیکن یہ واقعی ایک تربیت ہے جس طرح سے ہر گھر میں جو ماحول ہوتا ہے اس میں آپ غیر محسوس طریقے سے بہت کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں. کتنی ہی باتیں آپ کے علم میں روز آتی ہیں ۔ مطلب میں سمجھتی ہوں کہ تعلیم جو ہے وہ صرف ڈگریوں کی صورت میں ہی نہیں آپ حاصل کرتے بلکہ اپنے پورے ماحول سے جذب کر رہے ہوتے ہیں.
وہ ماحول جو آپ کو والدین نے گھر میں بنا کر دیا ہوتا ہے وہی ماحول لے کے آپ باہر جب گھر سے نکلتے ہیں یعنی پیشہ ورانہ مصروفیات جاری رکھنے کے لئے . تو پھر آپ وہی چیزیں اپنے لئے پسند کرتے رہتے ہیں جن سے خود مانوس ہوں . تو اس طرح سے ہی تربیت ہوتی ہے ۔
سوال,5
تو آپکی تربیت بھی اسی جانب ہوئی۔ پھر آپ نے اپنی طالبعلمی میں انہیں مضامین کو مطالعہ کیا ہوگا؟
جواب _
تعلیمی پس منظر تو یہ ہے کہ میں نے ماسٹرز انگلش لٹریچر میں کیا ہے ۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے میں نے پڑھا اور لٹریچر میں ماسٹرز کیا تھا. پھر میں نے بہت عرصے بعد دو ہزار پندرہ میں اوپن یونیورسٹی میں دوبارہ ایڈمیشن لیا اور Linguistics میں میں نے ماسٹرز کے لیے ایڈمیشن لیا. اب تقریباً وہ ختم ہو چکا لیکن اس کا تھیسز اب بھی موجود ہے تھیسز کے لیے ابھی ٹائم نہیں مل رہا. لیکن زبان کو اس طرح سے پڑھنااور انگلش, لسانیات کو نئے رجحانات کے حوالے سے پڑھنا یہ بھی بہت بہت دلچسپ تجربہ تھا اور ابھی تک ایک طرح سے یوں تعلیمی سلسلہ چل رہا ہے کیونکہ اس میں تھیسز پہ ابھی میں کام کر رہی ہوں ۔۔
صحافت کی طرف آنا ایک اتفاقی حادثہ بھی نہیں میں کہوں گی میرے خیال میں کہ تقدیر میں تھا اور اس لیے میں صحافت کی طرف آگئی. کبھی سوچا نہیں تھا کبھی پلاننگ نہیں تھی۔۔ ہاں یہ ضرور سوچا تھا کہ مجھے لکھنا ہے یہ مجھے پتہ تھا. کہ مجھ میں لکھنے کی صلاحیت ہے اور میں ایک رائٹر ہوں اور ایک میں شاعرہ ہوں یہ مجھے معلوم تھا۔۔

سوال 6_ پھر اخبار میں کس طرح لکھنا شروع ہوئیں کیا اتفاقیہ کوئی تحریر آپ کے اس دنیاء خبر میں آمد کا سبب بنی؟
جواب _سن دو ہزار دو میں جنگ اخبار میں ایک اشتہار آیا جس میں تھا کہ جنگ اخبار کو سب ایڈیٹرز چاہیے اور اس میں جو کوالیفیکیشن تھی اس میں انگلش لٹریچر میں ماسٹرز بھی تھا. چونکہ جنگ اخبار سے اتنی وابستگی تھی بہت بچپن سے ہی اور بہت بڑا میڈیا گروپ بھی تھا تو بس اسی شوق میں درخواست بھیج دی۔۔کوائف بھیجے ۔۔
وہاں ایک تحریری ٹیسٹ ہوا تھا بہرحال میں نے اپلائی کر دیا. تو ایک لمبا پروسس ہوا ۔جس سے گزری. تو ریٹن ٹیسٹ ہوا اس کے بعد انٹرویوز ہوئے سیریز آف انٹرویوز تھے. شارٹ لسٹنگ میں نام آگیا پھر اس طرح سے میری باقاعدہ سلیکشن ہوگئی ۔ حیرت کی بات یہ کہ میں واحد لڑکی تھی مطلب جنگ اخبار میں جو سلیکشن ہوئی تھی سب ایڈیٹرز کی ان میں میں منتخب کرلیں گئی وہ بھی بغیر کسی صحافتی تجربے کے یعنی کوئی میرا صحافتی بیک گراؤنڈ نہیں تھا صحافت بھی میں نے نہیں پڑھی تھی. اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ میں لاہور سے بھی نہیں تھی اور میں خان پور سے تھی لیکن میری سلیکشن ہوگئی۔ ایک ماہ بعد تربیت کے بعد مجھے انہوں نے کچھ اسائنمنٹس دیں. مطلب میرا رجحان چیک کرنے کے لیے اور چونکہ میرا کوئی صحافتی تجربہ نہیں تھا. تو میں واپس اپنے شہر آگئی اور وہیں سے یہ تحریری اسائنمنٹس بھیجتی رہی. اسی کی بنیاد پر میری فائنل سلیکشن ہوئی۔ سن دو ہزار دو کے ستمبر میں میں نے جنگ اخبار کو جوائن کیا. بطور معاون مدیر سب ایڈیٹر میگزین. اور میگزین ایڈیٹر صہیب مرغوب تھے ۔ ایک ماہ کے بعد مجھے بچوں کے ایڈیشن کا انچارج بنا دیا گیا اور لیکن ساتھ ہی میں نے جنگ کے سنڈے میگزین میں فیچرز بھی لکھنا شروع کر دیے. اور ادبی صفحے پر بھی کام کرنے لگی. ادبی صفحے کے انچارج ان دنوں رؤف ظفر تھے لیکن چونکہ میرا ادبی رجحان تھا تو جب بھی موقع ملتا تو ادبی صفحے پہ بھی میں کام کرتی تھی.
اسی دوران اخبار جہاں کے لیے بھی کام کیا. اور دو ہزار سات میں ایم این اے جنگ میں کالم لکھنا شروع کیا اور یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ کیسے میں کالم کی طرف آئی اور بس اس طرح سے میں نے اخبارات کے لئے لکھنا شروع کیا .
7سوال
اپنی فطرت سے نزدیک لکھنا بہتر ہے یا پڑھنے والوں کے رجحان کے مطابق جو وہ پڑھنا چاہیں اسے لکھنا اچھا ہے؟
جواب _ ویسے میں وہی لکھتی ہوں جو میں سمجھتی ہوں کہ سچ ہے.
میرے نزدیک جس زاویے سے میں دیکھ رہی ہوتی ہوں گر وہی صحیح ہے. تو میں اس کو ہی لکھتی ہوں.
ہاں کئی دفعہ ایسا ہوا کہ بہت سارے ایشوز تھے. جس پر جب میں نے لکھا تو وہ عام زاویہ نگاہ سے مختلف تھے جو اخباروں میں چھپ رہا تھا یا جس پہ ٹاک شوز ہو رہے تھئ اور جس پہ سوشل میڈیا میں ہنگامہ برپا کیا ہوا تھا. لیکن میں نے اس سے بالکل ایک الگ پوائنٹ آف ویو لیا. یقینا ً ایسا کرتے ہوئے ایک پریشر ہوتا ہے جس کو کہتے ہیں نا کہ ایک ان دیکھا ان سین پریشر ہوتا ہے لکھنے والے پر کیونکہ آپ بالکل ہوا کے مخالف چل رہے ہوتے ہیں. میں سمجھتی ہوں کہ ایک لکھاری کی اپنی انڈر سٹینڈنگ ہے اس کا امتحان ہوتا ہے. کہ وہ اپنا ذاتی تجزیہ جو ہے وہ کس حد تک اس کو خالص رکھتا ہے۔ یا پھر جو دنیا کہہ رہی ہے جو عوامی رائے کا دباؤ ہے یا اس میں بہہ جاتا ہے. تو میرے خیال میں جتنا وہ خالص ہوگا اتنا ہی اس رائٹر کی شناخت بہتر ہوگی اتنا ہی اس رائٹر یا تجزیہ نگار کی رائے کی بھی اہمیت ہوگی۔
8سوال_
اخبارات میں کئی خواتین فری لانسر کے طور پر بھی کام کرتی نظر آرہی ہیں ان کے کالمز تواتر سے شائع ہوتے ہیں ۔کیا ایسے لکھنے والوں کو صحافی یا کالم نگار کا ٹائٹل دیا جاسکتا ہے؟
جواب _ لکھنا بنیادی طور پر اپنی ذات کو دریافت کرنے جیسا عمل ہے لیکن جب ہم صحافتی تحریر کی بات کرتے ہیں تو اس میں کالم نگار جو ہے وہ اپنے سماج میں بسنے والے لوگوں کے مسائل سے جڑا ہوتا ہے ہےاس لیے کالم لکھتے وقت حقائق کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
تجزیہ کرتے ہوئے بطور “کالم نگار” میں کوشش کرتی ہوں کے حقائق اور تاریخی حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے زاویہ نگاہ کے مطابق تجزیہ کروں۔ میں نے ماسٹرز کی تعلیم مکمل کرتے ہی صحافتی کیریئر میں بطور سب ایڈیٹر پاکستان کے نامور روزنامہ سے آغاز کیا اور تب سے اب تک مستقل کالمز و سماجی مسائل پر تجزیے لکھتی ہوں ۔۔یعنی مستقل مزاجی سے ایک ہی پیشے میں ذمہ داری نبھا رہی ہوں ۔۔ صحافت کے میدان میں مقابلہ اچھا لکھنے والوں کا ہی ہوتا ہے اسے مرد و عورت کے نظریئے سے نہیں دیکھا جاتا ۔
جز وقتی لکھنے والے خواہ مرد ہوں یا خاتون کیریر کالم نگار نہیں کہلا سکتے۔
_ سوال9
زندگی کے کس دور میں سب سے زیادہ لکھا ؟
جواب _ سن دو ہزار دو ، ستمبر سے میں صحافت میں ہوں اور تب سے اب تک میں لکھ ہی رہی ہوں بس ایک ڈیڑھ سال کا میں نے وقفہ لیا تھا اور اس کے بعد سے میں دوبارہ لکھ رہی ہوں لیکن میرے خیال میں جس قدر ان دنوں لکھ رہی ہوں یعنی جب سے میں نائنٹی ٹو روزنامہ میں آئی ہوں. تب سے میں ہر ہفتے تین کالم لکھتی ہوں ۔۔
اور یہ سلسلہ مسلسل ہے کہ موجودہ ایشوز کے ساتھ جڑے رہنا اور کسی نہ کسی چیز کو پڑھتے رہنا ریسرچ کرتے رہنا. مطلب ہفتے میں تین کالم عام حالات میں دیکھا جائے تو یہ خاصہ دقت طلب نظر آتا ہے۔
میں ہفتے میں دو کالمز پر متفق تھی ۔ لیکن میرے ادارے نے مجھے کہا کہ نہیں آپ تین لکھیں. ان کا اصرار تھا کہ چار تو پھر لیکن اس پہ تو خیر میں نے معذرت کر لی اور تین پر رضامندی کا اظہار کیا۔
10سوال
کیا ایک لکھنے والے کو لوگوں کے رد عمل پر لکھنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے ؟
جواب – لکھنے والا کیونکہ اپنی رائے دے رہا ہوتا یعنی رائے غلط یا صحیح تو ہو سکتی ہے لیکن خالص یا نا خالص کی ہم بات کر رہے ہیں. میری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے لیکن میری رائے نا خالص نہیں ہونی چاہیے اس کو بہر صورت خالص ہونا چاہیے.
میں تو یہ کہوں گی کہ روما آپ نے یہ بہت ہی زبردست سوال کیا ہے اور میرے ذہن میں اس پہ اور باتیں آ رہی ہیں کیونکہ اس وقت جب ہم لکھتے ہیں نا جب بھی کوئی ایشو سامنے آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگ اپنی اپنی رائے دے رہے ہوتے ہیں. اور ایک ہی موضوع پر اتنا کچھ لوگ پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ کم و بیش اس کے سارے زاویے سوشل میڈیا پہ آجاتے ہیں. جبکہ کالم نگار نے ظاہر ہے اخبار میں ہی لکھنا ہے کہ وہ ایک دن لکھے گا تو دو دن کے بعد یا ایک دن کے بعد وہ چھپے گا. تو اس کا اور ہر شخص جو سوشل میڈیا پہ سرگرم ہے. یہ عوامی رائے کا جو دباؤ ہے اس سے وہ متاثر ہوتا ہے. تو یہ بہت ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اس رائے سے بچا کر رکھیں. اس ہنگامے کو اپنی سوچ کے اوپر اثر انداز نہ ہونے دیں. اور اس کی میں بہت کوشش کرتی ہوں اور میں باقاعدہ اس کا اہتمام کرتی ہوں. کہ جو سوشل میڈیا پر موجود عوام کی رائے ہے وہ میرے اوپر میری اپنی سوچ پر اثر انداز نہ ہو.۔
11سوال_
آپکی دانست میں لکھنے والے کا معیار کس طرح طے کیا جاتا ہے ؟
جواب _ معیار طے کرنے والے تو وہی لوگ ہیں جو روزانہ بیشمار لوگوں کو پڑھتے ہیں ۔ان میں سے ہی ان کے لئے وہ بہتر یا معیاری ہوتا ہے جو انکی اپنی سوچ سے مطابقت رکھتا ہو۔
سوال12_
خود مطالعہ کے لئے کن کتابوں کو زیادہ منتخب کرتی ہیں؟
جواب_ بچپن سے معیاری ادبِ زیر مطالعہ رہا ۔ اور اب بھی بیشمار موضوعات پر روزانہ کچھ نہ کچھ پڑھنا ہوتا ہے ۔۔
سوال13 _
آپ اپنے شعبے میں کن افراد سے متاثر ہوئیں جن کو اپنا استاد یا مینٹور سمجھتی ہیں ؟ اور کن اخبارات سے آپ وابستہ رہیں؟
جواب_
جیسا کہ میں نے بتایا کہ اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ملک کے سب سے بڑے اردو اخبار روزنامہ جنگ سے کیا. اور میں نے کئی حیثیتوں میں وہاں پہ کام کیا جب میں نے چھوڑا تو میں وہاں پہ کالم لکھ رہی تھی. اور دو ہزار گیارہ میں میں مستعفی ہوئی ۔…
دو ہزار بارہ میں دنیا میڈیا گروپ نے اپنے اخبار کا آغاز کیا تھا۔ اور مجھے ممتاز صحافی و دانشور اور ممتاز کالم نگار ہارون الرشید صاحب نے وہاں کالمز لکھنے کے لیے کہا ان کا جب مجھے فون آیا اور دنیا اخبار میں لکھنے کی انہوں نے خود پیشکش کی۔ اور کہا کہ ابھی آپ اخبار کے دفتر آجائیں ۔
تو وہاں میں نے بطور کالم نگار جوائن کرلیا اور یوں پانچ سال کے عرصے تک دنیا اخبار میں لکھتی رہی . دنیا اخبار میں بھی بہت اچھا ماحول تھا. ۔
پھر سن دو ہزار سترہ میں روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کا آغاز ہوا. وہاں گروپ ایڈیٹر ارشاد عارف تھے انہوں نے مجھے وہاں کالم لکھنے کے لیے تجویز کیا تو یوں روزنامہ دنیا کے بعد نائنٹی ٹو کو جوائن کیا بطور کالم نگار
اور تب سے اب تک میں نائنٹی ٹو اخبار میں ہی لکھ رہی ہوں. اور خدا کا شکر ہے کہ بہت ہی زبردست اور قابل ٹیم کے ساتھ یہ سفر جاری ہے۔
جناب ہارون الرشید بھی نائنٹی ٹو میں لکھ رہے ہیں. جناب اوریا مقبول بھی اس اخبار کے لئے لکھ رہے ہیں ملک کے ممتاز کالم نگار نائنٹی ٹو سے وابستہ ہیں. اس اخبار میں کام کرنا بھی میں سمجھتی ہوں کہ خوش قسمت ثابت ہوا بطور کالم نگار میری شناخت زیادہ مستحکم ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ
2018 میں انٹرنیشنل وزیٹر لیڈر شپ پروگرام جسے ,IVLP کہا جاتا ہے بطور صحافی وہاں بھی شرکت کی۔ امریکہ کی تین ریاستوں اور دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی کا تین ہفتوں پر مشتمل دروہ کیا اور وومن جرنلسٹس کی کیپسٹی بلڈنگ کورس میں نے حصہ لیا جو کہ صحافیوں۔ کے لیے ایک اعزاز گردانا جاتا ہے۔۔
صحافت کے میدان میں بھی محنت اور لگن ساتھیوں سے ممتاز کردیتی ہے۔
سوال14 _
صحافت میں بھی دوسرے شعبوں کی طرح سخت مقابلے کا سامنا ہوتا ہوگا مگر کچھ سنیئرز ہر شعبے میں ملتے ہیں جو آپکی کامیابی پر باقاعدہ خوش ہوتے اور رہنمائی بھی کرتے ہیں آپ ایسے کن ساتھیوں کو یہ کریڈٹ دیتی ہیں ؟
جواب _
صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں خواتین صحافی نہ ہونے کے برابر ہیں. میں پرنٹ میڈیا کی بات کر رہی ہوں جہاں آج بھی خواتین صحافی بہت کم ہیں جس کو کہتے ہیں کہ آٹے میں نمک کے برابر یہ بات صحیح ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں بہت کام کر رہی ہیں لیکن وہ صحافت کے معیار پر پورا اترتی ہیں یا نہیں یہ بھی ایک قابل بحث بات ہے میں اس بحث میں نہیں پڑ رہی. میں پرنٹ میڈیا کی بات کر رہی ہوں جب میں نے جوائن کیا تھا تو میگزین کے لئے صرف ایک خاتون تھی ۔ رپورٹنگ کے لئے فاخرہ تحریم وہی میگزین میں بھی کام کرتی تھی. فرح وڑائچ تھیں جو نیوز ایڈیٹر تھیں. اور ایک یا دو لڑکیاں شاید نیوز روم میں تھیں. مطلب اتنا زیادہ فرق تھا مرد و عورت کے تناسب میں ۔
اور مقابلہ تو واقعی بہت ہی سخت ملتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے ایسے بڑے لوگوں کی طرف سے سراہا گیا ہے جو کہ آج بھی میرے لیے سرمایہء حیات ہے. مجھے آج بھی یاد ہے کہ میرا دوسرا کالم جب چھپا تھا جس کا نام تھا اگلے “جنم موہے بھٹیاں نہ کیجیے”. تو اس کی تعریف ارشاد احمد حقانی صاحب نے خود میرے کمرے میں آ کر کی تھی ۔ وہ دن ایسا تھا کہ آج بھی مجھے یاد ہے اس کی خوشی مجھے آج بھی بھولتی نہیں ہے. اور وہ ہمیشہ مجھے سراہتے تھے. منوں بھائی مجھے سراہتے تھے اور مطلب اس صحافتی سفر میں بہت سارے ایسے بڑے نام ہیں جو میں سمجھتی ہوں کہ واقعی جن کے اندر اتنا ظرف ہے کہ وہ نئے آنے والوں کی کھلے دل سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں. اور ان کے لیے راستہ بناتے ہیں. ان میں میں ہارون الرشید صاحب کا نام ضرور لوں گی مجھے جن کی سپورٹ رہی ہے بلکہ کہنا چاہیے ایک حوصلہ افزائی ہمیشہ ملتی رہی ہے. اور اس طرح سے ارشاد احمد حقانی ہیں منوں بھائی ہیں مظفر محمد علی صاحب ہیں. اور اللہ تعالی ان کو غریق رحمت کرے. تو یہ تمام وہ لوگ ہیں جو نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے پہ یقین رکھتے ہیں۔۔
روزنامہ جنگ کے اندر کا سسٹم ایک بیوروکریٹک سسٹم تھا. اس طرح سے کہ ادارتی صفحے پر مخصوص کالم نگار ہی چھپا کرتے تھے اور اخبار کے اندر کام کرتے ہوئے کسی بھی کارکن صحافی کو یہ جرات ہی نہیں تھی کہ وہ یہ کہہ سکے کہ وہ ادارتی صفحے پہ چھپنا چاہتا ہے یا وہ اپنی تحریر ادارتی صفحے پر بھیجنا چاہتا ہے. ایسا ممکن ہی نہیں ہوتا.۔
جنگ میگزین میں کافی عرصہ کام کیا تو میں ایک سیچوریشن کا شکار ہوگئی تھی. اور میری فطرت ہے کہ کچھ عرصے کے بعد میرا دل چاہتا ہے کہ میں نئی چیزوں کو ایکسپلور کروں. بس ایسے ہی کچھ سوچ کے میں نے گروپ ایڈیٹرز میں شام صاحب محمود شام کراچی جو میں تھے ان کو ایک فیکس لیٹر لکھ دیا کہ میں کالم لکھنا چاہتی ہوں اور مجھے موقع دیا جائے. تو اس کے بعد انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ لکھنا چاہتی ہیں تو آپ نمونے کے کچھ کالم ہمیں بھیجیں پھر میں کچھ عرصہ اسی طرح مختلف موضوعات پہ جو کرنٹ ایشوز تھے اس پر لکھ کر ان کو بھیجتی رہی. اور یہ ایویلویشن وہاں ہوتی رہی. جنگ کا جو مین ایڈیٹوریل بورڈ تھا وہ کراچی میں تھا . وہاں اس کی ایویلویشن ہوئی اور پھر ایک روز مجھے یہ خوشخبری سنائی گئی کہ مجھے ادارتی صفحے کے لیے لکھنے کی اجازت مل گئی۔۔
اور یقین کریں جس روز میرا پہلا کالم چھپا تو میری خوشی کی تو ظاہر ہے انتہا نہیں تھی لیکن میرے بہت سارے سینئر ایسے تھے جنہیں یہ بہت ہی ناگوار گزرا اور اس روز مجھے پتہ چلا کہ پرانے لوگ نئے آدمی سے ڈرتے ہیں اور کیوں ڈرتے ہیں ۔ میرے بڑے اچھے دوست ایسے تھے جنہوں نے مجھ سے باقاعدہ بات کرنا چھوڑ دیا تھا. یعنی انہیں بالکل اچھا نہیں لگا کہ ایک سب ایڈیٹر جس کا صحافتی تجربہ چار پانچ سال سے زیادہ نہیں ہے وہ ادارتی صفحے پر اپنا کالم چھپوا سکتی ہے ۔
خواتین صحافی اپنی محنت سے خود منوا سکتی ہیں مثال میں آپ کو اس طرح سے دوں گی کہ جب میں نے کالم لکھنا شروع کیا تو یہ بالکل جنگ اخبار کی روایت سے ہٹ کر بات تھی. کیونکہ کسی نے پہلے تو خیر اتنی جرات کبھی کی ہی نہیں تھی کہ ہم لکھنا چاہتے ہیں. یہ تو ایک نو گو ایریا تھا. مطلب وہ تو خواص ہیں جو کالم لکھتے ہیں اور جو عام صحافی ہے وہ تو عام عوام ہیں تو عوام کیسے اشرافیہ کی طرف جا سکتے تھے؟ تو خیر جب میں نے لکھا اور پھر میں نے اپنے نمونے کے کالم بھیجے جس کی ایویلویشن ہوئی. اقر پھر جب مجھے اس کی اجازت ملی تو اخبار کے ہیڈ آفس کی جانب سے ایک سرکلر آیا کہ جو بھی لکھنا چاہتا ہے وہ لکھ کر بھیجے تحریر معیاری ہوئی تو وہ ضرور اس کی تصویر اور لوگو کے ساتھ بطور کالم چھپے گی. تو میرے اخبار میں بہت سارے جو ہمارے سینئر مرد کولیگ ہیں انہوں نے لکھنا شروع کیا تھا. یعنی میرے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھا جو کچھ ہی عرصے بعد اس میں ہانپنے لگ گئے کیونکہ کالم لکھنا ایک میراتھن ہے ایک لمبی دوڑ ہے. اس میں جو ہے نا ایک ایسی محنت درکار ہے جس میں آپ کو ہر روز محنت کرنی پڑتی ہے. آپ ہر وقت پڑھتے ہیں ہر وقت سیکھتے ہیں کچھ تو الحمدللہ اللہ کے کرم سے میں یں آج بھی لکھ رہی ہوں اور جن لوگوں نے میرے ساتھ جنگ اخبار میں لکھنا شروع کیا تھا کچھ ہی عرصے میں کوئی ایک مہینہ کوئی دو مہینے کے بعد ان کے کالم چھپنا بند ہو گئے.
16سوال
بظاہر صحافت ایک رنگا رنگ شعبہ دکھائی دیتا ہے ۔روزانہ نئی خبروں سے واسطہ پڑتا ہے نئے نئے دوست بنتے ہیں۔ صحافی کئی جگہ اثر و رسوخ استعمال کرسکتے ہیں ایک طرح سمجھیں کے عوام خبر لگنے سے خوفزدہ رہتی ہے ۔
ایک خاتون صحافی کی حیثیت سے کیا ان تمام معاملات کو آپ بھی آسان کہیں گی اور خواتین جو اس شعبے میں آنا چاہتی ہیں ان کے لئے کیا مشورہ دیں گی؟
جواب _صحافت میں نئے آنے والوں کے لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ ہمیشہ سیکھنے پر یقین رکھیں آپ صحافت کی کسی بھی فیلڈ میں کام کر رہے ہو کچھ عرصے کےبعد کام کرتے کرتے ہم اپنے کام میں آسانی محسوس کرنے لگتے ہیں یہیں سے ہمارا کمفرٹ زون شروع ہو جاتا ہے اور سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔
ہمیشہ خود کو اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکالتے رہیں
کیونکہ سیکھنے کا عمل کمفرٹ زون سے باہر ہی شروع ہوتا ہے ہے اس لیے ہمیشہ خود کو چیلنج کرتے رہیں
اگر آپ کی پروفشنل دائرے میں کوئی چیلنج نہیں ہے تو اپنے لیے چیلنج خود کری ایٹ کریں
میں نے ہمیشہ ایسا ہی کیا اور اسی سے پرسنل اور پروفیشنل گروتھ ممکن ہوئی۔
میں خود کو کیریئر کالم نگار کہتی ہوں اردو کے بڑے قومی اخبارات میں ایسی مثالیں موجود نہیں ہیں ہے کہ کسی خاتون صحافی نے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے اخبار میں کام کا آغاز کرکے ایک مکمل کالم نگار حثیت سے کام کیا ہو اور ادارتی صفحہ پر لکھنےوالے کالم نگاروں کے پینل کا حصہ بنی ہو
جنگ اخبار چھوڑنے کے بعد بھی میں نے دنیا اورنائٹی ٹو جیسے بڑے قومی اخبارات میں کالم لکھا مجھے اللہ کے فضل و کرم سے سے اخبار جوائن کرنے کی آفرز میڈیا گروپ کی طرف سے آئی میں نے کبھی اس کے لیے خود اپروچ نہیں کیا ۔
17سوال –
اگر خواتین صحافت میں آنا چاہیں تو وہ کن باتوں میں مہارت حاصل کریں ؟
جواب _ یہ درست ہے کہ پرنٹ میڈیا میں خوفناک حد تک مردوں کی اجارہ داری ہے جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں میں خواتین بہت آگئی ہیں لیکن اس میں مسئلہ یہ ہوا کہ صحافت کم ہے اور آواز کی بلند آہنگی زیادہ ہے صحافت کم ہے اور کاسمیٹکس زیادہ ہے
استسنا بہرحال موجود ہے۔۔۔آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ
جب بیشتر مردوں کے درمیان کوئی خاتون صحافی کام کرتی ہے اور وہ لکھتی بھی اچھا ہو تو اس کے اوپر سب سے پہلا سوال یہی پوچھا جاتا ہے کہ ان کو کون لکھ کر دیتا ہے؟
جب میرا پہلا فیچر جنگ اخبار میں چھپا تو میرے سینئر جرنلسٹ جو وہاں پہ رپورٹر تھے جنگ میں نام میں نہیں لوں گی. انہوں نے مجھے کہا کہ یہ آپ نے خود لکھا ہے. تو میں نے کہا نہیں جی آپ نے مجھے لکھ کر دیا تو وہ ہنسنے لگے انہیں سمجھ آگئی کہ میں ان کی بات کو سمجھ چکی ہوں. تو یہ حالات ہوتے ہیں کہ آپ کو کوئی اس قابل نہیں سمجھتا۔
لیکن بات یہ ہے کہ جب آپ کو اللہ نے قابلیت دی ہے اور آپ محنت کرتے ہیں۔ تو پھر لوگ آپ کو مان جاتے ہیں. پھر میرے خیال میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں رہتی کوئی فرق نہیں رہتا کہ مردوں میں کام کر رہے ہیں۔۔
تو صرف مردوں کو ہی سہولتیں ملتی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ آپ صرف اور صرف اپنی قابلیت پہ آگے بڑھتے ہیں.
جیو نیوز پر کام کرنے والی ایک مشہور اینکر ثنا مرزا نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں ہمیں لُکس پر پرکھا جاتا ہے ہمارے بڑوں نے کبھی ہمیں سیکھنے کی طرف راغب نہیں کیا۔۔ صحافت میں پرنٹ میڈیا میں کمپیٹیشن بہت شدید ہے
آپ کو اپنی قابلیت اور اپنی صلاحیتوں کو اپنے عورت ہونے کے دائرے سے نکال کر ثابت کرنا سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے
سمجھا یہ جاتا ہے کہ عورتیں اپنے عورت ہونے کو کیش کرواتی ہیں
یہی وجہ ہے کہ لوگ آپ کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں تاوقتیکہ کہ آپ مسلسل محنت سے اور اپنے کام اپنے اندر کے جوہر کو ثابت کردیں۔۔۔
اور جن خواتین صحافی کی عمومًا شکایت ہوتی ہے کہ یہ چونکہ مردوں کی فیلڈ ہے تو عورتوں کو اس فیلڈ میں آگے آنے کے مواقع نہیں ملتے تو میں اس چیز سے اتفاق نہیں رکھتی کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ اگر آپ محنت کرتے ہیں تو آپ اپنے لیے راستہ بنا سکتے ہیں. اس لیے اپنے عورت ہونے کو استعمال نہ کریں کہ آپ کو عورت ہونے کی وجہ سے پریویلج ملے گا. بدقسمتی سے یہاں یہ ہوتا ہے کہ جو ہماری خواتین صحافی ہیں وہ عورت ہونے کا پریویلج لینا چاہتی ہیں. یہ نیم اگر آپ نے مقابلہ کرنا ہے تو پھر وہ مکمل طور پر امپارشل Impartial ہونا چاہیے. مرد اور عورت کے دائرے سے نکل کر آپ اس میں مقابلہ کریں آپ محنت کریں اپنی قابلیت کو بڑھائیں. لرن/ learn کریں تو پھر آپ انشاءاللہ میرے خیال میں کبھی بھی کوئی رکاوٹ نہیں ملے گی۔
سوال 18_ اپنے پڑھنے والوں کو کیا پیغام دیں گی ۔
جواب _ قارئین کے لیے لیے میرا پیغام یہی ہے کہ زندگی میں دینے پر یقین رکھیں جب آپ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے کسی ضرورت مند کو دیتے تو آپ کی بے شمار روحانی و جسمانی بیماریوں کا علاج آج خود بخود ہوتا رہتا ہے۔۔
ہم بے حد ممنوں ہیں محترمہ سعدیہ قریشی صاحبہ کے آپ نے اپنے قیمتی وقت میں عالمی اخبار لئے لمحات مختص کئے انتہائی صائب مشورے دئیے اور اپنی پیاری یادیں تازہ کیں ۔
امید ہے کے آپ آسمانِ صحافت پر درخشاں ستارے کی مانند ہمیشہ جگمگاتی نظر آئیں گی ۔۔
روما رضوی














مجھے فاخرہ تحریم کا تعارف چاہۓ میں ان پر مقالہ لکھ رہی ہوںپلیز میری پوسٹ پر غور کیا جاۓ اور جلد ہی جواب دیا جاۓ
میں انتظار میں ہوں
ہمارے ہاں اس قسم کا کوئی تعارف نہیں ہے
إنشاءاللّٰه جلد ہی جواب دیا جاۓ