پیر نصیر الدین نصیر نعت سلام منقبت کے شاعر

0
4574

پیر نصیر الدین نصیر 14 نومبر 1949ئ(۲۲ محرم الحرام ۱۳۶۹ھ) کو گولڑہ شریف اسلام آباد میں پیدا ہوئے۔

پیر نصیر الدین نصیر ایک شاعر ،ادیب ،محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی باصفا تھے۔آپ اردو ، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوه عربی ، ہندی ، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے. اسی وجہ سے انہیں “شاعر ہفت زبان” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

تصانیف و تالیفات
آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)

پیمانِ شب (غزلیات اردو)

دیں ہمہ اوست (عربی ، فارسی ، اردو ، پنجابی نعوت )

امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)

نام و نسب(در باره سیادت پیران پیر )

فیضِ نسبت (عربی ، فارسی ، اردو ، پنجابی مناقب)

رنگِ نظام ( رباعیات اردو )

عرشِ ناز (کلام در زبانهائ فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )

دستِ نظر ( غزلیات اردو)

راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)

تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی

قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت

لفظ اللہ کی تحقیق

اسلام میں شاعری کی حیثیت

مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب

پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں ، اسباب اور تجاویز

فتوی نویسی کے آداب

موازنہ علم و کرامت

کیا ابلیس عالم تھا؟

وفات
پیر صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا آپ کا مزار گولڑه شریف میں مرجع خلائق ہے۔

ادب! سرورِؐ مُرسَلاں آ رہے ہیں
رسالت کے رُوحِ رواں آ رہے ہیں
بصد عظمت و عِزّ و شاں آ رہے ہیں
جلَو میں لیئے قُدسیاں آ رہے ہیں
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
یہی ذکر ہے آج ایک ایک گھر میں
ستاروں میں، غنچوں میں، گُل میں، گُہر میں
یہی دھُوم ہے ہر طرف بحر و بَر میں
مِٹانے کو ہر شر لباسِ بشر میں
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
بُجھے کفر و الحاد کے سب شرارے
لرزتا ہے ابلیس دہشت کے مارے
سحر دم یہ کرتی ہیں کِرنیں اشارے
خدا کے دُلارے، خدائی کے پیارے
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
بحُسنِ نبوّت بشانِ رسالت
سراپا تجلّی مجسَّم عنایت
سِحابِ کرم، سلسبیلِ شفاعت
بہ صد رفعت و رحمت و رُشد و رافت
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
مناظر تجلّی کے ہیں کچھ عجب سے
فضا جگمگا کر یہ کہتی ہے سب سے
منوّر زمیں ہو گئی ماہِؐ عرب سے
ملائک ہیں صف بستہ ہر سُو ادب سے
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
زہے خوش نصیبی، زہے کامگاری
چمکنے کو ہے آج قسمت ہماری
نظر منتظر، دل فدا، جان واری
وہ آئی، وہ آئی، وہ آئی سواری
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
یہ صبحِ مسرّت ہے خوشیاں مناؤ
درُود و سلام اپنے ہونٹوں پہ لاؤ
محمّدؐ کے جلووں پہ قربان جاؤ
ادب سے نصؔیرؒ اپنی آنکھیں جُھکاؤ
شہنشاہِؐ کون و مکاں آ رہے ہیں
 پیرسیّدنصیرالدّین نصیرؔ جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY