صحافی مطیع اللّٰہ جان کے خلاف توہینِ عدالت از خود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے مطیع اللّٰہ جان کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہم اس کیس کو ختم نہیں کر رہے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ مطیع اللّٰہ جان کا بیان اب تک ریکارڈ کیوں نہیں ہوا؟ آپ کے حکومتی ادارے کیا کر رہے ہیں؟
دورانِ سماعت سینئر قانون دان سردار لطیف کھوسہ بھی عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مطیع اللّٰہ جان کو دن دیہاڑے اٹھا لیا گیا، کیا یہ بنانا ریپبلک ہے؟ ویڈیو موجود ہے، اغواء کاروں کو شناخت کیا جانا چاہیے۔
پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کو ختم نہ کیا جائے؟ بلکہ اغواء کارواں کو سامنے لایا جائے۔
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ ہم اس کیس کو ختم نہیں کر رہے، کسی ایجنسی یا ادارے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ قانون ہاتھ میں لے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے اعلیٰ ترین سطح پر معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، حکومت نے حکم دیا ہے کہ جو بھی ذمے دار ہے اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔
اس موقع پر صحافی مطیع اللّٰہ جان نے عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی کہ مجھے امید ہے کہ عدالت فری ٹرائل کو یقینی بنائے گی، مجھے وکیل کرنے کی اجازت دی جائے، میں اغواء ہوگیا تھا، لہٰذا توہینِ عدالت نوٹس کے جواب کے لیے بھی مہلت دی جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فری ٹرائل یقینی بنانے یہاں بیٹھے ہیں، عدالت فری ٹرائل کو یقینی بنائے گی۔
مطیع اللّٰہ جان نے کہا کہ میرے اغواء کا توہینِ عدالت ازخود نوٹس کیس سے تعلق ہے، مجھے کس طرح دھمکیاں دی گئیں، کیا ہوتا رہا، اس کا تعلق توہینِ عدالت کے معاملے سے بنتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے مطیع اللّٰہ جان کو ہدایت کی کہ آپ نے جو کہنا ہے وہ تحریری صورت میں کہیں، اپنی گفتگو میں احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں، آپ کےساتھ جانبداری نہیں برتی جائے گی۔
عدالتِ عظمیٰ نےمطیع اللّٰہ جان کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے توہینِ عدالت اور مطیع اللّٰہ جان اغواء کے معاملے کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔












