مجھے کوئی تکلیف نہیں کہ آپ امام علی۴ کو رضی اللہ کہیں یا کرم اللہ یا کچھ بھی نہ کہیں، آپ امام علی۴ کو پہلا خلیفہ مانیں یا چوتھا یہ بھی کوئی بحث نہیں، آپ ابوبکر و عمر جیسے صحابہ کے ساتھ بھی علیہ السلام لگائیں یہ آپ کا عقیدہ ہے۔ کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ رسول خدا ص کی بیٹیاں کتنی تھیں جو آپ کو صحیح لگے مان لیں، آپ کس کو صحابی مانتے ہیں کس کو نہیں یہ بھی مسئلہ نہیں۔۔ کس کو افضل مانتے ہیں کس کو کمتر یہ بھی آپ کی تحقیق۔۔
مسئلہ تب آتا ہے جب ریاست یہ تمام چیزیں اپنے ہاتھ میں لے لے کہ ریاست بتائے گی کہ کون افضل ہے اور کون نہیں، کون رضی اللہ ہے یا کون علیہ السلام، کون مقدس ہے اور کون نہیں۔۔۔ کون صحابہ ہے کون نہیں۔۔ یہ ریاست کے معاملات نہیں عقیدے کے معاملات ہیں جس میں سب کو آزادی ہونی چاہیے۔۔۔۔
احترام اور تقدس وہی ہوتا ہے جو دل سے کیا جائے یہ زبردستی عزت کروانے سے عقیدے نہیں بدلا کرتے۔۔۔ آنے والی نسلوں کو کھل کر تاریخ پڑھنے کا موقع دیں بحث کرنے دیں، ایک دوسرے کی کتب سے دلیل دینے دیں ، سوالات اٹھانے دیں اگر سوالات کا گلا گھونٹیں گے تو نسلیں جاہل پیدا ہونگی۔۔
ہاں اگر قانون سازی ہی کرنی ہے تو لوگوں کی جان مال عزت آبرو کی کریں آزادی اظہار رائے کی کریں۔۔۔
اس گھٹن زدہ معاشرے کو مزید گھٹن میں مت دھکیلیں













