خوشیاں جب دستک دیتی ہیں تو اکثر اوقات انکے آداب انسان بھول جاتا ہے… اور خصوصاً جب بات محمد و آل محمد کی ہو تو یر صاحب عقیدت….
صاحب محبت…
صاحب مودت و عشق کو اس بات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہییے کہ کیا اس کا انداز عقیدت و محبت و مودت و عشق ان آداب اور ان اصولوں پر مببی ہے کہ جو اس ضمن میں انسان کو سیرت محمد و آل محمد سے ملتے ہیں یا کہ یہ مکمل ہی انسانی جزبات پر منحصر… انداَز زندگی اور انداز محبت ہو…
نبی مکرم تو خوشی کے اوقات میں…. روزہ رکھتے تھے… عبادت کرتے تھے… دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھتے تھے… دردمندی…..
اگر محبت ہے تو درست اور غلط کوپرکھنے کی صلاحیت پیدا کیجیے،
محض خود کے جزبات کے حساب سے نہیں بلکہ اللہ، رسول اور اہلیبت ع کی تعلیماتِ کیا تقاضا کرتی ہیں ان پر غور و فکر کیجیے….
کبھی شوراور ہنگامے کو ختم کر کے خاموشی ادب اور احترام کے نور سے وہ نورانیت خلق کیجیے کہ جس کے باعثِ آپ وہ سن سکیں جو اللہ، رسول اور اہلیبیت کے فرامین، اقوال، خطبات و فر مودات ہمیں سکھانا چاہ رہے ہیں….
کیا کبھی ہم نے سوچاکہ ہم خاموشی سے سنیں کہ وہ کیا کہ رہے ہیں… اگر انکی خوشیوں اور غموں پر ہم انکی بات سننے کی بجایے محض اپنے جزبات کی تسکین چاہینگے تو ہرگز بھی ویاں نہ پہنچ پاینگے کہ جہاں ہمیں رب کی یہ عظیم ہستیاں دیکھنا چاہتی ہیں…..
کیا بیہودہ گانوں اور لاوڈ میوزک… کی طرز پرپڑھے جانے والی نعت، منقبت یا کوئی بھی کلام رسول اور آل رسول کی خوشی کا باعثِ ہو گا…؟
ایک لمحہ رک کر سوچیے….
کیا ہم رسول اور آل رسول کی خوشی کا سبب بن رہے ہیں یا ان کے لیے باعث ازیت و تکلیف….
کیا ان خوشیوں کومنانے کی بصیرت اور فلاسفی یہی تھی کے ہم محض لمبے لمبے دسترخوان سجاییں ان پر محض شعرو شاعری کی جایے یا گانوں کی طرز پر منقبتیں اور کلام پڑھے جاییں اور ہم زعر زور سے جھوم جھوم کر واہ واہ کرتےدکھائ دیں…..
کیا واقعی ایسی محفل میں رسول اور آل رسول یا آیمہ اطہار تشریف لاتے ہونگے…
؟
آج جب ٹیوی آن کریں یا محفل میلاد کو دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی شور ہنگامے کی جگہ اگیے ہیں وہ محفل میلاد کا تقدسس، ادب، احترام قرینہ، مہک، سلیقہ، حسن سب اس بے ہنگمی کی نظر ہو چکا ہے نہ تو پڑھنے والے معروف اور سمجھدار لوگ اس بات کے ادب اور تقدس کا ہی خیال کر پا رہے ہیں اور نہ ہی سننے والے ہوشمند اور نہ ہی علما اکرام ایسے لوگوں کو سمجھا نے کی کوشش کر رہے ہیں…. یا اگر سمجھا بھی رہے ہین تو ان پڑھنے اور لکھنےطوالوں نے اپنی عقل پر جزبات رکھ کر اور اسکو محبت کا نام دیکھ رکھا ہے….
بنا ادب کیے آپ محبت و مودت کا پہلا قدم بھی نہیں اٹھا سکتے اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کر سکتے ہیں وہ یقیننا احمقوں کی جنت میں ہیں…..
ادب کہتا ہے ہے محبوب کو سنو…. دیکھو کہ وہ کیا سوچ رہا ہے، چاہ رہا ہے…. اس نے کب کیوں اور کیا کہا ہے….. کیا ہماری محافل میں حضرت محمد ص اور آل رسول ص کی ہی بات سنی جا رہی ہے…. مانی جا رہی ہے… ترویج کی جا رہی یے… لکھی اور سنائی جا رہی ہے…..؟
اگر محفل میلاد میں ان میعاروں کی سمجھ بوجھ سے اگاہی اور ان میعاروں کی تعلیم و ترویج نہیں ہو گی کہ جو رسول اور آل رسول نے بیان فرمایے ہیں تو ہھر ہماری محبت بس عقیدت کے میدان میں کھڑی خود ہی کے جزبات کو سہلا رہی ہے…..
محبت، ولایت و مودت کا تو تقاضا ہی یہ ہے کہ ہر قلمکار کے قلم سے رسول اور آل رسول کے فرامین ایسے بیان ہوں کہ گویا وہ انہیں کیساتھ بیٹھکر، انکو سنکر آیا ہے یعنی اتنے ادب، عقیدت محبت و مودت کیساتھ وہ سنے حضرت محمد ص اور آل محمد کو کہ اسکے وجود میں…. عمل میں… کسی ایک اٹھتے قدم میں بھی بے ادبی، بد خلقی، جزبات، انا، اوربے عقلی کی تحریر و تصویر نہ ہو بلکہ…. ہر عمل، کردار، گفتار، جزبات سب محمد و آل محمد کے تشکیل دیے اصولوں، قوانین، تربیت اور افکار کے حساب سے ہوں….. کہ مجھے اور آپکو دیکھکر سمجھنےوالا سمجھ جایے کہ یہ انسان معمولی عام اور بے قیمت نہیں…. کہ اسکے وجود کا خریدار رب، رسول اور اہلیبیت ع ہیں…. اور انکی قیمت سوایے قرب خدا، رسول اور اہلیبیت ع کے اور کچھ نہیں…..
جب یہ میعار میرے باطن کا ٹھرے گا تو میرے باطن کی طہارت، تقدس، اٹھان، بصیرت، عقل میں اضافہ ہونا یوینی ہے پھر میرے وجود پر عدل کا راج ہو گا…. میں ان میعاروں سے واقفییت بنانے کی عملی سعی کروںگا کہ جو قرآن کریم،احادیث رسول ص، نہج لبلاغہ، صحیفہ سجادیہ، اور دوسری تمام کتب میں درج ہیں…. پھر میرے کسی عمل کی قیمت واہ واہ یا ستائش و تعریف نہیں ہو گی بلکہ جو حق اور درست ہو گا فقط وہی ہو گی….
پھر ان ولادتوں اور میلاد کے ایام کا تقدس و نورانییت بے ہنگم شور نہیں بلکہ فکر اہلیبیت ع، زکر اہلیبیت کہ وہ زکر جو ہر سننے والے کی بصیرت میں اسقدر اضافہ کرے کہ اسکو عمل کے میدان میں کھرا کردے اس سویے تھکے بے مقصد وجود کو مقصد، عمل، بصیرت کی تحریک دے کہ اسکے وجود میں طہارت فکر، طہارت عمل، طہارت نفس کا وہ انقلاب برپا ہو کہ اسکی نگاہ بھی اٹھے تو محبوب کے ادب میں…. قدم بھی اٹھے تو محبوب کی لیروی میں…. سوچ بھی سر اٹھایے تو اسکیسوچ و فکر کے استاد اسکے محبوب کی فکر، سوچ اور فلسفہ ہو…..
پھر جب وہ اہنے وجود کو طاہر کر لے تو سوچے کہ کسطرح جب خوشیاں منانی ہیں تو آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے…. کسطرح بھوکے اور ضرورت مند کو تلاش کر کے اسے اس محفل کی زینت بنانا ہے… اسے خوراک لباس اور علم کی زینت سے آراستہ کرنا ہے….
جب میری فکر ہو گی تو میلاد بھی مناونگا اور ان احکامات کی ترویج بھی کرونگا…. اس سب علم ہر ریسرچ سنٹرز کے قیام کی کوششیں کرونگا…. عام انسان تک درست میعارات پہنچاونگا…. اخلاقیات، اخلاص و بندگی کیساتھ محبت میں اوج و بلندی کا وہ مقام حاصل کرنا ھدف ٹھراونگا کہ خود رسول اور آل رسول میری ان پاکیزہ طاہر محافل اور کوششوں میں میرے مددگار بن جایینگے…. مگر پہلے اہنے آپکی محبت کا سچا با بصیرت ثبوت دینا ہو گا اسوقت تک کا سفراپنی ہمت، کوشش اور اخلاص نییت سے کرنا ہوگا تاکہ میں مقام محبت و مودت کا عملی ثبوت دے پاوں….
جب اہلیبیت ع کی خوشیاں اور غم منانے والا خوشیاں مناتا ہے تو وہ انتہائی باادب ہوتا یے…. اسکی خوشیاں کسی بھی طرح کے تعصبات، نفرت، انانیت اور زاتی نمود و نمائش سے پاک ہوتی ہیں….
بلکہ سیرت رسول و آل رسول پ عمل کرتے ہوئے وہ بلا تفریق مزہب، رنگ، ونسل، وفرقہ ہر انسان کو اپنی دعوت میں شریک کرتا ہے…
کیونکہ یہ سیرت رسول کریم ص سے ثابت ہے کہ آپ ص کبھی کسی محفل میں اگر تشریف لاتے اور وہاں پر کسی کی تضحیک یا تمسخر آڑایا جاتا تو آپ کسی بھی طرح کے ردعمل سے اجتناب فرماتے اور یہ آپ ص کی مزمت کا انداز تھا.. کیونکہ آپ اخلاقی اقدار کی پامالی اور دوسروں کو ازیت دینے کے عمل کو سخت نا پسند فرماتے تھے……
سو کیسے ممکن ہے کہ میلاد رسول یا آل رسول ص ہو اور وہاں پر کسی بھی طرح کی دل آزاری یا تکلیف دینے والی گفتگو ہو…..
پاکیزہ و طاہر ہستیاں کہ جن سے رب کاینات نے ہر طرح کے رجس و نجاست کو دور رکھا ہے…. اگر انکی خوشی میں وہ روش ہو کے جو نجس راہوں سے تخلیق شدہ ہو تو یقیینا اس پل میں ہر پڑھنے، لکھنے، سننے، ماننے، دیکھنے والے کو رک کر سوچنا چاہییے کہ کیا رسول کریم ص اس روش سے راضی ہونگے، کیا اہلیبت رسول کو اس طرح کی محفل خوشی دے سکتی ہے….؟
کیا امام وقت ایسے عمل سے راضی ہونگے….
امام علی علیہ السلام اہک جگہ تشریف لے گیے اور وہاں کے لوگ نے انکا استقبال ترجل یعنی پاوں کو ایک خاص انداز سے اٹھانا رکھنا عام فہم میں دھمال کی صورت…. تو آپ نےسخت ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ تم نے اپنے اس عمل سے دوجہاں کی مشقت خرید لی اور اس سے کسی کو کوئی بھی فائدہ نہیں ہو گا….
وہ لوگ تب امام علی علیہ السلام کی حرمت و مقام سے ناواقف لوگ تھے اور آج بھی رسول اور آل رسول کو عقیدت سے زیادہ لوگ نہیں سمجھ سکے….
اور رسول اور آل رسول کو تو انصار چاہییں محض حب دار ہونا کسی کام کا نہیں….
کیونکہ حب دار صرف عقیدت کا اظہار کرتا ہے جو کہ آبائی اور رسمی اظہارکے سوا کچھ بھی نہیں…. جہاں عقیدت مند اپنی سمجھ بوجھ، جزبات، سمجھ، فکر اور احساسات کے تابع رہ کر اپنی محبت کا اظہار ناچ کر، نچا کر، واہ واہ کر کے، فلمی فحش گانوں کی ردھم پر بننے والی منقبتیں، نعتیں اور کوئی بھی زکت جب ہم پڑھتے، سناتے، سنتے، اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو یقیننا رسول اور آل رسول کے دیے گئے افکار، تعلیمات، سیرت و اسوہ کے بر عکس ہی کرتے ہیں…. اور یہ بات یا تو ایسے لوگوں کی جہالت ہے کہ جو سمجھ کر جانکر بھی نا سمجھی سے کام لیتے ہیں اور یا پھر غفلت اور یی بھی ممکن ہے کہ خود پسندی، شہرت طلبی اور عوام میں خود کو نمایاں اور محبوب کرنے کا ایک شعوری عمل ہو اور یہ سب کے سب ہی پست عمل ہیں…..
یعنی انسان نے عوام کی مرضی خریدنے کے لیے… خالق کو ناراض کیا اسکے رسول اور اہلیبت رسول کی تعلیمات کی عملی نفی کر کے…. کیونکہ پاک ہستیوں کا زکر ناپاک روشوں کیساتھ کرنا بھی توہین ہی کے زمرے میں آتا ہے…. اور ادب کے خلاف بات ہے…. تہزیب آیمہ کے خلاف بات ہے….
جو پاکیزہ ہستیاں چادروں کے چھن جانے پر گریہ کناں ہوئیں انکے ناموں کیساتھ جب کوئی نیم برہنہ خواتین کی تصاویر و جشن مولود کعبہ کی تحریر لکھے گا تو یقین کیجیے…. یہ توہین زکر اہلیبت رسول ع ہے…. یہاں پر ایسے لوگوں سے مکمل بیزاری اختیار کرنی چاہییے البتہ انکو بصیرت کیساتھ سمجھانے اور ادب کے تقاضوں اور ہستیوں کی شناسائی ضرور کروانی چاہییے بہت ممکن ہے کہ مثبت سکھانے کی کوشش سے شاید وہ کچھ سمجھ پائیں…..
آج عقیدت کے درجے سے ابھرنے کی ضرورت ہے… عقیدت کا درجہ اپنی جگہ…. پر آج ہر عقییدت مند سے سوال یے کہ کیا انکی عقیدت کا جو بھی انداز اور طریقہ ہے….
کیا رسول و آل رسول اس سے راضی ہوں گے…..؟
کیا امام وقت ایسی محفل میں تشریف فرما اگر ہوں تو کءا چند لمحے بھی اس قسم کی محافل میں رک پایینگے….؟
کیا انکی قربانیاں، ازیتیں، کرب، درد، تعلیمات بس یہی سب سکھا سکیں آج کے عقییدت مند کو….؟
کتنا درد، کرب اور ازیت ہم اپنے رسول اور اہلیبیت رسول ص کو اپنے عمل سے دے رہے ہیں…. کیا اس کا زرا سا بھی اندازہ ہے آج کے عقیدت مند کو آج کے محب کو آج کے عاشق کو….؟
قول امام ہے کہ مومن ہماری خوشی میں خوش ہوتا ہے اور ہمارے غم میں غمگین….
اور ہماری خوشی کا مطلب ہمارے جزبات کے تابع منائی گئ خوشیاں ہر گز نہیں… بلکہ جیسے کہ امام نے فرمایا ہے کہ ‘ہماری خوشی ‘
اب ہر اہل عقیدت کو سوچنا پڑیگا رک کر کہ امام یا رسول خدا کی خوشی دراصل کیا ہے….؟
کیا وہ خوشی وہ ہے کہ جس کا اظہار آج کے عقیدتمند اور محبان کر رہے ہیں….
‘امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ عید کے دن ہمارا غم تازہ ہو جاتا ہے….
تو کسی نے پعچھا کہ امام عید تو خوشی کا دن ہے آپ کیوں غمگین ہوتے ہیں تو فرمایا کہ جب ہم اپنی مسند پر کسی غیر کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے…… ‘
اب صاحب محبت و عقیدت کو سوچنا ہو گا کہ اسکی محبت کیا کر رہی ہے جبکہ امام کا درد کیا ہے….. کیا میرے انداز امام کی مشکلات کم کرنے کا سبب ہیں…؟
کیا میرے اعمال سے افکار آیمہ غیروں تک بہترین انداز سے پہنچ پا رہے ہیں….؟
کیا میری سیرت و کردار رسول اور آل رسول کے پیروکار ہونے کی تھوڑی سی بھی گواہی دیتے ہیں….؟
غلط کام اگر صدیوں سے بھی ہوتا چلا آ رہا ہو تب بھی وہ غلط ہی رہیگا اور اسکی اصلاح کی ہر ممکن مثبت اور عملی کوشش درکار ہے…
جب تک عقیدت سے نکل کر حقیقت کے بیان، اور حقیقت کے اظہار کو اپنی سیرت کا حصہ نہیں بنا لیتے ہماری عقیدت دونوں جہانوں کی مشقت کے سوا کچھ نہ ہو سکے گی….
آج عقیدت کو کچھ نرحلے طے کرنا ہی ہونگے…. کہ میرا لکھبا، میرا کہنا، میرا پڑھنا، میرے افکار و اطوار…..
صرف وہ بیان کریں جو رسول و آل رسول کی زبان سے جاری ہوا نہ کہ میرے جزبات، عقیدت اور تخیل سے…. جب ہمارے سب اعمال بصیرت و حکمت الہی اور بصیرت و حکمت رسول اور اہلیبیت رسول کے تحت نہیں ہو جاتے…..
اور ہم رسول اور آل رسول کے اھداف کو اسی نیج پہ سمجھکر مثبت کوششیں نہیں کرتے تب تک ہماری کوششیں محض عقیدت رہ جایینگی یعنی رسم، یعنی آبائی، علاقائی و رائج عمل نہ کہ وہ کہ جو رسول کریم اور اہلیبت ع کی سیرت و کردار سے لیے گئے ہوں….
آج عشق رسول و اہلیبت رسول متقاضی ہے کہ غیر متعصب علم عام کیاجائے….
انسانوں کی فکری تربییت مثبت انداز سے ہو…
قرآن، احادیث رسول اور نہج البلاغہ و صحیفہ سجادیہ جیسی بہترین صحیفوں پر تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں….
ادب کی ترویج کی جائے… کہ با ادب یونا کیا ہے اور ادب کے کوندے تقاضیے محافل میلاد میں… ضرور سامنے رکھے جائیں…
کسطرح تعلیمات رسول و آل رسول سے اخلاقیات، صداقت و امانت، خود شنادی، انسان شناسی، معاشرہ سازی، اھداف شناسی، معنوی نظریات جیسے اھداف کا تعین کر کے انکو عام رسئج کیا جائے…. کہ معاشرے کے لوگ معاشرتی خلا کو سمجھنے اور اسکی مناسبت سے مثبت و عملی اقدامات کیے جائیں…..
کردار، سیرت، عمل و اخلاص سے معاشرے کے مردہ وجود کو زندگی بخشی جائے تاکہ ہم بھی اپنے زندہ و بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ انصار رسول، انصار اہلیبیت رسول اکرم ص میں عملا شامل ہو سکیں…. کہ ہماری خوشیاں ہوں یا کہ غم رسول و آل رسول کی خوشی، مرضی اور تعلیمات کے عین مطابق ہوں….
جبھی ہم اپنے اخلاص کی عملی گواہی دے سکینگے ورنہ ہمارے وجود چند رسموں کی غلامی کے سوا کچھ بھی کرنے لائق نہ رہینگے…. اہل عقیدت کو اب اہل حقیقت بننا ہو گا کہ امام حسین ع نے بھی ہر قدم پر، ہر خطبے میں….
مظلومیت نہیں حقیقت بیان کی اور سب کو دعوت دی کے کوئی ہے جو میرا ساتھ دے…
تو وہ انصار حسین جنت کی ضمانت دیے جانے کے باوجود بھی… اسکے وعدے کے باوجود بھی…. پیچھے نہیں ہٹے بلکہ ساتھ دیا کہ وہ جانتے تھے کہ امام کے ساتھ کا مطلب جنت نہیں…. تقرب خدا یے…. آج ہمیں بھی اپنے آپکو ٹٹولنا ہے….
کہ ہم کیا کر کے کیا ہا رہے ہیں… آج بھی کربلا برپا یے…. اور آج بھی یزیدیت اور حسنیت کی راہیں بڑی واضح دیکھی جا سکتی ہیں…..
فیصلہ آپکو اور مجھے کرنا یے کہ ہمیں انصار میں شامل ہونا ہے…. یا کہ محض عقیدت مند کے، حب داد کے درجے تک محدود رہنا ہے……؟؟؟
فائزہ عباس













