ہمارے لوگ دوسرے یورپی ممالک سمیت برطانیہ آنے کے لیئے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں یہاں تک کہ گوشت لانے والے فریزرز میں بھی بند ہو کے آتے ہیں اور راستے میں مر بھی جاتے ہیں۔ پاکستانی لوگ اکثر بڑی تعداد میں اسے کافر ملک بھی کہتے ہیں۔میں یہاں کے ایک مولوی کو بھی کافر ملک کہتے سنا جو سیاسی پناہ پر یہاں ہے اور ہر ہفتے حکومت سے امدادی رقم بھی لیتا ہے
کاش ایسے کافر ممالک کے اصول،قانون کا احترام، قانون کی نظر میں سب یکساں، ہر انسان کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور دوسرے ادیان و مذاہب کا احترام وغیرہ ہمارے مسلم ممالک اپنا لیں۔
اس کافر ملک میں غور کیجئے ایک سروے کے مطابق مسلسل تیسرے برس محمد بچوں کا مقبول ترین نام ہے
لیجئے پوری خبر پڑھیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد نام کو برطانیہ میں لڑکوں کا سب سے مقبول ترین نام قرار دے دیا گیا اور یہ اعزاز اس نے مسلسل تیسرے سال حاصل کیا ہے۔
بے بی سینٹر نامی ویب سائٹ کی ناموں کے حوالے سے جاری کی گئی سالانہ رپورٹ مں یہ بات بتائی گئی۔
برطانیہ میں بچوں کے سو مقبول ترین ناموں کی فہرست میں عربی زبان کے ناموں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محمد نام 2017 سے مقبول ترین یا سرفہرست پوزیشن پر ہے جبکہ 2014 اور 2015 میں بھی یہ سرفہرست رہا تھا۔
اسی طرح احمد، علی اور ابراہیم بھی پہلی سو مقبول ترین ناموں میں شامل ہیں۔
لڑکیوں کی فہرست میں اولیویا نام بھی مسلسل تیسرے سال سرفہرست ہے، صوفیہ نام سب سے اوپر ہے مگر وہاں سب سے بڑی چھلانگ فاطمہ نام نے لگائی ہے جو 37 درجہ بہتری سے 57 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے جبکہ مریم نام 59 ویں نمبر پر ہے۔
برطانوی محکمے کے مطابق محمد نام مقبولیت کے اعتبار سے سرفہرست سو ناموں میں پہلی بار 1924 میں داخل ہوا تھا جس کے بعد سے اس کی مقبولیت میں ہر گزرتے برس اضافہ ہورہا ہے۔
گزشتہ دس برسوں میں یہ نام زیادہ تیزی سے اوپر آیا ہے، جس کی ایک ممکنہ وجہ برطانیہ اور ویلز میں مسلم آباد ی میں اضافہ ہے جو اس وقت مجموعی آبادی کے پانچ فیصد حصے کے برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نام تو ایک ہی ہے مگر یہ لوگوں پر ہے کہ اس کے ہجے یا اسپیلنگ کیسے کرتے ہیں، مگر سب کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے
صفدر ھمدانی













