اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ نے نیوزی لینڈ میں پاکستانی ٹیم کی شکست کی وجہ متحدہ عرب امارات کی بیٹنگ کیلئے سازگار وکٹوں کو قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مختلف وکٹوں پر کھیلنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ صورتحال کے مطابق خود کو ڈھال سیں کیونکہ متحدہ عرب امارات کی وکٹوں پر کھیلنے کی وجہ سے یہ صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستانی کھلاڑی صرف ایک ہی طرح کی وکٹوں پر کھیلنے کے عادی ہوں گے اور انہیں بیرون ملک کھیلنے کھیلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حیدرآباد میں کھیلے جا رہے قائد اعظم ٹرافی کے میچ میں واپڈا کی نمائندگی کرنے والے سلمان بٹ نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مختلف نوعیت کی وکٹوں پر کھیلنا شروع کر دینا چاہیے۔

سلمان بٹ رواں سیزن میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نظر آئے تاہم ان کا ماننا تھا کہ کارکردگی میں مزید بہتری آ سکتی تھی۔

‘میں نے مضبوط ٹیموں کے خلاف دو سنچریاں اسکور کیں جس سے مجھے اعتماد ملا۔

انہوں نے محمد آصف کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 2010 سے پاکستان کی 80 فیصد انٹرنیشنل کرکٹ دبئی میں کھیلی گئی ہے جو ملک میں کرکٹ کیلئے سودمند نہیں اور غیرملکی سرزمین پر ہہماری بدترین کارکردگی کی یہی وجہ ہے کہ ہم انتہائی سلو وکٹوں پر کھیلنے کے عادی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی تیز وکٹوں پر کھیلنے کی صلاحیت کی کمی ہے اور یہ کھلاڑی انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں بمشکل ہی کارکردگی دکھا سکیں۔

اوپننگ بلے باز نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے 33 میں سے 26ٹیسٹ میچ بیرون ملک کھیلے اور دراصل بیرون ملک ہی آپ کی تکنیک کا امتحان ہوتا ہے اور اگر آپ آسان وکٹوں پر کھیلنے کے عادی ہوں تو باؤنسی وکٹوں پر مشکلات پیش آتی ہیں۔

اپنی ٹیم میں سلیکشن کے حوالے سے سوال پر سلمان بٹ نے کہا کہ ایک کھلاڑی کو اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے رنز اسکور کرنا ہوتے ہیں اور سلیکٹرز سمجھیں کہ قومی ٹیم کو ان کی ضرورت ہے تو انہیں ٹیم میں شامل کر لیا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY