اپنی ہی خواہش سے ہیں منجدھار میں اہل قلم
صاحبو خوش حلقہء سرکار میں اہل قلم
شاعروں نے اس قلم سے امتیں بیدار کیں
سو چکے اب مجمعء بیدار میں اہل قلم
گفتگو سن کر قلم شرمائے جنکی باخدا
ہم نے ایسے دیکھے ہیں گفتار میں اہل قلم
ظلم پہ تُف کے لیئے لکھتے نہیں ہیں ایک لفظ
ظالموں کے ڈھل چکے کردار میں اہل قلم
دوستی کا فخر تھے اور دوستوں کا مان بھی
اب تو خود شامل ہوئے اغیار میں اہل قلم
جو قلم کی عزت و ناموس کو بیچا کریں
ایسے چنوا دے کوئی دیوار میں اہل قلم
اک اشارہ ہی بہت کافی تھا دعوت کے لیئے
سر کے بل آنے لگے دربار میں اہل قلم
کیا کریں گے رہنمائی قوم کی بتلایئے
خود گرفتار بلا منجدھار میں اہل قلم
یہ فقط اس عہد کا ہی مرثیہ صفدر نہیں
بکتے ہیں ہر دور میں بازار میں اہل قلم
صفدر ھمٰدانی












