ریڈیو پاکستان میں اناؤنسر ،کمپیئر کو 14 سے زیادہ دن بک نہیں کیا جاتا تھا کہ لوگ ایک ہی آواز سن کر اکتا نہ جائیں ۔مگر انور محمود صاحب کے دور میں ماہانہ پیکج کے نام پہ پورے مہینے کے لیئے انکی خدمات حاصل کر لی گئیں ۔یہ رسم ریڈیو کے لیئے ناسور بنتی گئی کہ ہر آفیسر ،وزیر ،مشیر اپنے عزیز ،رشتہ دار کو بھاری پیکج پہ مختلف پوسٹیں معرض وجود میں لاکرکھپاتا گیا ۔ایسی ہی ایک پوسٹ ریسورس پرسن کی ہے۔پچھلے پانچ سالوں میں پابندی کے باوجودبغیر ٹسٹ انٹرویو بے تحاشا لوگ ریسورس پرسن بھرتی کیئے گئےجن میں ریڈیو افسران کے اپنے بچے ،بھانجے ،بھتیجے شامل ہیں ۔(تاثر یہ تھا کہ یہ بھی 2012 ءکی طرح بطورگیسٹ پروڈیوسر ریگولر ہو جائیں گے ) ان میں سے اکثر کے پاس ڈگریاں کلو کے حساب سے ہیں مگر قابلیت چھٹانک بھربھی نہیں ۔ یہ اکثر چوتھے فلور پہ افسران کی خوشامد میں مصروف رہتے ہیں یا منسٹری کے چکر کاٹ رہے ہوتے ہیں ۔انکے ہاتھ اتنے لمببے ہیں کہ انکو دیکھ کر افسران کی بھی گھگی بندھ جاتی ہے ۔چونکہ یہ اضافی نفری ہیں ۔ان میں سے کئی کومائیک پہ بٹھا کے ڈیلی ویجز کمپیئر کی چھٹی کر دی گئی ۔نیا ٹیلنٹ آنا بند ہو گیا۔ اب حال یہ ہے کہ جس ریڈیو پاکستان کو سنکرلوگ اپنا تلفظ درست کرتے تھے آج وہ خود اصلاح کا طلبگار ہے ۔
پروگرام کا سارابجٹ انکی تنخواہوں پہ خرچ ہو جاتا ہے ۔حکومت نے تعداد کم کرنے کا کہا ۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ نکمے ریسورس پرسن یا بھرتی پر پابندی کے باوجود جو لوگ رکھے گئے تھے انکو فارغ کر دیا جاتا یا جو بوجھ تھے انکی چھٹی کی جاتی ۔جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ادارے کو دیں ،محنت کی ،ادارے کو اپنا گھر سمجھا کم معاوضے پہ ریگولر سے زیادہ کام کیا انکا کچھ تو لحاظ ہوتا۔
مگرفنانس اور ایڈمن نے پروگرام سیکشن کے اختیارات ہاتھ میں لیتے ہوئے اپنے بچے بچا لیئے اور کلہاڑا ان پہ چل گیا جنکی پشت مضبوط نہیں تھی ۔کئی لوگوں کے گھر کا چولہا ہی انہی بیس پچیس ہزار سے چلتا تھا ۔بغیر کسی نوٹس کے انکو فارغ کر دینا کہاں کا انصاف ہے ۔
بیس سال سے زائد عرصہ یہاں گزارنے کے بعد انکو کون ملازمت دے گا؟
کیا کنٹریکٹ ملازم کے بطور شہری کوئی حقوق نہیں؟
قصووار ریڈیو کی انتظامیہ بھی ہے اور













