بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے ایک بار پھر مشرقی لداخ میں سرحدی خلاف ورزی کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
پیر کو بھارتی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد طے پانے والے معاہدے کے باوجود چینی فوج نے اس علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کو اس وقت پیش آیا جب چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے لداخ کی پیانگونگ تسو جھیل کے جنوبی کنارے سے سرحدی حد بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کی جسے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا گیا۔
بھارتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت تنازعات کے حل کے لیے بات چیت پر یقین رکھتا ہے لیکن اپنی جغرافیائی خود مختاری کے تحفظ کا بھی عزم رکھتا ہے۔
دوسری طرف چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے پیر کو نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ چینی افواج لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی مکمل پاسداری کر رہی ہیں اور اسے کبھی عبور نہیں کیا گیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ سرحدی معاملات اور زمینی صورتِ حال پر دونوں ممالک آپس میں رابطے میں ہیں۔
خیال رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان کوئی مستقل سرحد نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کو تقسیم کرنے والی سرحد کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہا جاتا ہے۔
سطح سمندر سے 4200 میٹر اُونچی پانگونگ تسو جھیل کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر اسٹرٹیجک لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔












