کولکتہ کی ہمہ جہت تخلیق کار سعدیہ صدف کا عالمی اخبار کے لیئے قلمی تحفہ

0
848

رباعیات

مسرور  ہمیشہ مرادیوانہ رہے
مخمور نگاہوں کا یہ میخانہ رہے
اب اس کے سوا کوئ تمنا ہی نہیں
خالی نہ مرے زیست کا پیمانہ رہے

ہم فصل بہاراں کے مخالف تو نہیں
اس رت میں چراغاں کے مخالف تو نہیں
ہم زلف رباعی ہی  سنواریں گے سدا
ہم زلف پریشاں کے مخالف تو نہیں

ہمدم میں تیرے پیار کے صدقے جاوں
آنکھوں کے ہر اک وار کے صدقے جاوں
دیکھے سے جسے صبح مری روشن ہو
میں ہر طرح اس یار کے صدقے جاوں

کیوں کر نہ کرے کوئ کنواری سج دھج
دنیا کو رجھاتی ہے ہماری سج دھج
کرتا ہے حکومت جو ہمارے دل پر
اس شخص کی خاطر ہے یہ ساری سج دھج

یارب ترے بندوں پہ بلا ہے ہر سو
پھیلی ہوئ کیسی یہ وبا ہے ہر سو
یوں گرم کیا موت کا بازار اس نے
ہر کار جہاں بند پڑا ہے ہر سو

سعدیہ صدف
کولکاتا۔۔۔انڈیا

SHARE

LEAVE A REPLY