رباعیات
مسرور ہمیشہ مرادیوانہ رہے
مخمور نگاہوں کا یہ میخانہ رہے
اب اس کے سوا کوئ تمنا ہی نہیں
خالی نہ مرے زیست کا پیمانہ رہے
ہم فصل بہاراں کے مخالف تو نہیں
اس رت میں چراغاں کے مخالف تو نہیں
ہم زلف رباعی ہی سنواریں گے سدا
ہم زلف پریشاں کے مخالف تو نہیں
ہمدم میں تیرے پیار کے صدقے جاوں
آنکھوں کے ہر اک وار کے صدقے جاوں
دیکھے سے جسے صبح مری روشن ہو
میں ہر طرح اس یار کے صدقے جاوں
کیوں کر نہ کرے کوئ کنواری سج دھج
دنیا کو رجھاتی ہے ہماری سج دھج
کرتا ہے حکومت جو ہمارے دل پر
اس شخص کی خاطر ہے یہ ساری سج دھج
یارب ترے بندوں پہ بلا ہے ہر سو
پھیلی ہوئ کیسی یہ وبا ہے ہر سو
یوں گرم کیا موت کا بازار اس نے
ہر کار جہاں بند پڑا ہے ہر سو
سعدیہ صدف
کولکاتا۔۔۔انڈیا













