وزیراعظم عمران خان نے ملک کے 2 بڑے شہروں میں بچی اور خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کردی۔
خیال رہے کہ گزشتہ شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔
اس کے علاوہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے پی آئی بی کالونی میں ایک کمسن بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا اور بچی کی مسخ شدہ لاش پرانی سبزی منڈی کے قریب ایک خالی پلاٹ سے ملی تھی۔
انہیں دونوں واقعات پر اب وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا ہے
اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ چوہدری شہزاد اکبر نے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ شب لاہور موٹروے کے قریب پیش آئے ہولناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزمان کو پکڑیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں سخت سے سخت سزا ملے۔
بعد ازاں وزیراعظم آفس نے ٹوئٹ میں بتایا کہ عمران خان نے معصوم بچی اور خاتون سے زیادتی کے مختلف واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے۔
دفتر وزیراعظم کے مطابق عمران خان نے کہا کہ خواتین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے، کسی مہذب معاشرے میں ایسی درندگی اور حیوانیت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایسے واقعات ہماری سماجی اقدار کے منافی اور سوسائٹی پر بدنما داغ ہیں۔
انہوں نے متعلقہ آئی جیز سے ان واقعات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو جلد قانون کی گرفت میں لانے اور قرار واقعی سزا دلوانے کا حکم دیا۔
ساتھ ہی وزیراعظم نے معصوم بچوں اور خواتین سے زیادتی کے واقعات کے تدارک کے حوالے سے قوانین کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی لاہور موٹروے ‘گینگ ریپ’ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی۔
دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان مسرت چیمہ نے واقعے سے متعلق بتایا کہ پولیس نے مبینہ گینگ ریپ میں ملوث ہونے کے شبہ میں 12 افراد کو گرفتار کرلیا۔
مسرت چیمہ نے کہا تھا کہ پنجاب پولیس اور متعلقہ محکمے ‘موٹروے کے دردناک واقعے میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے معاونت کے ساتھ کام کر رہے ہیں’۔
واضح رہے کہ گزشتہ شب گجرپورہ کے علاقے میں 2 ‘ڈاکوؤں’ نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت ریپ کا نشانہ بنادیا تھا جب وہ موٹروے پر اپنی گاڑی میں کچھ خرابی کے بعد مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔
متاثرہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ کا سفر کر رہی تھیں۔
اس حوالے سے ایک پولیس عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ خاتون نے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ٹول پلازہ عبور کیا کہ ان کی گاڑی یا تو پیٹرول کی قلت یا کچھ اور خرابی کی وجہ سے رک گئی۔
اسی دوران انہیں گوجرانوالہ سے ایک رشتے دار کی کال آئی، جنہوں نے انہیں پولیس ہیلپ لائن پر مدد کے لیے کال کرنے کا کہا جبکہ وہ خاتون تک پہنچنے کے لیے گھر سے نکل گیا، جب مذکورہ رشتے دار جائے وقوع پر پہنچا تو وہاں خاتون موجود تھی جو گھبرا رہی تھیں اور ان کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا۔
ادھر متاثرہ خاتون کے رشتے دار کی جانب سے تھانہ گجر پورہ میں درج کروائی جانے والے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں بتایا گیا کہ خاتون نے انہیں اطلاع دی کہ ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے اور گاڑی بند ہوگئی ہے، جس پر انہوں نے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرنے کا کہا جبکہ وہ خود بھی موقع پر پہنچنے کے لیے ایک دوست کے ہمراہ نکل گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق جب وہ جائے وقوع پر پہنچے تو گاڑی کا ڈارئیونگ سائڈ والا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازے پر خون بھی تھا جبکہ خاتون اور بچے وہاں موجود نہیں تھے، جب انہوں نے ان کی تلاش شروع کی تو قریب ہی جنگل کے درمیان کچے راستے سے خاتون آتی دکھائی دیں، جنہوں نے انہیں بتایا کہ وہ پیٹرول کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ 2 نامعلوم افراد جن کی عمر 30 سے 35 سال کے درمیان تھی وہ وہاں پہنچ گئے۔
مذکورہ ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ دونوں افراد مسلح تھے اور ان کے پاس ڈنڈا بھی تھا جس کے بعد انہوں نے ڈرائیونگ سائڈ کا شیشہ توڑا اور انہیں بچوں سمیت گاڑی سے نکال کر موٹروے کے ساتھ نیچے جنگل میں لے گئے جہاں خاتون کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔
قریبی عزیز کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے بتایا کہ وہ افراد جاتے ہوئے ان کے پرس سے ایک لاکھ روپے نقدی، 2 طلائی کڑے، ایک بریسلیٹ، گاڑی رجسٹریش کارڈ اور 3 اے ٹی ایم ساتھ لے گئے۔
مذکورہ ایف آئی آر میں مطالبہ کیا گیا کہ اس تمام واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔












