وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ موٹروے پر زیادتی کی شکار ہونے والی خاتون سے متعلق سی سی پی او لاہور نے غیر ضروری بیان دیا لیکن یہ غیر قانونی نہیں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں میزبان حامد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سی سی پی او لاہور کے اس بیان پر کیا قانونی ایکشن لیا جائے۔
اسد عمر نے لاہور پولیس چیف کے بیان پر ردِ عمل میں کہا کہ میں خود بھی اس بیان سے اتفاق نہیں کرتا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری سی سی پی او لاہور عمر شیخ پر برس پڑیں اور کہا کہ اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون پر سوالات اٹھانا ناقابل قبول ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز گجر پورہ میں موٹر وے پر ایک المناک واقعہ پیش آیا جب درندہ صفت دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
اس واقعے سے متعلق سی سی پی او لاہور کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا جہاں انھوں نے خاتون کے سفر سے متعلق ہی سوالات اٹھادیے۔
ان سوالات پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا ردِ عمل سامنے آیا جہاں وہ سی سی پی او لاہور پر برس پڑیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیریں مزاری نے کہا کہ ایک افسر کی طرف سے اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون پر سوالات اٹھانا ناقابلِ قبول ہے۔











