بہت مدت سے یہ خواہش تھی کہ میرے استاد صفدر ہمدانی اور ان کی اہلیہ محترمہ ماہ پارہ صفدر بھی کبھی میرے گھر آئیں ۔تاہم ایک عرصے سے یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ اس کی وجہ تو یہ ہے کہ بابا صفدر ہمدانی اپنے منفرد مزاج کے آدمی ہیں اوران کی طبیعت ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ ہر جگہ نہیں جاتے بلکہ مخصوص جگہوں پر ہی جاتے ہیں ۔ وہ لوگوں سے محتاط بھی رہتے ہیں کیونکہ اگر وہ محتاط نہ رہیں توان کے اصو ل متاثر ہوتے ہیں ۔ انہیں اپنے اصول بہت پیارے ہیں اوروہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے ۔ وہ بے باک ہیں ۔ وہ بات سچی کہتے ہیں اورمنہ پر کہتے ہیں۔ حتیٰ کے امام بارگاہوں کے متولیوں اور ذاکروں کے ساتھ بھی ان کی نہیں لگتی ۔ وہ خون حسین علیہ السلام کی تجارت کے سخت خلاف ہیں اوروہ ایسے تاجروں کے منہ پر کہتے ہیں کہ یہ تجارت بند کرو اور امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرو۔ وہ روح پیش کرو جس کیلئے امام حسین علیہ السلام نے جان کی قربانی دی اور ان کے بہتر ساتھیوں نے بھی کربلا میں جام شہادت نوش کیا۔وہ امام حسین علیہ السلام کی کربلا میں اپنے بہتر ساتھیوں سمیت قربانی کو محسوس بھی کرتے ہیں اور امام کے اسباق کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں نیز دوسروں سے بھی یہی تقاضا کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ انہوں نے ایک شخص جو ان کو استاد کہتاتھا ’ کو استاد کہنے سے بھی روک دیا ۔ جب ان سے استفسار کیاتو کہنے لگے : ”یہ شخص شعر وزن میں نہیں کہتا اورمجھے استاد کہتا ہے ۔ اب سننے والے کیا کہیں گے کہ کیا اس کا استاد بھی ایسا ہی ہوگا“۔
میں نے جب پہلی کتاب ”نذرآتش“ لکھی تو اس پر سب سے پہلا مضمون جو کتاب کے آغاز میں ہے ’ وہ میرے بابا صفدرہمدانی نے لکھا ۔ پھر جب پرنٹ میڈیا پر مشکل وقت آیا تومیں گھبرایا ہو ا بابا کے پاس گیااوران سے ہدایت مانگی ۔ انہوں نے نہایت ہی عمدہ طریقے سے میری راہنمائی کی ’جس کی بدولت روزنامہ ”سپیکر“آج تک کامیابی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے اورا س میں 30 لکھاری کالم لکھتے ہیں ۔سپیکر ریڈیو کے قیام میں بھی انہی سے ہی مشورہ کیاتھا ۔وہ اس معاملے میں بہت اچھے ہیں ۔اگران سے کوئی مشورہ مانگو تو وہ مشورہ بہت اچھا دیتے ہیں ۔جس میں ان کی زندگی کے تجربات کا نچوڑ شامل ہوتا ہے ۔
غرض یہ کچھ باتیں تھی بابا کے بارے میں کہ وہ کس قدرخود دار اور اصول پرست انسان ہیں ۔ بی بی سی میں ایک لمبے عرصے سے خدمات سرانجام دینے کے بعد اب ریٹائرڈ ہیں اور زیادہ تر توجہ ادبی کاموں کی طرف دیتے ہیں ۔ ”عالمی اخبار“ کے نام سے اپنا ایک اخبار بھی نکالتے ہیں ۔ان کی اہلیہ محترمہ مہ پارہ صفدر کے بارے میں کون نہیں جانتا؟ وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن پر اردوکی نیوز ریڈر کی حیثیت سے میدان میں آئیں اوربہت جلد اپنی لفاظی ’ ادائیگی اور آواز میںا عتماد کی بدولت اس انڈسٹری پر چھا گئیں۔ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن پر کام کیا ۔ جس کے بعد ان کی خدمات بی بی سی لندن کیلئے حاصل کر لی گئیں ۔ انہوںنے نیو ز انڈسٹری میں اردو کی بہت خدمت کی ۔ وہ ایک شاعرہ اور ادیبہ بھی ہیں ۔ بہت سی کتابیں لکھ چکی ہیں ۔ آج کل امیگرینٹس کے بارے میں ایک کتاب لکھ رہی ہیں ۔جس کیلئے کچھ امیگرنٹس کے ساتھ انٹرویو کے سلسلے میں وہ مانچسٹر آئیں ۔
چند روزقبل کونسلر مقدسہ بانو میرے گھر تشریف لائیں تو بہت خوش تھیں ۔ کہنے لگیں کہ مہ پارہ صفدر اور صفدرہمدانی تشریف لا رہے ہیں ۔ مجھے اس کی بہت خوشی ہوئی کیونکہ ماضی میں میں بابا سے اس خواہش کا اظہار بارہا کر چکا ہوں کہ آپ کبھی ہمارے ہاں تشریف لائیں اور ہم آپ کے اعزاز میں ایک بڑی سی تقریب منعقد کریں ۔ مگر بابا ٹال گئے ۔ تاہم جب علم ہو ا کہ وہ صرف دو دن کیلئے آرہی ہیں ’ تو کسی حد تک افسوس بھی ہوا ۔ میں نے مقدسہ سے کہا کہ ان سے کہو کہ ٹائم لے کرآئیں اور اتنی جلدی میں نہ آئیں ۔کم از کم ہمیں اپنے ”چاﺅ“ تو پورے کرنے دیں ۔ بہتر ہے کہ وہ رمضان کے بعد آئیں اور کم از کم ایک ہفتے کیلئے آئیں ۔ تاہم انہیں کتاب کی وجہ سے جلدی تھی ۔ وہ انتظار نہیں کر سکتی تھیں ۔پھرمیں نے ’میری بیوی نسرین نے اور مقدسہ نے مل کر ان کی مہمانداری کا پلان بنایا ۔ادہر پریس کلب آف پاکستان یوکے کے ارکان اپنے تئیں ان کے ساتھ ایک پروگرام رکھنا چاہتے تھے ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال تھی ۔ تاہم ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہمارے پاس ہی ٹھہریں گی اور انہیں ہم کیا کیا کھانے کھلائیں گے ۔
آپا مہ پارہ آئیں تو ان کی اعزاز میں فائقہ گل نے ایک تقریب کا اہتمام کر لیا۔ مجھے غصہ تو آیا کہ انہوں نے تقریب پہلے رکھ لی مگر میں فائقہ گل اور ہمایوں صاحبزادہ کی محبت میں خاموش ہوگیا ۔تاہم جس دن فائقہ نے انہیں بلایا ’ اس وقت اور اس روز مجھے ورثہ تھیٹر یوکے کے ڈرامہ ”ہیر رانجھا“ کے سلسلے میں ضروری میٹنگوں میں شرکت کرنا تھی۔ ایک دن اس میں گزر گیا اوردوسرے دن کی شام ہوگئی ۔ تیسرے دن آپا کو واپس جانا تھا ۔ چنانچہ مجھے فکر لگی اورمیں نے فون کر کے آپا سے گلہ کیا کہ آپا ایک تو آپ نے رہنے کا انتظام ہوٹل میں کر لیا اور کل آپ واپس بھی جا رہی ہیں اور میرے گھر آئی ہی نہیں ۔ میں پریشان ہوں ۔ آپ بابا کو بھی ساتھ نہیں لائیں ۔ ہمیں اپنے ”چاﺅ“ تو پورے کرنے دیں ۔ آپا یہ سن کر خوش بھی ہوئیں اورمجھے تسلی دے کرکہنے لگیں کہ مجھے اپنا ایڈریس بھیجومیں ابھی آجاتی ہوں ۔میں نے ان کو گھر کا پتہ بھیجااور تھوڑی دیر بعد آپا ’ اپنی ایک سہیلی سیدہ کوثر کے ہمراہ میرے گھر پہنچ گئیں ۔ جہاں میں نے ’ میری اہلیہ نسرین نے ’ میری بہن کونسلر مقدسہ بانو اوراس کے بیٹے حسنین نے ان کا شاندار استقبال کیا ۔ چائے پران کے ساتھ خوب باتیں ہوئیں ۔جس میں انہوں نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن پر خبروں کے حوالے سے بہت سے انکشافات بھی کئے ۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی کی خبر انہوں نے پڑھی تھی مگر جب ضیاءالحق کی موت واقع ہوئی تو خبر تومجھے پڑھنی تھی مگرآخری وقت میں بتایا گیا کہ یہ خبر اظہر لودھی پڑھیں گے ۔ ساتھ ہی اظہر لودھی کی جنرل ضیاءکے قریب ہونے کے بارے میں بھی بہت سی باتیں ہوئیں ۔ ان کی تصنیفات کے حوالے سے بھی باتیں ہوئیں ۔ بابا کی صحت کے بارے میں انہوں نے معلومات دیں ۔ بابا کی اصول پرستی کی باتیں سن کر مجھے فخر بھی ہوا کہ میں کس عظیم شخص کا شاگرد ہوں ۔ اگلے روز آپا نے امیگرنٹس کے انٹرویو کئے اور پھر وہ لندن سدھار گئیں ۔ جاتے جاتے مجھے یہ خوشی دے گئیں اور میں اس بات پر فخر کر سکتا ہوں کہ میری آپا زندگی میں کم از کم ایک دفعہ تو میرے گھر آئیں ۔ میں اس پر اس قدرخوش ہوں کہ بیان نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ میری آپا کو لمبی اور صحت والی زندگی عطاءکرے اور میرے استاد بابا صفدر ہمدانی کا سایہ میرے سر پر قائم رکھے ۔آج میںبہت خوش ہوں ۔













