میں جب بھی
زندگی کی دھوپ میں تھک کر
کسی بھی معاملے پہ
سوچ کے در وا کرتے ہوئے
یادِ ماضی
اور قسمت کی گرہیں کھولتے ہوئے
تازہ دم ہونے کیلئے
مثبت سوچ کیلئے
کسی ساتھی کے ساتھ مل کے
بہت پریت کے ساتھ چائے پیتی ہوں
اجالوں سی روشن میری ماں
میرا سب سے قریبی دوست
کہ جس سے بات کرتے ہوئے
چائے پیتے ہوئے
چائے چاہ میں بدل جاتی ہے
میں گھر میں ہوں
یا دفتر میں
ضرورت ہے اک ساتھی کی
جو ہمیشہ ساتھ دے میرا
ایک کپ چائے کیلئے
گویا یوں تھام لے مجھ کو
میرے الجھے خیالوں کو
محبت کے سوالوں کو
مگر اب کیا کرونگی میں
کہ تم تو چائے نہیں پیتے
مناسب سا اک چھوٹا حل
میں نے یہ سوچا ہے
کہ کپ تو اب بھی دو ہونگے
تمہارے سامنے رکھ کے
وہ دونوں کپ میں پی لونگی
اپنی چاء تمہاری چاہ کے ساتھ
میں اب یونہی جی لونگی
قرۃالعین حیدر













