آخری اسٹیشن،، ایک علامت ایک استعارہ،ثانیہ شیخ

0
2039

،،آخری سٹیشن،،

پاکستانی ڈرامہ اپنی کہانی، مقصدیت ،پیشکش اور زندگی سے جُڑت کے باعث ہمیشہ بہت توانا رہا۔ڈرامہ نگاری، اداکاری اور ہدایتکاری میں بے مثل کام ہوتا رہا۔
پھر پرائیویٹ چینلز اور ڈراموں کی بھرمار میں معیار اور موضوعات کہیں گُم ہو گئے۔ شاذ شاذ کہیں عمدہ ڈرامہ نظر آتا رہا۔

حال ہی میں ایک نجی چینل پر کشف فاؤنڈیشن اور کُھوسٹ فلمز کے اشتراک سے ایک ڈرامہ سیریل کا آغاز ہوا۔ جس نے پی ٹی وی کے سنہری ڈرامہ کے دور کی یاد تازہ کر دی۔

ڈرامہ سیریل ،،آخری اسٹیشن،، کی مصنفہ آمنہ مفتی، ہدایتکار سرمد سلطان کُھوسٹ اور کاسٹ میں صنم سعید،نمرہ بُچہ ،میکال ذوالفقار، عرفان کُھوسٹ، ملکہ ظفر ،فرح طفیل ،احمد شاہ اور کئ نئے فنکار شامل ہیں۔

sarmad khosat

،،آخری اسٹیشن،، ایک علامت ہے ۔ایک استعارہ ہے، عورت کے بیدار ہونے اور اپنی ذات پہچان کر آگے بڑھنےاورمنزل کی طرف قدم اٹھانے کا۔

آمنہ مفتی جو کہ پہلے بھی سماجی موضوعات پر بامقصد اور بہترین ڈرامے لکھتی رہی ہیں اس سیریل کی مصنفہ ہیں۔ ان کی تحریر زندگی سے جُڑی سچائیوں کو کمالِ فن سے آشکار کرتی ہے ۔

ڈرامے کی طرف متوجہ کرتی سب سے بڑی خوبی ناظرین کے لئے اس کی ہدایتکاری ہے۔ سرمد کُھوسٹ جیسے عمدہ،منفرد اور چونکا دینے والے فن کے ماہر ہدایتکار اس کہانی کو پیش کر رہے ہیں۔ سرمد کُھوسٹ نے 1999 میں شاشلک سے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا۔
ہمسفر،شہرِ ذات، اشک، میرا یقین جیسے کئ بہترین ڈرامے ان کی پہچان ہیں۔ فلم ،،منٹو،، کے ذریعے انہوں نے ناظرین کے دل جیت لیے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔

سرمد سلطان کی یہ نئی ڈرامہ سیریل ناظرین کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس میں سات عورتوں کی سات کہانیاں زندگی سے جُڑے مسائل کو حسّاس طریقے سے بیان کرتی ہیں۔ کہانی سُنانے کا فن سرمد کُھوسٹ سے بہتر کون جانتا ہے۔ وہ ایسی ایسی جزئیات اور مناظر کو سکرین پر لے آۓ ہیں کہ ہر فریم ناظر کو گرفت میں لے لیتا ہے۔

بلاشبہ یہ ڈرامہ،، آخری اسٹیشن،، ڈرامے کے فن میں ایک نئی جہت کا آغاز ہو گا۔سرمد کُھوسٹ ،انکی ٹیم اورکشف فاؤنڈیشن کو مبارکباد۔

ثانیہ شیخ

SHARE

LEAVE A REPLY