شعبہ ادب کے استاد اپنا ظرف بڑا کریں۔ ڈاکٹر لبنی عکس

4
1210

یہ تحریر مخصوص اساتذہ اور طلباء کے لئے ہے

پہلی اور دوسری قسط ایک ساتھ

اگر آپ ادب کی سر سبز زمین میں ایک نو خیز پودا ہیں تو کچھ باتوں کو گرہ میں باندھ لیجئے
آپ ساری دن رات ایک کر کے کچھ بھی لکھ ڈالئے ،اگر آپ کے سر پر کسی استاد یا استانی کا ہاتھ نہیں ہوگا تو پھر آپ کی ساری محنت ردی کی ٹوکری میں ڈال دی جائےگی
کیونکہ آپ کی ساری کاوش گئ بھاڑ میں کوئ استاد یا استانی اس کو دیکھیں گے ہی نہیں تو کمینٹ یا تعریف کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
پھر کچھ عرصے بعد آپ مجبور ہو کے کسی بڑے سے اصلاح مانگیں گے اور وہ اس اصلاح کے عوض کچھ بھی مانگ سکتے ہیں کیونکہ آپ تو مجبور ہیں
پھر آپ اس بات پر یقین رکھئےکہ آپ کی شاعری یا نٹر پر اپکے استاد یا استانی کا کمینٹ ضرور آئیگا کیو کہ در حقیقت وہ آپ کی نہیں بلکہ اپنی تعریف کررہئےہونگے
اور قسم کھا لیجئے کہ آپ کے وہ بڑے آپ کی کسی اور تحریر پرآیک نقطہ بھی ڈال دیں
آپ کے پاس جتنا مسکہ اتنا آپ کا کلام بہتر
مگر رکئے دوست ✋
کسی بھی اصلاح شدہ چیز کو اپ لوڈ کرتے وقت دیکھنا نہ بھولیے کہ وہ آپ کی جنس سے مطابقت بھی رکھتا ہے یا نہیں
کیونکہ اکٹر آپ عورت ہونے کے باوجود مردانہ لہجے میں ہوتے ہیں اور مرد ہونے کے بعد زنانہ کلام پوسٹ کر دیتے ہیں 😃
اور ایک خاص بات اگر آپ کسی تنظیم کا حصہ ہیں تو پھر آپ کے وارے نیارے ہیں
پھر آپ اپنے بزرگوں کا کلام پڑھئے یا کسی پرانے شاعر کی ڈائری چرا کے داد وصول کیجئے مجال ہے کوئ آپ کو ایک لفظ بھی بول سکے
تو پیارے بچوں اور تھوڑے سے بڑوں یاد رکھئے کہ صرف خود پر بھروسہ کیجئے اور اصلاح ضرور لیجئے مگر احتیاط سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی قسط کے بھر پورریسپانس کے بعد ہمت بڑھی کہ مذید لکھوں مگر افسوس ہے کہ زیادہ تر دوستوں نے انباکس میں میری جرآت کی تعریف کی کاش میں بھی ان کو دلیر دوستوں کی لسٹ میں رکھ پاتی 🙂
کچھ پیارے اور سچ میں اچھے لوگوں نے دبے لہجے میں شکایت بھی کی کہ استٹنا کی اصطلاح استعمال کرتی تو بہتر تھا ، میں مانتی ہوں کہ سارےسینئرز ایک جیسے نہیں اور خاص کر میرے ساتھ تو زیادہ تر اچھے اور مشفق اساتذہ رہئے مگر یہاں جنکا ذکر خیرہواوہ خود سمجھ گئےہوں گے
خیر کل اساتذہ کے بارے میں تلخ حقائق بیان کرنے کے بعد سوچا کہ آج ان عظیم طلبا پر بھی روشنی ڈالی جائےکیونکہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے نہ بھائ ؟🤣
تو نوزائیدہ بچوں کی ایک قسم ایسی ہے کہ جو اپنےآپ کو پیدائشی غالب اور پروین شاکر سمجھتی ہے اور جو اپنا الو سیدھا ہوتے ہی رفو چکر ہو جاتی ہے
مقصد یہ کہ اکٹر دیکھا گیا کے کہ کچھ جونئر لکھاری اپنے وقت کے کافی سارے سینئرز سے مشورہ لیتے ہیں اور شاعری یا نٹر کی ایک کتاب کا مواد اکٹھا ہوتے ہی کسی تنطیم سے منسلک ہوجاتے ہیں یا اپنی ایک علیحدہ پارٹی بنا کر ان ہی سینئرز کو بدنام کرتے ہیں جن سے انہوں نے کبھی استفادہ لیا ہو
اب یہ بات تو غلط ہے نہ بھئ؟؟؟
تو پیارے بچوں اور کچھ بوڑھے نو لکھیئے طلباء سے گزارش ہے کی اپنے استاد کی عزت کرنا سییکھئے کیونکہ بحرحال ہرانسان غلط نہیں ہوتا
مجھے ایک بات اور پوچھنی ہے اگر آپ کے پاس جواب ہو تو ازراہ کرم بتائیے گا🙂
کیا کتاب بول سکتی ہے؟
نہیں نہ ؟؟
اگر صرف کتاب پڑھنے سے علم حاصل ہو سکتا تو پھر اسکول کالج کی کیا ضرورت ہوتی ؟ بس گھر بیٹھے ڈاکٹر انجینئر یا کچھ بھی بنئےکے اصول پر عمل کیا جاتا،
اسی طرح ادب کےمیدان ( میدان اس لئے کہا کہ اب یہ اکھاڑہ بن چکا ہے ) میں بھی جب تک کسی کی رہنمائ حاصل نہ ہو تب تک آپ ایک منجھے ہوئےپختہ لکھاری نہیں بن سکتے ، تو اب بتائے کہ بچہ ٹیچر کے پاس نہ جائےتو بھلا کیسےسیکھے گا ؟☹
اس لئے طالب علم اور استاد کے پیار اورعزت کے رشتے کو برقرار رکھنا اب ہم سب کی ذمہ داری ہے
استاد اپنا ظرف بڑا کریں اور کسی کی اصلاح کر کے اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر نہ پھوڑیں بلکل اسی طرح طالب علم اپنے استاد کی عزت کرناسیکھے اور روزمرہ کی محافل میں انکا نام لے لے کرانکو تضحیک نہ کریں افسوس صد افسوس ہے کہ
میں نے ادب سےزیادہ بے ادب کہیں نہیں دیکھے 😪
لاک ڈاون کی وجہ سے کووڈ ۱۹ کے علاوہ ایک اور وبا پھیلی ہے اور وہ ہے آن لائن مشاعرے
میں آن لائن مشاعرے کے ہر گز خلاف نہیں ہوں بلکہ گایےبگائے اس میں شرکت بھی کی ہے مگر یر چیز میں اعتدال ضروری ہے میں نے باوجود متعدد دعوت ناموں کے صرف چند میں حصہ لیا مگر کچھ شعراء روزانہ ہی 🤣
اب مسئلہ یہ ہے کہ کچھ آن لائن مشاعروں کے اتنے مخالف ہیں کہ وہ بھی صحیح نہیں لگتا اور کچھ تو 😄
اب ان دو دھڑوں کی روزانہ کی بحث سے ماحول خراب ہوتا ہے کہ دو قابل مگر مختلف ذہن آپسی مخالفت میں بد تمیزی کی حدود پار کر لیتے ہیں اور اتنا کیچڑ اچھالنے ہیں کی ہم سب پر نہ چاہتے ہوئے بھی چھینٹے پڑ ہی جاتے ہیں
ہائے اللہ 🙈🙈🙈 بولنے کے لئے تو اتنا ہے کہ زندگی گزر جائے مگر پڑھنے اور سمجھنے والے بھی ہوں تو لکھنے کا مزہ ہے
اس لئے تشنگی چھوڑ کے جا رہئ ہوں
ایک گزارش ہے کہ میری باتوں کو پیارسے پڑھئے گا اور کچھ برا لگے تو انسان سمجھ کے معاف کر دیجئے گا
بس اساتذہ سے گزارش ہے کہ جب کوئ آپ سے اصلاح کرواتی تو اس کے کلام یا تحریر کا مرکزی خیال ختم کرنے کے بجائے اسکے الفاظ صحیح کیجئے ورنہ ہوتا یہ کے آپ نے سورج لکھا ہواور پتہ چلتا ہے کہ غزل چاند پر ہو گئی اور ایک بار ظرف بڑا کر کےتو دیکھیئے ،،آج بھی اساتذہ کی جوتیاں سییدھی کرنےوالے موجود ہیں
اور نو زائیدہ لکھاریوں 🤣 پلیز آپ ایک مہینے میں غالب اور فراز نہیں بن سکتے اس لئے محنت اور عزت کیجئے تا کہ آپ بہت کامیابی حاصل کر سکیں
ہم سب اپنے مزاج اور رکھ رکھاو سے آپ ے خاندان اور تربیت کا پتہ دیتے ہیں اس لئے کچھ بولنے سے پہلے سوچئے گا ضرور
دعاوں کی طلبگار
ڈاکٹر لبنی عکس

SHARE

4 COMMENTS

  1. Dr Lubna, nice article, I read this article by translator. is true and correct. In the rich ancient culture and literature (especially Middle Eastern cultures), great intellectuals and scientists also learned and grew science word for word in the presence of great masters. Wishing good health to all the readers and dear Dr. Lubna

  2. بہت خوب ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی ہمہ جہت شخصیت سےہمیشہ ہمیں چونکادینے کی حد تک متوجہ کیا ہے, آپ ایک معالج کے علاوہ اچھی شاعرہ کے ساتھ ساتھ ایسی تحریریں لکھ کر دل کی معالجہ بھی بن گئ ہیں کہ آپ ہمارے دل کی آواز بن گئ ہیں ,
    اللہ تعالیٰ مزید شان شوکت اور زور قلم عطا فرمائے آمین

LEAVE A REPLY