آئی ایم ایف، سعودی عرب سے پاکستان کو قرض ملنے کی ضمانت کیوں چاہتا ہے؟

0
903

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی آیم ایف) پاکستان کو قرض کی اگلی قسط کے اجرا سے قبل پاکستان کے دوست ملک سمجھے جانے والے سعودی عرب سے بھی یقین دہانی حاصل کرنا چاہ رہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی مزید معاشی مدد کرے گا۔

بتایا جارہا ہے کہ اس مقصد کے لیے پاکستانی حکام بھی سعودی عرب سے رابطے میں ہیں۔ اُدھر آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران بیرونی قرضوں کی واپسی اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف فنڈ کی جانب سے نئے قرضوں کا اجرا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے مزید اقدامات کی بھی ضرورت ہو گی۔

ایسے میں سعودی عرب کو قائل کیا جارہا ہے کہ وہ فنڈ کے ممبر کے تحت حاصل خصوصی حقوق یعنی اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً چار ارب ڈالرز کی فراہمی پاکستان کو ممکن بنائے۔

پاکستان کی وزارتِ خزانہ کے سابق مشیر اور ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان حسن نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معاشی صورتِ حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس وقت حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال میں بھاری تجارتی خسارہ(48 ارب ڈالرز)، جاری کھاتوں کا خسارہ (17 ارب ڈالرز) اور پھر بھاری بجٹ خسارہ (گزشہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 2565 ارب روپے) درپیش ہے۔

تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق مرکزی بینک کے پاس محض 9.3 ارب ڈالرز کے ذخائر بچے ہیں ۔اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو کن بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنی معاشی حالت کو سدھارنے اور مارکیٹس کو اعتماد دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری ملنے کو یقینی بنانا ہوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY