انتہائی دلچسپ، لفظ “جناب، انتخاب، زاہد چوہدری

0
2144

لفظ “جناب” کسی زمانے میں ایک گالی ہوا کرتی تھی، اس کی مثال کچھ یوں دی گئی، کہ ایک جگہ پر کچھ انگریزی علوم حاصل کرنے کے خواں لوگ تھے، جو کہ دینی علوم حاصل کرنے والے طلبہ کو بہت تنگ کیا کرتے تھے، اور عربی مدارس کے طلباء کو “قربانی کا مینڈھا” کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ غرض کبھی کچھ، کبھی کچھ۔
ایک دن ان سب دینی علوم حاصل کرنے والے طلبہ نے یہ طے کیا کہ وہ انگریزی خواں لوگوں کیلئے کوئی ایسا لفظ بنائیں، جس میں ان کی ساری صفات عود کر آجائیں۔ غور کیا گیا تو ان انگریزی علوم حاصل کرنے والے طلبہ میں چار باتیں مشترک پائی گئیں تھیں۔۔

پہلی یہ لوگ بڑے جاھل تھے،
دوسری یہ نالائق تھے،
تیسری احمق تھے،
اور
چوتھی بیوقوف تھے۔

اس کے بعد طے پایا کہ چاروں صفات کے پہلے حرف کو لے کر ایک لفظ بنایا جائے اور پھر۔۔۔

جاھل سے “ج” لیا،
نالائق سے “ن”،
احمق سے “ا”،
اور
بیوقوف سے “ب”،

ان سب الفاظ سے ایک نیا لفظ بن گیا “جناب”

اس کے بعد ان دینی علوم کے طلبہ نے ھر انگریزی خواں طلباء کو “جناب” کہ کر مخاطب کرنا شروع کر دیا۔ یہ لفظ پھر ایسا مشہور ہوا کہ آج تک اکثریت کو یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ “نیا لفظ” بنا کیسے تھا؟ اب سب ایک دوسرے کو “جناب” کہتے پھرتے ہیں…..

حوالہ ۔ خطبات فقیر، جلد۹ صفحہ۱۹

انتخاب، زاہد چوہدری

SHARE

LEAVE A REPLY