نمائیندہ عالمی اخبار اسلام آباد
باوثوق ذرائع کے مطابق ریڈیو پاکستان کے دو انجیںئرز یاسر مصطفیٰ اور غلام مجدّد کو پچھلے سال ماہِ اکتوبرمیں ڈائریکٹرجنرل ریڈیو پاکستان طاہر حسن نے ہر قسم کی سینیارٹی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے بے جا ترقی دی تھی ۔سالِ رواں جنوری کےاوائل اور پھر 15 جنوری کو وزارتِ اطلاعات ونشریات نے اس بے ضابطگی کا نوٹس لیتے ہوئے ان دونوں انجینئروں کی بے ضابطہ ترقی کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
یاد رہے کہ مذکورہ غلام مجدّد پچھلے ادوار میں بھی اْس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان مرتضیٰ سولنگی کے ذاتی ایماء پر ڈائریکٹر انجینئرنگ کے بے ضابطہ عہدےسے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں اور اب بھی موجودہ ڈی جی کے بااعتماد مشیروں میں شامل ہیں اور لاکھوں لاکھوں روپے کے غیر اعلانیہ کام ڈی جی اس سمیت ایسے ہی لوگوں سے کرواتے ہیں
ریڈیو پاکستان اپنے محدود فنڈز کے ساتھ تنگی ترشی سے زندگی گزار رہی تھی۔لیکن اس ناگفتہ بہ مالی وسائل کے باوجود ، پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے گذشتہ سال ماہ جون میں گورنمنٹ کے بنیادی تنخواہوں کے نظام کو اپنانے کی کوشش کی اور من و عن اس نظام کو اپنایا گیا۔ اس فیصلے اور پہلے سے موجود مالی بحران کیوجہ سے ریڈیو پاکستان کے 4ھزار سے زائد پنشنرز کو ایک مسلسل عذاب میں ڈال دیا گیا۔
دوسری جانب شنیدن ہے کہ منسٹری آف فنانس نے متنبہ کیا ہے کہ اضافی گرانٹ کے لئے کوئی بھی محکمہ یا وزارت اس غرض کے لئے ان کے پاس آنے سے باز رہیں۔
اس مالی عذاب کے باوجود ڈی جی ریڈیو طاہر حسین تبدیلی کے نام پر لاکھوں روپے ایسے منصوبوں پر خرچ کر رہے ہیں جن میں انکے خاندانی بزنس کا فائدہ ہے اور ان میں سرفہرست کال سینٹرز کا بزنس ہے
ضرورت ہے کہ وزارت اطلاعات اور حکومت ان بدعنوانیوں اور بدعنوانیوں کا فوری نوٹس لے اس سے پہلے کہ واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے













