سوز خوان جناب سید علی اکبر نقوی (کراچی) سے ایک گفتگو
“(سلسلہ سوز خوانی )”
رسول مقبول آل رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عقیدت رکھنے والے بلکہ یوں کیوں نہ کہوں کے عشق کرنے والے زندگی کے مختلف طبقات کے افراد ہیں ۔ جو مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں خواہ مختلف عمروں کے ہیں مگر اس عشق کے اظہار میں وہ اس قدر کاملیت چاہتے ہیں کہ ان ہستیوں کے نام سے ان کے در سے اپنی نسبت کو مضبوط رکھنے کے لئے عشق محمد و آل محمد(ع) کو اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اولیت دیتے ہیں۔۔ گذشتہ دو سالوں میں ایام عزا کے آغاز میں باد و باراں کی شدت نے شہرِکراچی کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ اور اس وقت کہ جب دنیا کے تمام کام اس مشکل کے باعث بند ہوگئے تھے۔ عاشقانِ امام حسین علیہ السلام کی مجالس کے سلسلوں میں کہیں بھی کمی نہیں نظر آئی ۔یہاں تک کہ مرکزی مجالس جو کھلے آسمان کے نیچے نشتر پارک میں منعقد ہوتی ہیں وہاں بھی سامعین اور ذاکرین کی بڑی تعداد حاضر ہوتی رہی۔۔۔ میرا سلام ہے ان عزداروں پر جو موسلا دھار بارش کے دوران بھی پانی میں بیٹھ کر مجلس سن رہے تھے اور سوز خوان حضرات سر پر برستی تواتر سے پڑتی پانی کی بوندوں کو آسمان سے غم حسین(ع) میں برستے اشک سمجھ کر انہیں سمیٹتے رہے اور اس طرح کی عزاداری امام حسین(ع) میں شرکت پر مطمئن بیٹھے ذکر حسین(ع) میں مصروف دکھائی دیتے رہے۔ ۔
پچھلے برس کے عشرہء مجالس عزا میں اس برستی بارش میں ذاکر امام حسین علیہ السلام جومرثیہ پڑھتے نظر آرہے تھے وہ ہیں کراچی سے سوز خوان جناب سید علی اکبر نقوی صاحب جو ہماری آج کی نشست میں عالمی اخبار کے مہمان ہیں ۔۔۔ان کی اس لگن اور عشق.ِ حسین(ع) کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں ۔آئیے آج ہم ان سے جانتے ہیں کہ یہ فن انہیں اتنا کیوں مرغوب ہوا اور خاص طور پر مرثیہ و سوز خوانی ہی انہوں نے ذکر محمد و آل محمد(ع) کے لئے کیوں اپنائی؟
سید علی اکبر نقوی صاحب صحافت ، تعلیم ، معیشت اور سوشل سائنسز کے کئی شعبوں وابستہ رہے ہیں اور وہاں بھی ہمیشہ نمایاں درجوں پر فائز رہے۔۔مگر انکی زندگی کا بیشتر حصہ ذکر امام حسین علیہ السلام میں گزر گیا ۔۔آج انکے اس عشق یعنی ذکر حسین کی اس صنف سے انکی زبانی ہی آگاہی حاصل کرتے ہیں ۔۔
آج کی نشست میں خوش آمدید ۔۔
س1 _ نئے پڑھنے اور سننے والوں کے لئے سوز خوانی اور مرثیہ خوانی کو کیسے متعارف کرائیں گے؟
ج_ جی محترمہ آپکا سوال ہے کہ سوزخوانی کا مختصر سا تعارف اور اس کی جزئیات کے اوپر کچھ مختصر سی بات چیت کروں ۔
یہ تو سب کو معلوم ہے کہ سوز فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی درد، رنج و غم اور تکلیف کے ہیں.
برصغیر پاک و ہند میں فضائل و مصائب اہل بیت علیہ السلام اور بالخصوص واقعات کرب وبلا اور کوفہ و شام سے لے کر اس قافلے کی مدینے واپسی تک جو منظوم واقعات ہیں ان کو لحن یا طرز میں جو کہ بندش کہلاتی ہے, اور اساتذہ کے وضع کردہ طریقوں میں ادائیگی, کو سوز خوانی کہا جاتا ہے.
یہاں یہ کہنا مناسب رہے گا کہ خاندانِ عصمت و طہارت، یعنی حضراتِ اہل بیت علیہم السلام کے حوالے سے جو کلام خطابت سے پہلے ساتھیوں کے ہمراہ مسند پہ بیٹھ کے پڑھا جاتا ہے اس کو سوزخوانی کے زمرے میں لیا جاتا ہے.۔یوں سمجھئے کہ سوز خوانی ایک گلدستہ ہے جسے سوز خوان سجاتا ہے. اور اس گلدستے کو مکمل کرنے کے لیئے کچھ لوازمات ہیں. یہاں جو اشعار پڑھے جاتے ہیں ان کی ادائیگی مختلف بندشوں اور مختلف سروں میں کی جاتی ہے. سوز خوانی کے ان اجزاء کو رباعی, قطع, سوز, سلام اور مرثیہ کہا جاتا ہے. اور ان کا چناؤ موقع اور وقت کی مناسبت سے رکھا جاتا ہے.
رباعی, سوز اور سلام بہاریہ اور بینیہ دونوں ہو سکتے ہیں. کبھی کبھار بہاریہ رباعی کے بعد بینیہ رباعی پڑھ لی جاتی ہے جو کہ سوز کا متبادل بن جاتی ہے.
اسی طرح سوز اور سلام میں بھی ہم یہ تفریق رکھ سکتے ہیں. یہاں ایک وضاحت اور ضروری ہے کہ آج کل سوزخوانی کا دورانیہ کم کرنے پہ کافی زور ہے, اور اس وجہ سے سوزخوانی سے سلام کو ہٹایا جا رہا ہے. یاد رہے کہ سلام سوزخوانی کا بہت اہم جز ہے, اس کو سوزخوانی کے گلدستے سے نکالنا مناسب نہیں رہے گا ۔
جبکہ سلام وہ اشعار ہیں جو فضائل حضرات محمد و آل محمد(ع) ہیں اور جن کے پڑھنے سے سوزخوانی میں جان پڑ جاتی ہے. اور ایک جوش و ولولے کی لہر مجلس کے سامعین میں دوڑ جاتی ہے. سلام کے بعد مرثیہ آتا ہے, اور سلام کے آخری دو اشعار بھی اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس کے بعد مصائب کا بیان ہے. سلام کا آخری شعر یا آخری دو اشعار مصائب کے ہوتے ہیں.
مرثیہ فقط بین اور مصائب اور ذکر شہادت کے عنوان سے ہوتا ہے ۔
سوزخوانی کی یہ شکل اساتذہ اور صاحبان علم و فہم نے بہت سوچ سمجھ کر رکھی ہے. کچھ تاریخیں کچھ دن اور کچھ وقت ایسے ہیں جہاں بہاریہ سلام اور کلام کی ضرورت پیش نہیں آتی. مثال کے طور پہ انیس رمضان بعد نمازِ فجر وقت۔ِ ضربت اور اکیسویں شب اور اسی طرح دس محرم کے دن کی اور شامِ غریباں کی مجلس۔ سوزخوانی میں یہ احتیاط بہت ضروری ہے کہ وقت اور موقع کی مناسبت سے کلام کا انتخاب اور اس کے دورانیہ کا تعین کیا جائے ۔
ساتھ ہی ہم سوزخوانی کے کچھ جزئیات کے اوپر بات کرتے ہیں.
رباعی اور قطع سے سوز خوانی کا آغاز ہوتا ہے. پہلے رباعی پڑھی جاتی ہے یہ عارفانہ کلام ہوتا ہے اس میں منقبت ہوتی اس میں نعت اور حمد کے بھی مضمون آ
آسکتے ہیں اور پڑھے بھی جاتے ہیں.
میرے والد گرامی جناب ڈاکٹر محمد محتشم نقوی سوزخوانی کا آغاز ہمیشہ حمد سے کیا کرتے تھے. سرکار میر انیس اور مرزا دبیر نے حمد کے باب میں بہترین اور بےبہا کلام کہا ہے.
عام طور پر رباعی کے چار مصرعے اور قطع کے بھی چار ہی مصرعے ہوتے ہیں ۔ ان کی پڑھت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے لیکن ٹیکنیکی طور پر کلام کی وضع میں واضح فرق ہوتا ہے ۔
عام طور پر جو رباعی اور قطع ہے وہ بہاریہ اور مداحیہ کلام ہی ہوتا ہے اس لیے سب سے پہلے پڑھا جاتا ہے. اور بالعموم یہ دیکھا گیا ہے اور یہ طریقہ بھی ہے کہ اس میں جو مرکزی سوز خوان ہے وہی ان کی پڑھت میں پیش پیش ہوتا ہے جس کو شہہ کہا جاتا ہے۔۔. اور اس کے بازو/ساتھی اس کا ساتھ (آس) کے طور پہ دیتے ہیں. آس وہ سُر ہے جہاں سے ہم اس کلام کی شروعات کرتے ہیں اور مصرعے کو شروع اس آس کے اسکیل سے ہی کیا جاتا اور مصرعے کا جو آخری لفظ ہے وہ بندش میں اسی اسکیل پہ ختم کیا جاتا ہے.
یہاں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دوران ادائیگی مصرعوں کا اپنے اسکیل اور اس کی مروجہ طرز میں اس کی بندش مسلسل مدوجزر سے گزر رہی ہوتی ہے. شہہ مصرعے کو اتار چڑھاؤ کیساتھ پیش کرتا رہتا ہے لیکن جو بازو ہیں ان کی آس مستقل ایک ہی اسکیل پہ قائم رہتی ہے, جسےٹکنیکی زبان میں سم کہا جاتا ہے. یہ وہ ُسر ہے جہاں سے مصرعے کو شروع کیا گیا اور یہیں پہ مصرعے کو اختتام کیا جاتا ہے, یعنی کہ یہ مصرعے کی نشست اور برخاست ہوتی ہے.
تو یہ رباعی کا ایک مختصر سا تعارف تھا کہ رباعی کی پڑھت کیسے ہوتی ہے۔ رباعی کے بعد سوز کے اندر بھی جو بہاریہ طرزیں ہیں وہ الگ ہیں اور جو مخصوص بینہ طرزیں ہیں وہ الگ ہیں. ان کے چناو میں کلام کا مزاج دیکھنا ہوتا ہے۔ اس کی خوبصورتی دیکھنی ہوتی ہے اور اسی کے طریقے سے بہاریہ اور بینہ کلام پڑھا جاتا ہے۔
بینیہ رباعیاں بھی ہوتی ہیں جن کے اندر سوز و گداز پیدا کیا جاتا ہے اور بین کی لحن میں ان رباعیات کی بندشیں رکھی جاتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں.
سوز کی پڑھت بہت اہم ہے.
اور سوز دراصل مسدس ہے جو چھ مصرعوں پر مشتمل ایک بند ہوتا ہے ۔ اور اس میں یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک ہی بند رکھا جائے. اس میں دو بند بھی ہو سکتے ہیں اور اس میں تین بند بھی ہو سکتے ہیں. تین بند سے تجاوز کرنے کے بعد سوز مرثیئے میں تبدیل ہو جاتا ہے سوز تکنیکی اعتبار سے مضبوط باب ہے اور اس کی ادایئگی سوزخوان کی پختگی بتاتی ہے, اور یہ مرثیہ خوانی کا اہم جز ہے۔
ٹیکنیکی اعتبار سے فن کا مظاہرہ بھی اسی میں کیا جاتا ہے.
بہت پکے سُروں کے اندر اور پکے راگوں کے اندر سوزوں کو رکھاگیا ہے, جس میں آہستہ آہستہ اب بہت سادگی لائی جارہی ہے. اساتذہ نے جو صدیوں پہلے سوز پڑھ دیئے ہیں , انہیں طرزوں میں آج تک پڑھے جارہے ہیں. بس کچھ جگہوں کا فرق ہے ورنہ بنیادی راگنی اور بندش پرانی ہی چلی آرہی ہے.
سوز میں بھی بازو عموما آس دے رہے ہوتے ہیں. اس ُسر کے اوپر جس کا تعین رکھتے ہوئے پہلے مصرع کو شروع کیا جاتا ہے اور یہ چھ مصرعے بغیر بازؤں کے تنہا شہہ ہی پڑھا کرتا ہے. وہ ہی انہیں مکمل ادا کرتا ہے. عموماً یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شروع کے چار مصروں میں بازو آس دے رہے ہوتے ہیں اور جو عنترہ/ ٹیپ یا بیت کے دو مصرعے ہوتے ہیں وہ شہ کیساتھ پڑھتے ہیں.
سوز کے بعد ہم سلام پہ آتے ہیں ۔سلام بہاریہ طرز میں پڑھا جاتا ہے بنییہ طرز میں بھی ہوتا ہے ۔
موقع اور وقت کے مناسبت سے اس کا چناؤ کیا جاتا ہے ۔یعنی اگر شہادت کی مجلس ہے اور وقت شہادت کی مجلس ہے تو اس میں بینیہ سلام ہی پڑھا جاتا اور اگر ایک عمومی مجلس ہے اس کے اندر بہاریہ سلام رکھا جاتا ہے جس میں فضائلِ محمد و آل محمد(ع) کا ذکر ہوتا ہے اور اس سے مجمع میں ایک جوش کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ سامعین کا ایک مزاج بن جاتا ہے اور ایک سماں سا بندھ جاتا ہے۔۔
سلام کے بعد مرثیہ آتا ہے. سوز خوان اپنے فن اور ریاضت کا کمال رباعی، قطع اور سوز اور سلام میں دکھا چکا ہوتا ہے۔۔ اب مرثیے کا آغاز ہوتا ہے.
مرثیہ ایک بین ہے نالہ و فریاد ہے. سوزخوانی میں مرثیے کی کلیدی حیثیت ہے ۔مرثیہ جگر سے پڑھا جاتا ہے. یہ وہ پردرد آواز ہے جو ناله و فغاں ہے جس کی پڑھت سے سامعین میں گریہ ہوتا ہے اور مجلس کی قبولیت مرثیے کی کامیابی سے ہی جانی جاتی ہے.
مرثیہ کی پر خلوص پڑھت ہی اس کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے, اس میں زیادہ رنگینی نہیں دکھائی جاتی .ساتھی یا بازو اس میں ساتھ دے رہے ہوتے ہیں عموما آدھے مصرع سے ساتھ لگ جاتے ہیں اور بیت (ٹیپ یا عنترہ) میں بھی شہہ کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں.
ہر علاقے کے اساتذہ نے مرثیوں کی طرزیں وضع کردی ہیں اور ان کے اندر سوز و گداز ہوتا ہے ۔ نالہ وبین ہوتا ہے اور سوز خوان خود بھی اپنی طبیعت و مزاج یا اپنی ایموشنل کنڈیشن کے مطابق اور موقع کی مناسبت سے طرز کا چناؤ کرتا ہے. سوزخوان کو اتنا صيقل ہونا چاہیے کہ وقت بوقت ضرورت کے مطابق مرثیے کی بندش کو تبدیل کرسکے. یعنی اس کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ ایک مرثیے کو دو یا تین سے زیادہ طرزوں میں پڑھ سکے.
بعض اوقات مجمع کا مزاج ایسا ہوتا ہے روانی میں پڑھا گیا ہوا مرثیہ مناسب لگ رہا ہوتا ہے. کچھ جگہ پہ مرثیئے کو بہت استدلال سے اور جما کے پڑھنا ہوتا ہے. کچھ مرثیوں کی دھنیں رواں رکھی جاتی ہیں تاکہ جنگ کا بیان ہے یا جوش ہے اس پر پوری اتر سکیں۔ کہیں پے مرثیے میں روایت آجاتی ہے, ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے پڑھت میں دوران سوزخوانی تبدیلی لانا ضروری ہوتا ہے اور یہ کلام کا تقاضا ہے جو سوزخوان سے کرتا.
س 2 _ اب آتے ہیں اگلے سوال کی جانب کہ مجالس کا یہ طریقہ کار کب سے رائج ہوا جس میں سوز خوانی(پیش خوانی) مرثیہ خوانی پھر خطابت و نوحہ و ماتم پڑھا جانے لگا؟
ج_جب ہم سوزخوانی کی ارتقاء کی بات کرتے تو اس حوالے سے مختلف تالیفات ہیں, ان کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سوزخوانی اور مجلس کی یہ ترتیب کب سے رائج ہے.
ان تالیفات کو چیدہ چیدہ نکات میں پیش کروں گا تاکہ کوئی ابہام نہ رہے.
1 – اس ضمن میں ایک پرانی کتاب جناب محمد علی خان ابن مولوی یاور خان صاحب کی ہے. اس کتاب کا نام ہے تذکرۃ الذاکرین ہے. 1361ھ میں حیدرآباد دکن سے شائع ہوئی اور اس میں اس دور کے اور پچھلے ادوار کے سوزخوانوں کے بارے میں کافی معلومات دی گئی ہیں۔ ان کے خیال میں محمد قلی قطب شاہ کے عہد سے سوز خوانی کا آغاز ہوا.
یعنی تقریبا ایک ہزار سن ہجری سے ان کے خیال میں سوز خوانی کا آغاز ہوا.
2 – اس کتاب میں لکھنؤ کی سوز خوانی کے متعلق بھی تذکرہ کیا گیا ہے. جس میں نمایاں نام میر فدا علی اور میر حمزہ علی کا ہے, کہ ان حضرات نے لکھنئو میں سوزخوانی کا آغاز کیا.
3۔ اس کتاب میں یہ بھی ملتا ہے کہ میرخلیق، میر انیس اور مرزا دبیر کے عہد کے معروف سوزخوان میر علی صاحب نے سب سے پہلے فنِ گائیکی سے سوز خوانی کو الگ کیا اور اس میں سوز خوانی کی انفرادیت کو کمال بخشا ۔
4- جناب رجب علی بیگ سرور نے انہی میر علی صاحب کو سوزخوانی کا اولین اور مستند استاد تسلیم کیا ہے.
5- جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ جناب ڈاکٹر فضل امام کے بقول میر علی صاحب کی تربیت لکھنو کے سوز خان حیدر خان حیدری نے کی۔
6 – جناب اسرار حسین خان صاحب نے اپنی تعریف ہنر مندان اودھ میں یہ تذکرہ کیا کہ ناصر خان حسینی کو میرعلی حسن اور ان کے بھائی میر بندہ حسن کا استاد قرار دیا گیا.
مختلف محققین نے مختلف رائے قائم کی جس سے تھوڑا سا ابہام بھی پیدا ہوتا ہے.
7 – مولانا عبدالحلیم شرر اور جناب ہاشم زیدی صاحب کے بقول سنی العقیدہ جناب خواجہ حسن مودودی فن سوز خوانی کے موجد و بانی ہیں.
8 – جبکہ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر سکندر آغا کے بقول خواجہ میر درد کے نواسے میر علی اور میر بندے حسن ہی سوز خوانی کے اولین مستند اساتذہ ہیں۔۔
مختلف لوگوں کی اس ضمن میں مختلف آرا ہیں ۔ مگر محتاط اندازے سے یہ بات واضح ہے کہ محمد قلی قطب کے عہد میں, تقریبا ایک ہزار سن ہجری سے سوز خوانی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور پھر درجہ بدرجہ مجلس کی موجودہ ترتیب وضع ہوئی..
س3_ اتنے مستند حوالوں کو سن کر سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا سوز خوان خواتین و حضرات کا سُر اور راگ سے شناسائی رکھنا ضروری ہے؟
ج_ سوزخوانی کو غنہ اور موسیقی سے پاک کیا گیا ہے. اور دوران سوزخوانی اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ موسیقیت سوزخوانی سے دور رہے.
ہاں مگر اتنا جاننا ضروری ہے کہ سوزخوانی کو موسیقی سے پاک کیسے رکھا جائے.
اور دوسرے یہ کہ وہ جو سات بنیادی سًر ہیں, ان کاجاننا ضروری ہے. یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ ان سات سُروں میں سے سوزخوانی کے لیے موزوں سُر کون سے ہیں۔
مثال کے طور پہ جب آپ سروں کی بات کرتے ہیں تو یہ فقط سا رے گا ما ………. نی, نہیں ہیں.
یہ صرف مخفف ہیں.
سروں کے اصل نام اور درجہ بندی ذیل میں بیان کرتا ہوں.
سا۔ سرج
رے۔ رکھب
گا۔ گندھار
م۔ مدھم
پا۔ پنچم
دھا۔ دھیوت
نی۔ نکھاد
ان 7 سروں میں سے پہلے 5 سر بالخصوص سوزخوانی کیلئے موضوں ہیں.
کہیں کہیں آخری دو ُسر استعمال ہوتے ہیں. اس کا دارو مدار سوزخوان کے گلے اور اس کی پڑھت پر ہے.
کچھ سوزخوان نچلے سروں میں سوزخوانی کرتے ہیں اور کچھ بلند آہنگ ہوتے ہیں. اپنے اپنے گلے کی پہنچ میں رہتے ہوئے سوزخوانی کرتے ہیں.
آس کےذریعے اسی اسکیل کو دہرانے کی پریکٹس , دن میں دو بار لازما” کرنی پڑتی ہے۔
یعنی اس کو نیچے سے بائی اسکیل تک لے کر چلنا. یہ ریاض بہت ضروری ہے اور اس سے کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں.
نمبر 1 جب آپ سا سے زینہ بزینہ اور نی تک جاتے ہیں, تو آپ کو خود سر کی جگہ کا معلوم ہوتا ہے.
نمبر 2 کسی بھی ایک زینے پر آپ اپنے سر کو قائم کر سکتے ہیں.
نمبر 3 سر کو قائم کرنے سے آپ کی آواز سے جھول اور ارتعاش کو ختم کرنے کی مدد ملتی ہے.
اور نہایت ضروری ہے ہے. جب پڑھنے والا اوپر کے سروں میں پڑھ رہا ہوتا ہے تو آواز میں ارتعاش پیدا ہو رہا ہوتا ہے. اس کو ریاض کی مدد سے دور کیا جا سکتا ہے.
نمبر 4 جب آپ زینہ بزینہ سروں میں اوپر جارہے ہوتے ہیں اور پھر نیچے آ رہے ہوتے ہیں تو اس عمل سے آپ کی سانس مضبوط ہو رہی ہوتی ہے. آپ کی سانس میں الاسٹسٹی/ یعنی قابو پیدا ہوتا ہے ۔۔ کہاں رکنا ہے۔۔ کہاں روانی درکار ہے کب سانس لے کے مصرع کو آگے بڑھا دیا جائے ۔۔. اب یہ چیزیں وہ ہیں جو کہ ہم لوگوں نے اساتذہ کے سامنے زانو ادب تہہ کر کے سکھیں ہیں. تو وہاں یہ چیزیں سیکھیں ہیں. اور ان چیزوں میں وقت لگتا ہے.
ایک اور اہم چیز ادائیگی میں ملائمیت ہے.
الفاظ کو کتنے ملائم طریقے سے آپ کو ادا کرنا ہے. کرختگی نہیں آنی چاہیے ۔ ملائم طریقے سے اس کو نکھار کے, مٹھاس کے ساتھ آپ کو لے کے چلنا ہے.
یہ چیزیں ضروری ہیں کہ کوئی بھی پڑھنے والا ہو چاہے وہ نوحہ خوان ہو چاہے سلام گزار ہو چاہے ۔۔وہ سوز خوان ہو اس کو یہ چیزیں ایسے فاضل آدمی کے پاس جا کے بیٹھ کے زانو ادب تہہ کر کے سیکھنی چاہییں.
ماشاءاللہ اس وقت نوجوان طبقے میں بے تحاشہ لوگوں کو میں دیکھ رہا ہوں کہ سلام گزاری کی طرف بھی آ رہے ہیں سوزخوانی کی طرف بھی آ رہے ہیں لیکن کیسٹ سن کے, یوٹیوب سن کے, نقل کر رہے ہیں فالو کر رہے ہیں اس چیز کی تہہ تک نہیں پہنچ رہے کہ یہ جو پڑھنے والا یہ پڑھ رہا ہے, اس نے اپنی پوری زندگی لگا دی اس ایک سلام کو پڑھنے میں. ایک زندگی سے یہ پڑھ رہا ہے. تو اس نے کتنی محنت کی ہوگی کہ اس نے یہ ادائیگی کی. آپ نے وہ سلام یوٹیوب سے سنا آپ نے وہ کیسٹ سے سنا ویڈیو پہ دیکھا آپ نے سی ڈی میں سنا آپ نے وہ کاپی کر لیا. آپ نے وہ کاپی تو کر لیا. لیکن اس کو سمجھا نہیں. جو لوگ ابھی بقید حیات ہیں ان سے فیض حاصل کریں اور اصل فن کو سیکھنے کی کوشش کریں.
میرے خیال میں اتنا بخیل کوئی نہیں ہےکہ نوجوان پڑھنے والوں کو سکھائے نہیں.
میرے پاس جو بچے دیگر افراد آتے ہیں تو ان کی میں ہر تریقے سے معاونت کرتا ہوں. سیکھنے والوں پر بھی بہت دارومدار ہے کہ وہ کس شوق اور تندہی کیساتھ سیکھتے اور مشق کرتے ہیں.
سب سے اہم بات میں اب بیان کرہا ہوں, اور وہ تائید محمد و آل محمد(ع) ہے. آپ کا شوق, آپ کی لگن اور آپ کی محنت سب تائید محمد و آل محمد سے ہے. ان کا ایک اشارہ رزق علم کے دروازے آپ پر کھول دیتا ہے.
خلوص پیدا کرتے رہیں اور منزل بمنزل سفر آگے بڑھاتے رہیں.
س 4 _ کیا آپ کے خیال سے سوز خوانی ہر سننے والا سمجھ سکتا ہے یا یہ مخصوص طبقے کا ذوق ہے؟
ج_ یہ آپ کا دلچسپ سوال ہے کہ کیا آپ کے خیال سے سوزخوانی ہر سننے والا سمجھ سکتا ہے یا مخصوص طبقہ۔
یہ بات دونوں طرف درست ہے میرا مقصد یہ ہے کہ ہر سننے والا اگر سمجھ نہیں سکتا تو اس کو سراہا ضرور سکتا ہے. ضروری نہیں کہ وہ سوز خوانی کے ٹکنیکی نکات سے واقف ہو, لیکن ذکر محمد وآل محمد(ع) ہے اور اچھی طرح پڑھا جائے گا اور سجا کے اور سنوار کے اس کی ادائیگی کی جائے گی, تو سننے والا اس کو سراہے گا بھی اس پہ وہ داد بھی دے گا۔
واہ بھی کرے گا اور آہ کی صدا بھی آئے گی۔ کیونکہ یہ ذکر محمد و آل محمد(ع) ہے اور سننے والا اس کو پسند کرتا ہے ۔
ہاں اگر سامع آسانی سےسمجھ کے اس کو پسند کر رہا ہے تو پڑھنے والے کی اس سے بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔
کیوں کہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ جو سامنے سن رہا ہے وہ میری محنت کو اور میری پڑھت کو سمجھ کے مجھے سراہا رہا ہے. اس سے پڑھنے والا کا دل بڑھتا ہے.
الحمداللہ میں نے پاکستان کے مختلف شہروں مختلف علاقائی زبانوں کے جاننے والوں کے سامنے, سوزخوانی کی ہے۔۔ پنجاب کے کئی شہروں میں ۔۔ اندرون سندھ یعنی کراچی کے علاوہ بہت سارے شہروں میں پڑھا ہے. بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بھی سوزخوانی کی.
بنیادی طور پر سوزخوانی ہندوستان سے سفر کرتی ہوئی پاکستان آئی . اور قیام پاکستان کے بعد مہاجرین جن جن شہروں اور بستیوں میں آباد ہوئے انہوں نے اپنی عزاداری قائم کی.
اور اس عزاداری کی تشکیل نو ہوتی رہی. مہاجرین اپنے ساتھ سوزخوانی, خطابت اور نوحہ خوانی ساتھ لے کر آئے اور وقت گزرتا رہا اور عزاداری تقویت پاتی رہی. ۔۔ سوزخوانی ہر ایسی جگہ ہے جہاں اردو بولنے والے ہیں اور عزاداری کی پہچان ہے یہ.
وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ مختلف علاقائی زبانوں میں سوزخوانی ہونے لگی. سندھی زبان میں باقاعدہ سوزخوانی کی جاتی ہے. سرائیکی اور پنجابی زبان میں بھی کی جاتی ہے.
علاقائی مجالس میں ہم نے دیکھا کہ سوزخوانی لوگ شوق سے سنتے ہیں حالانکہ اردو سمجھنے میں انہیں تھوڑی دقت ہوتی ہے.
لیکن یہ ذکر محمد و آل محمد(ع) کا معجزہ ہے کہ کسی بھی انداز میں ہو یا زبان میں, وہ اپنی الگ تاثیر رکھتا ہے.
س 5 _ آپ نے کن بستوں (چھپی ہوئی کتابیں یا اساتذہ کا کلام) سے سوز خوانی کا آغاز کیا؟ اور کن اساتذہ سے کسب علم و فن سوز خوانی کیا ؟
ج – خوش نصیبی ہے کہ مجھے ننھیال و ددھیال دونوں طرف سے مرثیہ خوانی, ادب و شاعری اور عزاداری ورثے میں ملے ۔ میرے دادا نہایت خوش گلو و خوش الحان تھے۔۔ہندوستان میں روساء و نوابین کی خاص مجالس, مسالمے اور مقاصدوں میں بحیثیت استاد مدعو کیئے جاتے تھے اور ان کا ترنم بہت مشہور تھا. قیام پاکستان سے قبل لکھنئو, حیدر آباد دکن, اترولہ, اور دیگر علاقوں میں قنلہ جناب علی حسین سالک نقوی صاحب کی شاعری اور خوش الحانی بہت مشہور تھی.
دوسری طرف ہمارے نانا حضرت علی حسنین زیبا ردولوی صاحب کا شمار بھی قیام پاکستان کے بعد مرثیہ نگاری میں اساتذہ میں کیا جاتا ہے. اور حضرت جوش ملح آبادی کے خاص رفقہ میں شمار کیئے جاتے تھے.
کیوں کہ آنکھیں ادب کے گہوارہ میں کھلیں اس لیئے کتب شناسی اور کتب بینی کا شوق رہا اور ہے.
ہمارے دادا جب پاکستان آئے تو حیدر آباد دکن سے تشریف لائے اور ساتھ مرثیوں اور سوزخوانی کی کتابیں بھی لے کر آئے. ان کتابوں میں حیدری کتب خانے کی چھپی ہوئی ہلال محرم کی 7 جلدیں تھیں. ان میں تاریخ وار مرثیے, سلام, سوز نوحے مرتب ہیں. ان کتابوں سے میرے دادا نے پڑھا, میرے والد نے پڑھا اور اب میرے استعمال میں ہیں.
اس کے علاوہ میر انیس اور مرزا دبیر کے مراثی کی جلدیں, جناب نجم آفندی کی بیاضیں, شوکت اور متین کے نوحے. ماسٹر شریف حسین پانی پتی کی مرثیوں کی چھپی ہوئی بیاضیں اور ان کے علاوہ خود دادا اور نانا کا کلام, وہ بستے ھتے جن سے کلام پڑھنا اور یاد کرنا شروع کیا.۔۔
اللہ کا شکر ہے جو مجھے بچپن سے ہی ایسی صحبت ملی ۔ کہ جب تک صحیح طریقے سے لفظ ادا نہ کیا جائے اور اپنے فرائض کے اوپر جب تک آپ بالکل کمر بستہ ہو کے عمل پیرا نہ ہوں, چھٹی نہیں ملتی تھی. مجھے یہ یاد ہے کہ جب میری بسم اللہ ہوئی تو مجھے ایک رعبائی اور مرثیہ کا ایک بند زبانی پڑھنا تھا.
رباعی میرے دادا کی تھی:
حیدر کی فضیلت کا بیاں ہے اب تک
مرثیہ کا بند میرے نانا کا تھا :
حق سے ہر شمع کو پروانہ جانباز ملا
قصہ مختصر ۔ میرے دادا نے اپنے پاس مجھے بیٹھا, چار پانچ بار اسے دہرایا کہ اس کی ادائیگی کیسے کی جائے گی.مجھ سے سنا اور پھر میرے دادا نے مجھے اپنی ایک تسبیح پکڑائی اور مجھ سے کہا آپ یہ تسبیح لیں اور یہ سامنے جو سنگھار میز کا آئینہ ہے اس کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور اپنا چہرہ دیکھتے رہیے اور جب تسبیح پر سو بار اسے دہرا چکیں تو پھر مجھے آ کے سنائیے. یہ میری پہلی مشق تھی جس نے مجھے اس طور پہ آمادہ کیا کہ کوئی کام آسان نہیں ہے اور کتنی مشق کرنی پڑتی ہے۔۔
سوزخوانی کے لیے بھی کتنا ریاض کرنا پڑتا ہے کہ مجھے اسی زمانے میں اندازہ ہو گیا کہ یہ کتنا محنت طلب کام ہو گا اور الحمدللہ وہ پورا دہرایا اور وہ پورا سو دفعہ دہرانے کے بعد آ کے دادا کو سنایا تو بہت شاباش ملی اور پھر میں نے اس وقت اس محفل میں پڑھا. تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اساتذہ محنت کرواتے ہیں۔ لیکن محنت آپ کو خود کرنی پڑتی ہے ۔۔. میں خوش نصیب ہوں کہ بچپن ہی سے بہترین اساتذہ میسر آئے.
میرے والد صاحب کی بلند آہنگ آواز تھی ان کا نام ڈاکٹر محمد محتشم نقوی ہے. وہ کافی بلند آواز میں سوزخوانی کرتے تھے۔ عظیم المحسن صاحب اور آغا مقصود مرزا اور فیروز کربلائی صاحب سے میرے والد کافی متاثر تھے. میرے والد کی بصانی سرگرمیاں زیادہ تر پنجاب میں گزریں, وہیں لاہور میں فیروز کربلائی صاحب کو سنا.۔۔
ہر اتوار کو اس زمانے میں چھٹی ہوا کرتی تھی اور وہ بیٹھ کے سوزخوانی کیا کرتے تھے. گھر میں بھی ہمیشہ سے عزاداری کا سلسلہ ہے ۔ تو ظاہر ہے کہ سوزخوانی میں پہلے سرپرست اور سب سے پہلے استاد والد تھے ۔
دو حضرات عظیم المحسن صاحب کے بازو ہوا کرتے تھے. علی ناصر جعفری صاحب اور تنویر حسنین جعفری, عظیم المحسن صاحب کے انتقال کے کچھ عرصے کے بعد یہ دونوں حضرات میرے والد کے ساتھ منسلک ہوئے اور میرے والد کے
بازو بنے رہے۔ علی ناصر صاحب بہت سینئر سوز خوان تھے وہ خود سوزخوانی کے فن سے بخوبی واقف تھے اور بہت پیاری سوزخوانی کرتے تھے اور انکی بہت پیاری آواز تھی تنویر حسنین صاحب علی ناصر صاحب کے بھی بازو تھے اور معشوق علی خان صاحب اور عظیم المحسن صاحب کے تو بازو تھے ہی. یہ جب میرے والد سے منسلک ہوئے تو ان دونوں حضرات سے مجھے بہت سیکھنے کا موقع ملا, اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں حضرات بحیثیت سوزخوان خود بھی سوزخوانی کیا کرتے تھے. تو میں بیک وقت 3 سوزخوانوں کا بازو تھا.
اپنے والد کا, علی ناصر صاحب کا اور تنویر حسنین صاحب کا.
ان میں علی ناصر صاحب صرف آس لگوایا کرتے تھے. اور اتوار کو گھنٹوں صرف آس لگواتے تھے.
کیونکہ جستجو خود تھی اور محنت کرنے کی صلاحیت تھی تو مستقل ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ان لوگوں کی ادائیگی کو دیکھنا, سننا سمجھنا لفظ کی ادائیگی کے اوپر غور رکھنا. شعر کی معنویت کے حساب سے اس کی پڑھت پہ غور رکھنا یہ وہ چیزیں ہیں جو کہ خدا کا شکر ہے کہ میسر ہوئیں.
لڑکپن میں جب میں پیش خوانی کا آغاز کیا اپنے والد کی سے پہلے کچھ پڑھ دیا کرتا تھا ۔ میرے والد کی انچولی میں کافی مجالس میں سوز خوانی ہوا کرتی تھی. تو وہاں بہت سراہنے والے لوگ موجود تھے. اس وقت سوزخوانی کو بہت سمجھنے والے لوگ تھے وہاں. بہت اچھا ماحول تھا انچولی کا انیس سو ستر کے اوائل سے اور انیس سو اسی کی دہائی تک بہت سمجھنے والا ماحول تھا اور وہیں پہ فن بہت سراہا گیا.
ایسا لگتا تھا کہ وہ ایک بہت خوبصورت گلدستہ تھا فیڈرل بی ایریا بیس نمبر سادات کالونی ایسا تھا کہ تقریباً ہر محلے میں بہت پڑھے لکھے لوگ رہا کرتے تھے اور سوزخوانی کو سمجھنے والے ہیں ادب کو اور شاعری کو سمجھنے والے لوگ دانشور لوگ رہا کرتے تھے. تو اس ماحول میں تو ظاہری بات ہے پھر اگر انسان میں خود جستجو ہو تو وہ آگے بڑھتا ہے اور چیزیں سامنے آسان ہو کے آتی رہتی ہیں۔۔
اسی طرح آباد محمد نقوی صاحب بہت شفقت فرماتے تھے اس زمانے میں چونکہ میں پیش خوانی کرتا تھا تو انہوں نے میرے والد سے بہت دفعہ کہا کہ علی اکبر کو میرے پاس بھیجیں.
میں آباد نقوی صاحب کے پاس حاضر ہوا انہوں نے بہت شفقت سے بات کی ۔سوز خوانی کے بارے میں سمجھایا خاص طور پہ کی ادائیگی کس طرح کی جائے ۔ راگ کیسے پڑھے جاتے ہیں۔
اباد نقوی صاحب کے ایک بازو اور ان کے ایک عزیز تھے ۔ محسن امروبی صاحب تھے. یہاں ان کا ذکر بہت ضروری ہے. ان کی آواز میں بہت مٹھاس تھی اور وہ خود ُسروں کا بہتا ہوا دریا تھے. کم از کم پینتیس برس ریڈیو پاکستان پہ آپ نے مختلف اساتذہ کے ساتھ راگ راگنی کے پروگراموں میں تانپورہ بجایا ۔انکے ریڈیو پر پروگرام ہوا کرتے تھے وہاں پہ وہ شرکت کیا کرتے تھے بہت بڑے فٹکار تھے ۔انہوں نے بہت رہنمائی فرمائی, خصوصیت کے ساتھ;
– سوز کی ادائیگی کیسے کرنی چاہیے.
– اس میں کیا معنویت ہے اور کتنا سجا کے پڑھنا چاہیے ۔
– الفاظ کی ادائیگی کیسے ہونی چاہیے .
– لفظوں کی ادائیگی میں بہت توقف نہ ہو.
– لفظ پہ لفظ چڑھا ہوا نہ آرہا ہو. – اور بالکل ملے ہوئے نہ ہوں.
– کس طرح بیچ میں سانس لینی ہے کہ سامع کو احساس نہ ہو.
محسن صاحب سے سیکھنے کا بہت موقع ملا اور انہوں نے بغیر کسی بخل کے بہت پیار سے تمام چیزیں سمجھائیں.
میں انکا بڑا احسان مند ہوں اور ان تمام حضرات کا شکرگزار اور احسان مند ہوں جنہوں نے بہت شفقت سے مری سوزخوانی کے سفر میں رہنمائی کی اور مجھے مرحلہ وار بتاتے رہے اور تمام باتیں مجھے سمجھاتے رہے.
دادا کے گھر مجالس میں ایک مرثیہ گو شاعر بھی ہوا کرتے تھے حکیم محمد کاظم صاحب ان کا ضرور کروں وہ بہترین شاعر تھے اور خصوصیت سے مرثیہ گو شاعر تھے وہ سوز خوان بھی تھے اس کا تعلق ساداتِ بارہ سے تھا۔ انہوں نے بھی مجھے سادات بارہہ کے انداز کی سوزخوانی جو وہ کیا کرتے تھے اور ان کی مرثیے طرزیں کیسے پڑھی جاتی ہیں اور اپنے زمانے میں ہندوستان میں انہوں نے کس کس طریقے سے سوزخوانی دیکھی۔ کن کن حضرات کی سوزخوانی انہوں نے سنی اور یہ سب باتیں جو انہوں نے سمجھائی اور یہ بھی سوزخوانی کے سفر میں ہماری قدم قدم پر اصلاح کرتے رہے.
آخر میں یہ تذکرہ کروں گا کہ تقریبا کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان میں کہ جس زمانے میں ریکارڈنگ ہوا کرتی تھی میں نے انیس سو اٹھاسی نواسی سے لے کے انیس سو چورانوے تک سوز خوانی ریڈیو پاکستان پہ ریکارڈنگ کروائی ہے.
علی ناصر صاحب اور تنویر صاحب کی بھی ریکارڈنگ ہوتی تھی ان کے ساتھ میں بحیثیت بازو جایا کرتا تھا. بیچ میں کوئی ایک دو کلام میں بھی پڑھا کرتا تھا ۔
وہاں پہ دوران ریکارڈنگ زوار حسین صاحب سے ملاقات ہوئی اور زوار حسین صاحب کو بھی موسیقی پر بہت عبور تھا۔ انکی بہت میٹھی آواز تھی اور وہ اپنے گلے کو اور ان کی آواز عمدہ طریقے سے استعمال کرتے تھے۔ سوزخوانی میں انکی بالکل الگ کیفیت ہوتی تھی.
ہر آدمی کا پڑھنے کا اپنا منفرد انداز ہوتا ہے۔ جتنے بھی پڑھنے والوں کا میں نے تذکرہ کیا, آباد نقوی صاحب, علی ناصر صاحب, تنویر صاحب, حکیم محمد کاظم صاحب, عظیم المحسن صاحب, محسن امروہوی اور زوار حسین صاحب, یہ سب اپنی اپنی جگہ بہترین پڑھنے والے تھے. ان سب کی آواز کی کوالٹی الگ الگ تھی. اور یہی ایک بہت اچھی بات ہے.
تو یوں مجھے تربیت حاصل کرنے کے لئے ایسا منفرد مجموعہ ملا ۔مختلف چیزیں ان تمام حضرات سے سیکھیں سمجھیں ان کو آموختہ کیا. ان کو دہرایا, اس پہ محنت کی اور معاملہ بنتا چلا گیا. یہ بہت ایک طویل سفر ہے جو پیش خوانی سے سوزخوانی تک آیا ہے. اور ابھی سفر الحمداللہ جاری.

Ìس _ آپ نے خود کتنے شاگرد تربیت کئے ؟
ج_ جس طرح میرے والد نے مجھے آگے بڑھایا اور اپنی جگہ دی۔ اپنا انداز دیا ۔ اپنی پڑھت سکھائی اسی طریقے سے یہ مجھ پہ فرض ہے کہ میں اس فن کو اسی طرح آباد رکھوں اور پروردگار سے دعا ہے اور اپنے مولا سے دعا ہے کہ اسی طریقے سے میرے مولا کی مدد شامل حال رہے اور میرے بعد میرے بچے میرے بیٹے اور میری بیٹی عزاداری کے سلسلے کو جاری و ساری رکھیں اور یہ بزرگوں سے ملی ہوئی امانت آگے منتقل ہوتی چلی جائے. جیسے ہمیں اپنے پرکھوں سے ملی ہے. اب آگے نسلوں تک منتقل کی جا سکے. ایک نسل ہٹتی ہے دوسری نسل اس کی جگہ لیتی ہے. الحمد للہ میرا بڑا بیٹا تقی جواد میرا دست راست ہے اور کیونکہ میں نوحہ خوانی بھی کرتا رہا ہوں, سوز خوانی کے ساتھ ساتھ, اس لیئے اس کو ماشاءاللہ نوحہ خوانی کا بہت شوق ہے اور بہت اچھی نوحہ خوانی کرتا ہے. اور سوزخوانی میں میرا بازو ہے.
میرے منجھلے بیٹے محسن مصطفی, کو سوزخوانی کا شوق ہے وہ میرے ساتھ سوزخوانی میں بیٹھتا ہے.
سوزخوانی کا شوق سب بچوں میں ہے اور بصد شوق مرثئیے میں میرے ساتھ بیٹھتے ہیں۔
الحمدللہ میرے مولا کی مدد ہے, نسل در نسل اسی طرح جاری و ساری رہے گی.
میری پوری زندگی کا سرمایہ اور اساسہ یہ عزاداری کا سلسلہ ہے, یہ سوزخوانی ہے اور ایک امام باڑہ ہے, محفل سکینہ, جو بہت مہنتوں اور کاوشوں سے تکمیل کے مراحل تک پہنچا ہے. میری رہائش بھی اسی امام باڑے میں ہے. جو کراچی میں نیو رضویہ سوسائٹی میں واقع ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ میرے مولا نے مجھے اس قابل کیا کے میں نے اپنے والد اور والدہ کے ایک امام باڑہ بنانے کے خواب کو پورا کیا.
عزاداری ہم لوگوں نے نیو رضویہ سوسائٹی میں 1992 میں آغاز کردی تھی. اور عزا خانے کی عمارت کی بنیاد سن 2001 میں رکھی, اور آہستہ آہستہ تعمیرات کا سلسلہ جاری رہا. یہ وہی عزاداری کا سلسلہ ہے جو قیام پاکستان کے بعد ہمارے بزرگوں نے فاطمہ جناح کالونی, جمشید روڈ پر قائم کیا تھا. 1948 میں ایک گھر میں قائم کی گئی عزاداری اب ماشااللہ شہر کراچی کی مقبول عزاداریوں میں سے ایک ہے.
یہ میرے والدین کی دعا ہے اور وہ خلوص نیت ہے جو ان لوگوں نے مجھے منتقل کی.
انشاءاللہ العزیز میرے مولا کا صدقہ ہے کہ یہ عزاداری کا سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا اور مولا کی خدمت اس در محمد وآل محمد کی خدمت, ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اسی طریقے سے بلکہ ہم سے بھی بہتر انداز میں کرتی رہیں گی. انشاءاللہ, الحمد للہ.
س _ سامعین کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گے ؟
ج ۔بالکل پیغامات ہیں سامعین کے لیے بھی عزاداروں کے لیے بھی ہے. اور مرثئے خوان اور نوجوان سوز خوانوں کے لیے بھی ہیں ۔
پہلا پیغام میرا ابھرتے ہوئے نوجوان سوزخوانوں سے ہے کہ مجلس طرز ز ندگی ہے یہ وہ بستہ وہ امانت ہے , جو بظاہر کپڑے کا ایک بستہ ہے اس میں آپ کی بیازیں ہیں یہ ایک طرح آپ کا طرز زندگی ہے آپ کا اوڑھنا بچھونا ہے کچھ ہو جائے.
آپ کو بحثیت سوز خوان درجہ دیا گیا ہے, پڑھنے کے لئے مدعو کیا گیا ہے, تو آپ کا لباس کیونکہ آپ چوکی پہ بیٹھتے ہیں تو ایسے لباس کا انتخاب کریں جو کہ سوز خوانی کے لیے مناسب ہو. میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اس بدلتے ہوئے کلچر میں لباس کا خیال فرائض کے مطابق نہیں. میرے. نوجوان دوست امید ہے میری بات سمجھ گئے ہوں گے.
ہم لوگوں کو یا لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے لباس انتخاب ایسا کریں جو آپکی شخصیت کو قابلِ احترام بنا دے اور اس کی عزا سے موضونیت ہو.
دوسرا پیغام سامعین کے لیے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سوزخوانی ہو رہی ہوتی ہے اور سامعین حضرات موبائل پر سوشل میڈیا پر ایکٹیو ہوتے ہیں. اب اگر تھوڑی سی دیر کے لیے ہم مجلس کے فرش کے اوپر آ کے بیٹھ گئے کم از کم اتنی دیر یا تو موبائل کو سائلینٹ کرکے رکھ لیں.
پیغامات اور بھی بہت ہیں مگر انشاءاللہ پھر کبھی.
میں آپ کا اور عالمی اخبار کا ممنون ہوں کے مجھے اس قابل سمجھا کے سوزخوانی اور عزاداری پر کچھ میری یادداشتیں قلم بند کیں .
بہت ممنون ہوں ۔۔
علی اکبر نقوی صاحب ایک مصروف سوز خوان, شاعر, منقبت خواں ہیں اور ذاتی زندگی میں بھی بیشمار کام سر انجام دے رہے ہیں. انکا عالمی اخبارکے لئے انتہائی قیمتی وقت میں سے چند لمحات نکالنا ہمارے لئے عزت افزائی کا باعث ہے خدا انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور زندگی کے ہر شعبے میں انکی کامیابی نظر آئے
آمین ۔۔
روما رضوی














بہت فکرانگیز مکالمہ۔ سلامت رہیں۔ اجرکم من الحسین علیہ السلام
انتہائی معلوماتی اور پر اٹر انٹرویو! یہ روایتی اور مذہبی ورٹہ قائم و دائم رہنا چاہیے اور نوجوانوں کو اس فن کو پوری تندہی سے نہ صرف سیکھنا چاہیے بلکہ اس روایت کو محفوظ بنانے میں پوری دلچسپی سے ؑمل پیرا ہونا چاہیے!
یہ ہمارے بزرگوں کا بہت قیمتی ورٹہ ہے۔
خوبصورت اور مفصل انٹرویو
تمام سوالات کے جامع
جوابات قابل ذکر ہیں