کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری: وزیر اعظم نے آئین توڑا ہے، ان کو جواب دینا ہوگا، شاہد خاقان عباسی

0
588

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے چند روز قبل کراچی کے ایک ہوٹل کا کمرہ توڑ کر لیگی رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کا الزام وزیر اعظم پر لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ احکامات وزیر اعظم کے علاوہ اور کوئی نہیں دے سکتا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک محب وطن نے گزشتہ روز کراچی کے آرٹلری تھانے میں ایف آئی آر کے لیے درخواست دی تھی جو ابھی تک درج نہیں ہوسکی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم صاحب کو صوبے کے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کرکے ملوث لوگوں کو سزا دینے کا وعدہ کرنا چاہیے تھا تاہم انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی پولیس 22 گریڈ کے افسر ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی بھی 22 گریڈ کے افسر ہیں اور ڈی جی رینجرز 21 گریڈ کے افسر ہیں، قانون کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف اپنے افسران کی تفتیش کرسکتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غلط کام تو نہیں کیا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’آرمی چیف جب فوج کے ذریعے تفتیش کریں گے تو وہ صرف اس حد تک ہو سکتی ہے کہ احکامات قانونی تھے یا نہیں، ہوٹل کو توڑنے کی تفتیش کا دائرہ اختیار فوج کے پاس نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس ملک میں اعلیٰ افسران کو اغوا کیا جائے، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جائے وہاں کون خود کو محفوظ سمجھے گا، اس کی تمام ذمہ داری وزیر اعظم کی ہے، آئی ایس آئی اور سندھ رینجرز وزیر اعظم کو رپورٹ کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے ہی ان دونوں اداروں کو ہدایات دی ہیں کیونکہ یہ ادارے کسی اور کے تابع نہیں‘۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہر پاکستانی کی نظر میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا غیر قانونی اقدام ہے، کیا افسران کو عمران خان کے احکامات کو قبول کرنا چاہیے تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کو جواب دینا ہوگا انہوں نے آئین کو توڑا ہے، انہوں نے نہ صرف اپنا حلف توڑا بلکہ افسران سے بھی ان کا حلف توڑنے کا کہا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم اگر عوام کی تکلیف اور معیشت کو چھوڑ کر ان کاموں میں لگ جائے تو ملک کا کیا بنے گا‘۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ’ایک افسر کو اغوا کیا گیا، آئین کو توڑا گیا مگر عدالتوں نے نوٹس نہیں لیا، یہ لمحہ فکریہ ہے، معاملات غیر معمولی نوعیت کے ہوگئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بھی توقع تھی کہ یہ معاملہ سینیٹ میں اٹھایا جائے گا اور کمیٹی قائم کی جائے گی تاہم یہ بھی نہیں ہوا، پارلیمان بھی مفلوج ہے عدالتیں بھی خاموش ہیں تو انصاف کہاں سے ملے گا‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں اُمید ہے کہ عدالتیں اس پر از خود نوٹس لیں گی اور نہیں لیتیں تو ہم قانونی حق رکھتے ہیں‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY