نعت کا ایک منفرد انداز منور بدایونی

0
1677

پیدائشی نام ثقلین احمد، منور بدایونی کے نام سے شہرت پائی۔ منور تخلص ہے۔ مسلک میں حنفی سنی، نسب میں صدیقی اور مشرب میں رحمانی تھے۔ منور بدایونی کی ولادت 2 دسمبر 1908ء بدایوں انڈیا میں ہوئی۔ آپ کے والد حکیم حسنین احمد مورخ بدایونی معروف شاعر اور فن تاریخ گوئی میں شہرت کے حامل تھے۔ امیر مینائی کے شاگرد عیش مینائی بدایونی اور بعد میں محمد عبدالجامع جامیؔ بدایونی سے بھی شرف تلمذ حاصل رہا۔آپ کے چھوٹے بھائی فاروق احمد محشر بدایونی بھی غزل و نعت کے بہت عمدہ اور معروف شاعر تھے۔

ء 1951میں ہجرت کے بعد کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آخری وقت تک شعبہ نعت سے منسلک رہے

نعت گوئی
منور بدایونی نے عنفوانِ شباب میں غزلیں بھی کہیں، ان کا بہاریہ کلام شائع بھی ہوا مگر پھر بعد میں اپنے آپ کو حمد ونعت، سلام و منقبت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ منور بدایونی وہ خوش نصیب شاعر ہیں کہ آپ کے اشعار زبانِ زد خلائق ہیں خصوصیت کے ساتھ اس شعر نے تو آپ کو ہمیشہ کے لیے امر کردیا ہے۔

جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

منور بدایونی کا یہ حمدیہ قطعہ بھی بہت معروف ہے۔

جب تری شان کریمی پہ نظر جاتی ہے

زندگی کتنے مراحل سے گزر جاتی ہے

بے طلب مجھ کو دیے جاتا ہے دینے والا

ہاتھ اُٹھتے نہیں نیت مری بھر جاتی ہے

معروف نعتیں
نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے [1]
صبح میلادالنبی ہے کیا سہانا نور ہے
نعت محبوبِ داور سند ہو گئی
اللہ نے یہ شان بڑھائی ترے در کے [2]
سر ِ میدان ِ محشر جب مری فرد عمل نکلی
تظمین بر : مرحبا سید مکی مدنی العربی
تصانیف
منور نعتیں | منور غزلیں | منور قطعات | منور نغمات | کلیات ِ منور

وفات
بروز جمعۃ المبارک بوقت شام سات بجے، ۳؍رجب المرجب ۱۴۰۴ھ بمطابق 6 اپریل 1984ء کو کراچی میں وصال ہوا

SHARE

LEAVE A REPLY