ہر ایک غم سے فزوں تر حسین کا غم ہے
ازل سے تا دمِ محشر حسین کا غم ہے
اس ایک غم پہ کسی کی اجارہ داری نہیں
ہر ایک روح کے اندر حسین کا غم ہے
صفدر ھمدانی
ادارہ عالمی اخبار محترمہ انجم قدوائی کا شکر گزار ہے ان معلومات کے لئے
بابو مرتضی حسین خاں جو فیض آباد ضلع کے ایک گاؤں دیو گاؤں کے راجہ صاحب کے چھوٹے بھائی تھے
دیو گاؤں میں عزاداری ہوتی تھی جب مرتضیٰ حسین خان بہارپور رہنے کے لئے آئے تو یہاں عزاداری کا کوئی ماحول نہیں تھا اس لئے شروع شروع میں ان کو بہت تکلیف ہوئی اسی باعث محرم کرنے ردولی چلے جایا کرتے تھے ۔
. مرتضیٰ حسین خان نے ۱۹۲۳ میں بہار پور میں امام بارگاہ تعمیر کروائی اور آس پاس کے شیعہ حضرات کو بلایا اور عزاداری کی بنیاد رکھی ۔
ان کو کر بلا کی زیارت کی بہت تمنا تھی وہ کئ بار کربلا اور دیگر مقامات پر زیارت کے لئے گئے ۔
اسی درمیان بصرہ میں ان کا انتقال ہوگیا آج بھی ان کی قبر بصرہ میں ہی موجود ہے ۔
بہار پور کے قریب ستھن نام کا ایک گاؤں ہے ۔وہاں پہلے کافی شیعہ حضرات رہائش پزیر تھے ۔وہا ں ایک امام باڑہ بھی تھا ۔
لوگ آہستہ آہستہ دوسری جگہ منتقل ہوئے تو امام باڑے کا خیال رکھنے والا کوئ نہیں رہا ۔عزا خانے کی چھت گری اور پوری عمارت منہدم ہوگئ ۔
اس امام باڑے میں ایک بہت طویل و عریض لوہے کی ضریح موجود تھی جو امام باڑہ گرنے سے زمین میں دھنس چکی تھی ۔
وہاں کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو اس عمارت کو دوبارہ تعمیر کرواتا ۔اس لئے مر تضی حسین خان کے بیٹے ضیغم علی خان نے اس ضریح مبارک کو وہاں سے نکلوایا اور بہارپور کی اس امام بارگاہ میں اس کی مرمت کروائی اور شہ نشین پر رکھا جو ان کے والد صاحب نے تعمیر کروایا تھا ۔
ابھی تک یہ ضریح مبارک یہاں موجود ہے ۔درمیان میں کئ بار اس کو ٹھیک کیا گیا پالش کی گئی، پچھلے دو برس پہلے لکھنو سے کاریگر بلاکر اس کو دوبارہ ٹھیک کرایا گیا اورپالش وغیرہ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کا ثواب حسن امام زیدی اور رضا علی خان کو مولا ضرورعطا فرمائیں گے ۔آمین
محمد ضیغم علی خان کے بیٹے رضا علی خان آج کل اس امام بارگاہ کی دیکھ بھال اور حفاظت کرتے ہیں ۔محرم میں پورے گاؤں کے تعزیہ یہاں رکھے جاتے ہیں اورروز مجلس کا اہتمام ہوتا ہے ۔
مرتضیٰ علی خان پانچ محرم کو حضرت حر کاجلوس اٹھایا کرتے تھے جو محمد ضیغم علی خاں نے قائم رکھا اور اب رضا علی خاں اسی اہتمام سے جلوس اٹھاتے ہیں، کئی انجمنیں آتی ہیں چائے اور طعام کا انتظام کیا جاتا ہے ۔
تبرکات کربلا سے ماتم کرتے ہوئے گھر لائے جاتے ہیں ۔تبرکات میں ایک طویل علم ۔تعزیہ گہوارہ اور تابوت شامل ہیں ۔

راجہ اعظم علی خان
نو محرم کو گاؤں والے اپنے اپنے تعزیے نوحہ پڑھتے ہویے اپنے اپنے گھر کے سامنے بنے ہوئے چوک پر رکھنے کے لئے لے جاتے ہیں اور ساری رات نوحہ و ماتم کا اہتمام رہتا ہے ۔دس محرم کو سب سے پہلے اسی امام بارگاہ سے جلوس برآمد ہوتا ہے اور راستے میں باقی تعزیے آکر شامل ہوتے ہیں اور کربلا پہنچتے پہنچتے جلوس ایک عظیم قافلے کی شکل ہوجاتا ہے ۔تعزیے دفن کئے جاتے ہیں اور سارے لوگ ننگے پیر واپس آتے ہیں ۔
آخری مجلس کا اہتمام ہوتا ہے ۔عصر کے وقت فاقہ شکنی کی جاتی ہے ۔
شام غریباں کی مجلس رات کو کر بلا میں منعقد ہوتی ہے جہاں خواتین پہلے ہرغار پر شمع اور اگر بتیاں جلاتی ہیں ۔اندھیرا ہوتا ہے صرف دس تاریخ کے چاند کی روشنی میں زمین پر شام غریباں کی مجلس بر پا کی جاتی ہے ۔
جس کے گلے پہ دیتے تھے بوسہ رسول پاک
نوک سناں پہ محو تلاوت تھا وہ حسین
نام یزید جس نے مٹا ڈالا حشر تک
صفدر خدا کے دین کی قسمت تھا وہ حسین
صفدر ھمدانی













