پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 14 اکتوبر کو ملک کے 41 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سمندر پار پاکستانیوں کو ‘آئی ووٹنگ’ کے ذریعے ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کردی۔

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ کہا گیا کہ حکومت نے آئی ووٹنگ کا فیصلہ جلد بازی میں کیا جس سے دھاندلی قبل از انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں مسلم لیگ (ن) نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) آئی ووٹنگ کے معاملے پر تمام پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے اور اس سلسلے میں تکنیکی ماہرین کو مطمئن کرے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی، بجلی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سزا اور پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبو ں کے لیے فنڈز کی معطلی کے معاملے پر دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرے گی، تاکہ حکومت پر ان کے حل کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔

مذکورہ اجلاس میں 5 مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے اراکین نے بھی شرکت کی۔

بیان میں نواز شریف کو ’سیاسی قیدی‘ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ان پر بدعنوانی کا الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود انہیں ضمانت نہیں دی جارہی جبکہ اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

اجلاس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کی تحقیقات جاری ہونے کے باوجود نیب کے چیئرمین جاوید اقبال کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ملاقات قوانین کے خلاف تھی۔

اس کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے بلدیاتی نظام میں ترمیم کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی گئی اور اس سلسلے میں بلدیاتی نمائندوں پر مشتمل گرینڈ کنوینشن بلانے پر اتفاق کیا گیا، جس میں مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ وہ پارلیمان کے اندر اور باہر مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی، اس کے ساتھ اس نے موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی پر بھی یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ ’خارجہ امور پر حکومت کے حالیہ فیصلوں سے دنیا بھر میں ملک کو خفت اٹھانا پڑی۔

SHARE

LEAVE A REPLY