قسط چھیاسٹھ
امام حسین علیہ السلام
مولائے کائینات علی علیہ السلام
اور جگر گوشہ رسول
سیدہ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فرزند ہیں
آپ کی ولادت باسعادت 3 شعبان 4 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی
آپ کی زندگی اور شخصیت کو نمایاں کرنے والے اہم واقعات میں سے
قرآن پاک کی بعض آیات کا نازل ہونا ہے
ان میں سے
آیت تطہیر،آیت مباہلہ، سورۂ الانسان (دہر) نہایت اہم ہیں
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارک ہے
آپ ص کا سلسلۂ نسب
آپ کی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا سے چلے گا
کئی احادیث میں
امام حسن ع اور امام حسین علیہما السلام کو
“ابنی” یعنی اپنا بیٹا کہا
آپ کی ولادت کے بعد
جبرائیل پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں تشریف لائے
اور حق متعال کا درودو سلام پہنچانے کے بعد عرض کی
اس مولود مبارک کا نام ہارون کے چھوٹے بیٹے’’شبیر‘‘کے نام گرامی پر رکھیں
جو عربی میں ’’حسین‘‘کا معنی دیتا ہے
اور اس اسم گزاری کی وجہ اس طرح سے بیان فرمائی
کہ
علی ابن ابی طالب آپ کے لیے ہارون کی طرح سے ہیں
یعنی جس طرح ہارون موسیٰ علیہ السلام کے جانشین تھے
اسی طرح علی ابن ابی طالب آپ کے جانشین ہیں
لہٰذا ہارون کے بیٹوں کے جو نام تھے
آپ انہی ناموں کو اپنے فرزندوں کے لیے انتخاب فرمائیں
سو آپ کا نام “حسین “ رکھا گیا
جو عرب میں پہلی مرتبہ رکھا گیا پہلا نام تھا
امام حسین ع کی نانی خدیجہ بنت خویلد تھیں
اور ان کے دادا ابو طالب اور دادی فاطمہ بنت اسد تھیں
آپ چھ سال اور چند مہینے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے
اور تیس سال اپنے والد محترم مولائے کائینات علی علیہ السلام کے کے ہمراہ رہے
آپ کے بچوں نے راہ حق میں لازوال قربانیاں دیں
امام علی زین العابدین یعنی “عبادت کی زینت” (والدہ: شہربانو)
سیدہ سکینہ سلام اللہ علہیا (والدہ: شہربانو)
شہزادہ علی الاکبر (والدہ: لیلیٰ)
سیدہ فاطمہ صغری سلام اللہ علہیا (والدہ: لیلیٰ)
سیدہ سکینہ سلام اللہ علہیا (والدہ: رباب)
علی اصغر (والدہ: رباب) کے نام معروف ہیں
عالم اسلام جانتا ہے
کوئی انسان
اس وقت تک
مسلمان اور کوئی مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا
جب تک
کاملاً اس کا عقیدہ یہ نہ ہو
کہ
خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے
اس وقت تک
ایک لفظ کیا، ایک حرف بھی برآمد نہیں ہوتا
جب تک
اللہ پاک کی طرف سے وحی کا نزول نہ ہوتا ہو
جس شخص کا قرآن کریم پر ایمان ہے
وہ اس قرآنی آیت پر بھی کامل و اکمل یقین رکھتا ہے
جس میں
سید الانبیاء کے بارے میں فرما دیا گیا ہے
کہ
میرا نبی (ص) اس وقت تک نطق نہیں کرتا
یعنی بولتا ہی نہیں، بات ہی نہیں کرتا
جب تک
اس پر اس کے اللہ کی طرف سے وحی کا نزول نہ ہو
( سورہ النجم آیت 3 تا 4 )
یعنی ہر مسلمان کو سر تسلیم خم کرنا ہوگا
ہر اس بات پر
جس کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما دیں
جن عبادات کی ادائیگی کا حکم دے دیں
جس چیز یا امر کو حلال و حرام فرما دیں
سب کچھ ویسے کا ویسا ہی جاننا ہوگا
جیسے نبی پاک ص نے فرما دیا
اسی طرح
پیغمبر (ص) اگر کسی شخص کی فضیلت بیان فرما دیں
تو
اسے بغیر کسی تاویل کے تسلیم کرنا ہوگا
اور اگر کسی شخص کو جھوٹا ، پست یا فاسق وغیرہ فرما دیں
تو اسے بھی بنا کسی تردد کے قبول کرنا ہوگا
قرآنی آیات اور سیرت نبوی (ص) بتاتی ہے ۔۔ سکھاتی ہے
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
جس طرح
اپنے اہل خانہ
یعنی اہل بیت کے ساتھ
اپنی قربت، محبت اور فضیلت کا ذکر کیا ہے
ویسا زکر اور پیار کسی اور کے ساتھ نہیں کیا
جس خصوصیت کے ساتھ
اپنے چچا زاد بھائی امام علی علیہ السلام
اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیھا
اور ۔۔۔۔ اپنے نواسوں
امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے
فضائل و مناقب
اور
ان کے مقام و مرتبے سے امت کو آگاہ کیا
ان محترم شخصیات کو اپنا حصہ اور نفس قرار دیا
امام علی ع کو اپنی طرح امت کا مولا و آقا قرار دیا
بیٹی سیدہ فاطمہ س کو
کائنات کی عورتوں اور جنتی عورتوں کی سردار قرار دیا
اور ۔۔
نواسوں کو
جوانان ِجنت کا سردار اور اپنے میں سے ہی قرار دیا
نبی اکرم (ص) کی طرف سے معروف و مستند فرمان ہے
’’حسین و منی وانا من الحسین‘‘
“حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں”
ایک مرتبہ
جاری ہے













