فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے خاکوں پر مسلمانوں کے غم و غصے کا ادراک ہے لیکن اس معاملے پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہفتے کو عرب نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کو دیے گئے انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ اُن کا ملک تشدد کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا، بلکہ خاکوں کی اشاعت اور اظہار رائے کی آزادی کا دفاع کیا جائے گا۔
لیکن اُن کا کہنا تھا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سرکاری سطح پر خاکوں کی اشاعت کی حوصلہ افزائی کی گئی جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دینا کے فرانس مسلمانوں کے خلاف ہے درست نہیں۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ لوگ ان خاکوں کی اشاعت سے ناراض ہو سکتے ہیں، “لیکن میں ہرگز یہ اجازت نہیں دُوں گا کہ اس بنیاد پر تشدد کیا جائے۔ کیوں کہ میں اپنے ملک میں لکھنے اور سوچنے کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔”
اُن کا کہنا تھا کہ “بطور صدر میرا کام ہے کہ میں معاملے کو ٹھنڈا کروں لیکن انسانی حقوق کا تحفظ بھی میرے لیے اہم ہے۔”
خیال رہے کہ فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد تشدد کے دو واقعات میں چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
………………………………….
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں، گستاخانہ خاکے حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔
ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایمانوئل میکرون نے اپنے ملک میں گستاخانہ خاکوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔
اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں، گستاخانہ خاکے حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔
ایمانوئل میکرون کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہیں، گستاخانہ خاکوں سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ مقامی لوگ میرے بیان کو سمجھتے تھے، اسی وجہ سے یہاں کوئی ردِعمل نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا حامی ہوں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ گستاخانہ خاکے نجی صحافتی اداروں نے شائع کیے جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں۔
واضح رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر اور پھر فرانسیسی صدر کے اسلام سے متعلق بیان کے بعد مسلم سراپا احتجاج ہے۔
پاکستان، ترکی اور ایران سمیت کئی ممالک نے اس معاملے میں احتجاج بھی کیا۔












