آیئے امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن سے ملتے ہیں

2
851

جو بائیڈن  نئے صدر منتخب ہو گئے ، وہ اٹہتر سال کی عمر میں صدارتی حلف لینے والے امریکا کے معمر ترین صدر قرار پائیں گے۔

بائیڈن کی پیدائش ریاست پینسلوینیا کی شہر سکرینٹن میں ہوئی۔ پچپن میں گھر والے ریاست ڈیلاویئر متقل ہوگئے۔ انہوں نے 1972میں وہاں سے امریکی سینٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتا۔ اور پھر بار بار جیتتے چلے گئے۔ انہوں نے ۱۹۸۸ اور پھر ۲۰۰۸ امریکی صدارت کے لیے کوششیں کیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

جو بائیڈن نے اپنی ذاتی زندگی میں بارہا صدمے دیکھے ہیں۔ سن 1972 میں سینٹ کا اپنا پہلا الیکشن جیتتنے کے فوری بعد ان کی اہلیہ اور چھوٹی بچی ایک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ اس ایکسیڈینٹ میں ان کے دو لڑکے زخمی ضرور ہوئے لیکن بچ گئے۔ جو بائیڈن کو اس وقت اپنی رکنیت کا حلف ہسپتال سے اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے دوران لینا پڑا تھا۔

پھر سن 2015۵ میں ان کے صاحبزادے بیو بائیڈن کا دماغی کینسر کے باعث انتقال ہوگیا۔ جو بائیڈن کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ ان کے صاحبزادے مقامی سیاست کے ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھے جا رہے تھے اور سن 2016 میں ریاستی گورنر کے عہدے کے الیکشن کی تیاری کررہے تھے۔

ڈیموکریٹ ووٹرز کی نظر میں جو بائیڈن جس انداز میں نجی زندگی میں ان سانحات سے نمٹے، اس سے ان کی ہمت اور حوصلے کا اندازہ ہوتا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران جو بائیڈن نے بارہا اپنے ان تجربات کا ذکر کیا اور امریکا کے نظام صحت میں اصلاحات پر زور دیا۔

ملنسار شخصیت

صدر ٹرمپ کی نسبت جو بائیڈن کو ایک نسبتا ملنسار اور عوامی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ عوام میں اپنے جوش خطابت کے لیے اتنے مشہور نہیں جتنا اپنی خوش اخلاقی اور لوگوں میں گھل مل جانے کے لیے۔

لیکن اس سال انہیں ان کی یہ خوبی اس وقت کچھ بھاری پڑگئی جب انتخابی مہم کے دوران کچھ خواتین کی طرف سے ان پر غیراخلاقی حرکتوں کے الزامات لگائے گئے۔ جو بائیڈن نے ان سے انکار کیا اور کہا کہ خواتین کے ساتھ ان کے بےتکلفانہ رویے کو غلط رنگ دے کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔

خارجہ امور کے ماہر

صدر ٹرمپ کے برعکس جو بائیڈن عالمی سفارتکاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ تین بار سینٹ کی طاقتور امور خارجہ سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ سن ۲۰۰۸ میں جب وہ صدر باراک اوباما کے نائب صدر کے امیدوار قرار پائے تو اس میں ان کے اس تجربے کا بڑا عمل دخل تھا۔

صدر اوباما کی طرح جو بائیڈن عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ گمبھیر تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ صدر منتخب ہونے کی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اوباما دور کا ایٹمی معاہدہ بحال کرنے کی کوشش کریں۔

جو بائیڈن اور پاکستان

صدر ٹرمپ کی نسبت جو بائیڈن پاکستان کو بھی بخوبی جانتے ہیں اور پاکستان کے کئی دورے کر چکے ہیں۔ پچھلی تین دہائیوں کے دوران ان کے پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں اور وہاں سول ملٹری عدم توازن کے مسئلے سے بخوبی واقف ہیں۔

سن 2008 میں انہوں نے ریپبلکن قیادت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے اربوں ڈالر کی امداد کا پیکج تیار کیا جس کا نام “بائیڈن لوگر بل” تھا۔ تاہم ان کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعد اس بل کا نام وزیر خارجہ جان کیری کے نام سے منسوب ہوا اور سن 2009 میں صدر اوباما نے “کیری لوگر بل” کی منظوری دی۔

جو بائیڈن سمیت امریکی قیادت کی خواہش تھی کہ اس امداد کے ذریعے پاکستان کو جمہوریت کے تسلسل، آزاد عدلیہ اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف ایکشن کی ترغیب دی جائے۔ لیکن پاکستان میں عسکری قیادت کے شدید اعتراضات کے بعد یہ امدادی پیکج متنازعہ بن گیا۔

بائیڈن نے ڈیلاویئر یونیورسٹی اور سیراکیوز اسکول آف لا سے ڈگری حاصل کی۔ 1972 میں محض 29 سال کی عمر میں وہ امریکی سینیٹ کے رُکن منتخب ہوئے۔

لیکن اس کامیابی کے کچھ ہی ہفتوں بعد بائیڈن کو ایک خاندانی المیے کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی اہلیہ اور ایک سالہ بیٹی کرسمس کی شاپنگ کے دوران گاڑی کے حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔

اس سانحے کے بعد انہوں نے اپنے دو بیٹوں کی دیکھ بھال کی خاطر 36 سال تک روزانہ ڈیلاویئر اور واشنگٹن کے درمیان ٹرین کا سفر کیا تاکہ رات اپنے بچوں کے ساتھ گزار سکیں۔ اُنہوں نے 2008 میں امریکہ کا نائب صدر منتخب ہونے تک یہ معمول برقرار رکھا۔ بعدازاں وہ واشنگٹن ڈی سی منتقل ہو گئے۔

اپنی بیوی کی ہلاکت کے کئی سال بعد بائیڈن نے جل جیکب ٹریسی سے دوسری شادی کی۔ جل بائیڈن تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں۔۔
بائیڈن 1987 اور 2007 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نمائندگی حاصل کرنے کے خواہاں رہے۔ لیکن دونوں بار وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن 2008 میں براک اوباما نے اُنہیں اپنے ساتھ بطور نائب صدر نامزد کیا۔ 2012 میں وہ دوبارہ ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

اہم قومی معاملات پر مؤقف
بطور سینیٹر بائیڈن جرائم کی روک تھام اور آتشیں اسلحے پر پابندی سے متعلق قانون تیار کرنے میں شریک رہے۔ یہ پابندی 10 سال، 2004 تک برقرار رہی تاہم اس میں توسیع نہیں کی گئی۔

جو بائیڈن جرائم کے خلاف سخت سزاؤں کے حامی بھی رہے ہیں۔ تاہم بعد ازاں اُنہوں نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی جیلوں میں پہلے سے ہی بہت سے قیدی ہیں۔

بائیڈن خواتین کے خلاف تشدد کا بل کانگریس سے منظور کرانے کو اپنی اہم کامیابی شمار کرتے ہیں۔ یہ بل 1994 سے 2018 تک نافذ العمل رہا تھا۔

جو بائیڈن کے سیاسی کریئر میں 1987 میں سینیٹ میں ہونے والی سماعتوں کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ بائیڈن کی صدارت میں سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی نے قدامت پسند جج رابرٹ بورک کی بطور جج نامزدگی کو مسترد کیا تھا۔

بائیڈن کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہیں سے ری پبلکن اور ڈیمو کریٹکس کے درمیان اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کے معاملے پر اختلافات کی خلیج بڑھی۔

SHARE

2 COMMENTS

  1. امریکہ کے نئے صدر کے بارے میں انتہائی معیاری معلوماتی

LEAVE A REPLY