گاہے گاہے باز خواں ایں ….قسط نمبر 19 ,نصرت نسیم

0
890

زندگی ایک مخصوص ڈگر پر چل رہی تھی ۔اداسی کی گھمبیرتا میں لپٹی ہوئی، خط کا انتظار کرتے ہوے اور پھر اس کا جواب لکھتے ہوئے ۔کہ اچانک انکل لوٹ آئے ۔سارے گھر والے خوشی سے پھولے نہ سمائے ۔ڈیڈی کو تو جیسے نئ زندگی مل گئ ۔کئ دن تک لوگ مبارک باد کے لئےآتے رہے ۔کہ ان زمانوں میں لندن جا کر واپس آ جانا بڑی بات تھی ۔اب ڈیڈی بے چین کہ کیسے جلد از جلد اکلوتے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھیں ۔لہذا وہ بار بار خالاؤں کو ڈانٹ کر کہتے کہ جاو جاکر لڑکی تلاش کرو ۔آخر تم لوگوں کو کوئی گھر پر آکر تو لڑکی نہیں دے گا ۔کئ جگہوں پر لڑکی دیکھی مگر ان کے معیار اور پسند پر کوئی پوری ہی نہ اترے ۔لائل پور امی کی ایک کزن تھی ۔ان کی ایک بیٹی کی تعریف سنی تھی ۔فیصلہ ہوا کہ لائل پور (اس وقت یہی نام تھا)جا کر دیکھتے ہیں اس کو ۔پہلے ہم سب لا ہور گئے اور وہاں سے بذریعہ ریل کار روانہ ہوئے ۔ریل کار سے سفر کی خوشی کے ساتھ ساتھ سارے راستے شادی کے پروگرام اورکپڑوں کی ڈیزائننگ کرتے رہے ۔ وہاں انہوں نے ہماری خوب آو بھگت اورمہمان نوازی کی ۔جس لڑکی کو دیکھنے گئے ۔اس کے ساتھ میری دوستی ہوگئی ۔اور طویل عرصے تک ہماری آپس میں خط وکتابت رہی ۔وہ بہت خوبصورت خط لکھا کرتی ۔کہ دل چاہتا بار بار پڑھتے رہیں ۔بوجوہ رشتہ تو نہ ہو سکا ۔مگر مجھے ایک اچھی سی دوست مل گئ ۔اور خط لکھنے اور جواب کا انتظار کرنے کی مصروفیت بھی ۔بعد میں اس کی شادی کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہوگیا ۔میں بھی اپنی پڑھائی میں مگن ہوگئ ۔
ایک اور اہم واقعہ جو انکل کے آتے ہی پیش آیا ۔وہ ٹائگر کی موت تھی ۔کویاٹ کے گولٹریا کتے مشہور ہیں ۔انکل نے کتا رکھا مگر گھر میں ہم سب کی کتے سے جان جاتی تھی ۔اس کا حل یہ نکالا ۔کہ ساتھ والا دوسرا چھوٹا سا گھر جو ملازمین کے لئے مختص تھا ۔وہاں اسے رکھوادیا ۔اس کے لیے الگ سے گوشت آتا یخنی بنتی ۔انکل کے جانے کے بعد تو اوربھی اس کا خیال رکھا جاتا ۔۔65 کی جنگ میں جس گھر میں وہ تھا اس کی چھت گر گئ ۔ٹائگر بچ تو گیا مگر بہت زیادہ چپ اور بیمار رہنے لگا ۔بے سدھ سا پڑا دروازے کی طرف یوں دیکھتا جیسے کسی کا انتظار ہو ۔آخری کچھ دن تو کھانا پینا بھی چھوڑ دیا تھا ۔ایسے میں اچانک انکل لوٹ آئے ۔ٹائگر کا انتظار ختم ہوا اور وہ بھی چل بسا ۔
آتے ہوے اپنے ساتھ ایک بڑا اے سی اور فریج بھی بک کروا لاے تھے ۔اے سی کے لئے بجلی اورلگان
اتنے بڑے اے سی کے لئے بجلی اور اسے فٹ کرنے کا مسئلہ تھا ۔اس لئے اسے گھی مل والوں کے ہاتھ بیچ دیا ۔فریج البتہ سب گھر والوں کو بہت پسند آیا ۔خاص طور پر ڈیڈی کو ۔کہ طرح طرح کے جوس نکلوا کر پیتے ۔پہلے سویاں لوگ گھر میں بناتے اور تقریبا” ہر گھر میں سویاں بنانے کی مشین ہوتی ۔ہمارے گھر میں بھی اونچے اونچے پاوں والی بڑی سی مشین تھی ۔اور اب اس مشین میں انار کے دانے ڈال کر اوپر دستے کو گول گول گھماتی ،تو نیچے رکھے برتن میں جوس جمع ہوجاتا۔جس سے فریج میں ٹھنڈا کرکے ڈیڈی کو دیتی ۔آئس کریم بنا کر فریزر میں رکھتے ۔تو تھوڑی دیر میں آئس کریم جم جاتی ۔جس کو سب خوشی خوشی کھاتے ۔اس وقت فریج کہاں تھے !لہذا برف ادھر ادھر دی جاتی ۔آس پاس سے رشتے دار، دوست برف مانگنے آتے ۔کہ یہ 66 67کی بات ہے ۔آئس کریم کے لئے آموں کو ہاتھ سے مسلنا ہو یا اور کوئی کھانے پینے کی چیز ہو تو یہ صرف میری ڈیوٹی تھی کہ ڈیڈی صرف میرے ہاتھ کی چیز بلا کراہت کھا لیتے ۔ان کے خیال میں صرف میرے ہاتھ صاف ستھرے تھے۔اففففف یہ سب لکھتے ہوے محبت کے احساس میں ڈوب سی گئی ہوں۔اتنی ساری محبت ۔۔۔کہ اس کا احساس ہی وارفتگی وسرشاری لئے ہوئے ۔۔۔۔۔ میں نے پہلے بھی لکھا تھا ۔کہ صبح جگانے کی ذمہ داری بھی میری تھی ۔کہ آنکھ کھلتے ہی میرا چہرہ دیکھ کر اٹھتے ۔نیا چاند دیکھ کر بھی مجھے سامنے کھڑا کرتے ۔ان کے خیال میں، میں اتنی بھاگوان تھی کہ ان کے سارے کام اچھے اچھے ہوجاتے ۔ایسا تھا یا نہیں مگر محبت کے احساس نے بھاگوان بناے رکھا ۔بھاگوان اور سب سے زیادہ حسین ۔میری ایک خالہ جنہیں ہم سب بجو کہتے ۔وہ تو میری محبت میں حد سے گزر جاتیں ۔جب میری امی ٹل سے آتیں ۔اورمیری دو چھوٹی بہنوں کے لیے کپڑے خرید کر لاتیں اورخوشی خوشی اپنی خریداری دکھاتیں۔تو بجو یہ کہہ کر ان کے ہاتھ سے کپڑے لے لیتیں کہ چھوڑو یہ رنگ تو نصرت پر اٹھے گا ۔حالانکہ میری چھوٹی بہن صبیحہ مجھ سے زیادہ خوبصورت تھی ۔مگر بس یہ محبت کی کارستانی تھی کہ ان کی محبت بھری نگاہ مجھے سب سے بالا سمجھتی تھی ۔یہ لکھتے ہوئے جہاں ان محبتوں کے احساس نے شرابور کر دیا ۔وہاں ابھی ابھی پتہ نہیں کب سے بھولی بسری یاد لاشعور سے نکل کر نوک قلم تک آگئ ۔یہ بہت بچپن کی بات ہے ۔غالبا”چھ سات سال کی عمر کی ہوگی ۔ابھی امی لوگ ٹل نہیں گئے تھے ۔

لہذا کبھی کبھار امی کی طرف چلی جاتی ۔یہ ایک بہت بڑا مشترکہ خاندانی گھر تھا ۔جس کے اندر الگ الگ کئ گھر آباد تھے۔امی کے پاس چھوٹا سا کمرہ کنوئیں کے پاس تھا ۔جس کوکھوئئ والی کوٹھڑی کہتے ۔اب اتنے بہت سارے لوگوں اورگھروں سے گزر کر جانا بھی کسی امتحان سے کم نہ تھا ۔میں اس وقت بہت شرمیلی ہوا کرتی تھی(اب بھی کچھ کچھ ہوں)پہلے تو کتنی دیر بڑی سی ڈیوڑھی میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوجاتی ۔کہ کوئی آے تو اس کے ساتھ جاوں ۔پھر کوئی امی کو خبر کردیتا اور وہ آکر مجھے اپنے ساتھ لے جاتیں ۔گزرتے ہوے کئ تیز نگاہیں مجھے گھورتی ہوئی محسوس ہوتیں۔یہاں اپنی بہنوں سےکھیلتی ،خوش ہوتی اکثر امی سوداسلف لانے کےلئے پیسے دیتیں ۔ہم دونوں بہنیں بھاگتی دوڑتی کھیلتی ہوئی جاکر سودالے آتیں ۔مگر ۔۔۔۔یہ کیا دوڑتے ہوئے ریز گاری کہیں گرا آتیں ۔امی گن کر اورکم پاکر مجھے تو کچھ نہ کہتیں ۔کہ میں ایک دن کی مہمان ہوتی ۔)صبیحہ کے گال پر ایک زوردار تھپڑ رسید کرتیں یہ کہتے ہوے ۔کہ روزانہ ٹھیک ٹھاک سودا لاتی ہو اور جب اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔ بس یہ جملہ مجھے اندر سے شرمندہ ورنجیدہ کر دیتا ۔۔۔۔۔۔۔
آج۔۔ آج بھی کسی کی ایک نگاہ ۔۔ سرد سا رویہ مجھے اندر سے ایسے ہی پریشان اورغمزدہ کر دیتا ہے ۔بچپن سے باقی لوگوں کی تیزی طراری،چالاکیاں دیکھ کر خود کو سادہ یا(بے وقوف کہہ لیں)سمجھتی رہی ۔یہ احساس قدم قدم پر لوگوں کی چالاکیاں دیکھ کر رہا اوررفیع کایہ گانا گنگناتے رہے۔کہ
سب کچھ سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہوشیاری
سچ ہے دنیا والوں کہ ہم ہیں اناڑی

یادوں کی یہ پگڈنڈیاں بھی خوب است کہ کبھی خوشی کبھی غم لیجیے ایک اور خوشگوار یاد نے اپنی آغوش میں لے لیا ۔
سکول کی طرف سے کل مینا بازار ہے ۔بہت بڑے پیمانے پر یہ مینا بازار سکول سے باہر جہاں پرانی جیل تھی اس کے دروازے کے باہر شاید اپوا کا کسی ادارے کابہت بڑا پردہ باغ تھا ۔یہ مینا بازار صبح سے شام تک رہتا ۔سکول کی بچیاں اوراساتذہ کھانے پینے کی چیزوں کے سٹال لگاتیں ۔اس کے علاوہ ورائٹی شو بھی اندر ہال میں جاری رہتا ۔جس کے لئے الگ سے ٹکٹ لینا پڑتا ۔اس زمانے میں خواتین کے باہر نکلنے اور تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے ۔اس لئے اس مینابازار میں خواتین بڑے زوق وشوق سے شریک ہوتیں ۔لہذا اس موقع کے لیے بطور خاص اچھا سا جوڑا سلواتی ۔لیکن اس دفعہ جوڑا تیار نہ ہو سکا ۔ڈیڈی کو پتہ چلا تو گھر کے سامنے درزی کی دکان تھی ۔

خود میرا سوٹ لے کر گئے ۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ میں پلیٹ میں درزی کے لیے حلوہ لے کر اوربڑے پیار سے کہا کہ وہ میرا جوڑا سی دے ۔درزی نے گھنٹے کے اندر اندر میرا جوڑا سی دیا ۔یہ پنک رنگ کا سلک کا سوٹ تھا ۔جس کو اس زمانے میں ساٹن کہا جاتا تھا ۔66میں ٹیڈی فیشن کا دور دورہ تھا ۔تنگ پائنچے اور بند یا بہت کم چاک والی چست قمیض اس کو ٹیڈی فیشن کہا جاتا ۔درزی نے جدید فیشن کے مطابق میرا سوٹ سیا ۔صبح جب پہن کر گئ تو تمام دوستوں نے خوب خوب تعریفیں کیں ۔اتنی کہ سارا دن مینا بازار میں اڑی اڑی پھرتی رہی ۔
آج یادوں کے افق پر کیسے ماہتاب طلوع ہوے کہ دل ودماغ کو روشن کر گئے ۔
انشاءاللہ آئندہ تفصیلا”تعارف کراوں گی
اک اک کر کے ستاروں کی طرح ڈوب گئے
ہاے کیا لوگ میرے حلقہ ءاحباب میں تھے

SHARE

LEAVE A REPLY