دنیا میں پہلی بار انسانی جسم کے اندر ایک سے زیادہ جگر اگانے کا ٹرائل

0
1065

ہر انسان کے جسم میں ایک جگر ہوتا ہے مگر سائنسدان اس کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سائنسدانوں کی جانب سے ایک نئے طریقہ علاج پر کام ہورہا ہے جس کے تحت انسانی جسم میں 5 جگر اگانے کی کوشش کی جائے گی۔

دنیا کے ایسے پہلے کلینیکل ٹرائل میں ایک فرد کے جسم کے اندر ایک سے زیادہ جگر اگائے جائیں گے جو بعد میں مریضوں میں ٹرانسپلانٹ کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں
ایک عام عادت جو جگر کی تکلیف دہ بیماری کا شکار بنادے
دن بھر میں ایک بار میٹھے مشروبات کا استعمال جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھائے، تحقیق
بچوں میں جگر کی پراسرار بیماری اور کوویڈ 19کے درمیان ممکنہ تعلق کا امکان
اگر اس میں کامیابی حاصل ہوئی تو مستقبل میں مزید افراد پر اس کے تجربات کیے جائیں گے اور ماہرین کے خیال میں اس طریقہ علاج سے 6 ‘چھوٹے جگر’ اگائے جاسکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ڈونر کے جگر کے خلیات کو جگر کے امراض کے شکار مریض کے لمفی نوڈز میں اس توقع کے ساتھ داخل کیا جائے گا کہ نئے عضو اگانے میں کامیابی مل سکے گی۔

ماہرین نے بتایا کہ اس طریقہ کار سے تیار ہونے والے اعضا کو استعمال کرکے مریضوں کی مدد کرنا انقلابی قدم ثابت ہوگا۔

ویسے انسانی جگر میں خود کو نیا بنانے کی زبردست صلاحیت ہوتی ہے مگر کچھ کیسز میں عضو کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن نہیں ہوتی اور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

مگر بیماری کی شدت بہت زیادہ ہونے پر مریضوں کا ٹرانسپلانٹ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی حالت سرجری کے قابل نہیں ہوتی۔

LyGenesis نامی کمپنی کی جانب سے اس نئے طریقہ کار پر کام کیا جارہا ہے اور جانوروں میں تجربات کے دوران کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔

اس سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ انسانی ٹرائل میں بھی کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

ٹرائل میں جگر کے امراض سے بہت زیادہ بیمار 12 افراد کو شامل کیا جائے گا، ایک رضاکار کے جسم میں جگر کے 5 کروڑ خلیات کو داخل کیا جائے گا اور جسم میں جانے کے بعد ان کی تعداد 25 کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے جو 5 چھوٹے جگر تیار کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس ٹرائل کا اختتام 2 سال کے دوران ہوگا اور ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں مگر محققین کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY