کرونا کی دوسری لہر میں شدت: کیا پاکستان لاک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہا ہے؟

0
733

پاکستان میں کرونا وائرس کے مثبت کیسز اور اموات کی شرح میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ جولائی کے بعد پہلی مرتبہ بدھ کو 3000 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ کیسز میں حالیہ اضافے کے پیشِ نظر مختلف پابندیاں بھی عائد کی جا رہی ہیں۔

اس سلسلے میں ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی وبا کی روک تھام کے سلسلے میں طے کردہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہ ہونے سے کرونا کی دوسری لہر میں تیزی آ گئی ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رواں برس 26 فروری کو رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد سے جون تک اِس وبا کے پھیلاؤ میں تیزی دیکھی گئی۔ تاہم جولائی میں صورتِ حال بہتر ہونا شروع ہوئی اور یہ سلسلہ ستمبر کے اوائل تک جاری رہا۔

پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں قائم کمیٹی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق ستمبر کے وسط سے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر کرونا کیسوں کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے احتیاط نہ کی تو مستقبل میں جون کے مہینے جیسی صورتِ حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جون میں عالمی وبا پاکستان میں عروج پر تھی۔

این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بدھ کو رپورٹ ہونے والے کرونا کے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جو آپ کو یہ بتا رہے ہیں کہ کرونا سے کچھ نہیں ہو گا، وہ آپ کی صحت اور روزگار دونوں کے دشمن ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY