پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں سے مطمئن نہ ہونے اور ان کی کلاس لینے کے حوالے سے سوال پر مریم نواز نے کہا کہ ‘بہت افسوس کی بات ہے کہ جس بات کا وجود ہی نہیں وہ بات چند چینلز نے چلائی، میں ان چینلز کو وقت دے رہی ہوں کہ پروپیگنڈا سے باز آجائیں، میں نے اراکین اسمبلیوں سے گلہ کیا کہ جلسہ گاہ چھوٹی رکھی گئی، لوگوں کو جلسہ گاہ سے باہر سڑک پر کھڑا ہو کر خطاب سننا پڑا۔’

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی ایسا کوئی جلسہ نہیں دیکھا جہاں شدید سردی کے باوجود مجھے کوئی کرسی نظر نہیں آئی، لوگ گھنٹوں کھڑے رہے اور جلسہ سنتے رہے، اتنی سردی اور حکومتی فاشسٹ ہتکھنڈوں کے باوجود لاہور کے عوام نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس کو حقیقت معلوم ہے اسے پتہ ہے کہ جلسہ گاہ کتنی بھری ہوئی تھی، مجھے پکا یقین ہے کہ حکومت کو بھی جو خبریں ملی ہوں گی آج وہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت نے مخالفین کو دشمنوں کی طرح ٹریٹ کرنے کا نیا طریقہ بنایا ہے، ہم ساری جماعتیں پاکستان کے ایجنڈے پر متفق ہیں، ہمیں ایک دوسرے کے انتخابی حریف ضرور ہیں لیکن دشمن نہیں ہیں۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور اور حیثیت رکھتی ہیں اور اسی بنیاد پر انتخاب لڑتی ہیں، ہم ان سے اب کوئی بات کرنے کو تیار نہیں، یہ مستعفی ہوجاتے ہیں اور اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کردیتے ہیں اس کے بعد اگر کوئی تجویز آئے تو پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی۔

گزشتہ روز جلسے میں محمود خان اچکزئی کی جانب سے لاہوریوں کو غدار قرار دیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘رش کی وجہ سے مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کیا کہا لیکن لوگ خود تاریخ کا مطالعہ کرلیں پتہ چل جائے گا۔’

SHARE

LEAVE A REPLY