کہتے ہیں ماضی سبق سیکھنے اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا ازالہ کرنے میں بہت مدد گار اور معاون ثابت ہوتا ہے اگر واقعئی خلوص کے ساتھ اپنی خامیوں کو ٹھیک کرنے کا عہد کیا جائے۔ پینسٹھ کی جنگ ہمیں بھی تھوڑی تھوڑی یاد ہے ۔ہمیں یہ بھی یاد ہے جب جنرل ایوب صاحب نے کہا تھا کہ بَم باندھ کر ٹینک کے اآگے لیٹ جائینگے اگر ہمیں غلط یاد ہے تو معافی چاہتے ہیں ۔لیکن ہمیں اس لئے یاد ہے کہ ہم بہن بھائی ڈالڈا گھی کا خالی ڈبہ اپنی کمر پر باندھ کر پلنگ کے نیچے سے گزر کر پریکٹس کیا کرتے تھے کہ اگر ٹینک کے سامنے لیٹنا پڑا تو کس طرح لیٹینگے ۔خوف ہم بچوں کو بھی نہیں تھا کیونکہ بڑوں کا ایمان اللہ کی ذات پر تھا ہر ایک کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور اپنے فوجیوں اور جوانوں کی کامیابیوں کے لئے دعائیں ۔اپنے وطن کے لئے دعائیں تھیں ۔نغمے ایسے تھے کہ بُزدل سے بُزدل شخص بھی لڑنے مرنے کو تیار تھا اور پھر کامیابی مقدر ہوئی ۔ کیونکہ صدر ایوب نے سب سے پہلے اپنی جان کا نزرانہ پیش کرنے کی بات کی تھی اسی لئے ہر کوئی جان دینے اور وطن پر قربان ہونے کو تیار تھا ۔۔ اُنیس سو چھیاسٹھ میں جس طرح اس کامیابی کو منایا گیا وہ بھی ہمیں یاد ہے اسکولوں میں ٹیبلو اور شجاعت کی داستانیں سنائی گئیں اور بتایا گیا کہ ہم ایک جی دار قوم ہیں ۔پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ یہ کامیابی کا دن بھی منانا چھوڑ دیا گیا ،کیا ۔مصلحت تھی ،نہیں پتہ؟ وہلینٹائن منایا گیا ۔اللہ معاف کرے بلیک فرائی ڈے منایا گیا ۔ماؤن کا دن، باپوں کا دن اور نہ جانے کون کون سے دن جو ہماری تہزیب سے کہیں بھی لگا نہیں کھاتے، منائے جاتے رہے لیکن یہ دن صرف کچھ دلوں میں منایا جاتا رہا ،یا جن گھروں میں شھید تھے وہ یاد مناتے رہے ،ہمیں بہت خوشی ہے کہ ہم نے پھر اس دن کی اہمیت کومانا ہے اور اسے منانے کا فیصلہ کیا ہے جو بہت ہی خوش آئند ہے کہ ہماری نئی نسل کو پتہ چلے کہ ہم نے کس کس طرح اپنے ملک کی حفاطت کی ہے ۔
ہمیں ایک اور بات پر بھی بہت ہی حیرت ہوئی انتہائی خوشی اور فخر کا مقام تھا کہ ایک ملک کی ایک انتہائی متنازعہ شخصیت جوایک مقابلہ کرانے جارہی تھی جو مسلمانوں کے لئے ایک دلخراش خبر تھی کیونکہ ہم شاید کسی بھی فورَم پر ان زہنیتوں کو باور نہیں کراسکے ہیں کہ ہمارا اپنے پیارے جان سے زیادہ عزیز رسول (ص) کے لئے کتنا جزباتی ،دلی اور مزہبی تعلق ہے کہ ہم اُس ذاتِ پاک کے بارے میں کوئی بھی بات برداشت نہیں کر سکتے ہماری جانیں اولادیں ہمارے مال ہمارے ماں باپ سب اُس پیاری پاک ذات پر قربان ہیں ۔اس لئے کوئی بھی دنیا کی طاقت ہمارے سامنے آجائے ہم سب اکھٹے ہوکر اس کا سامنا کرنے کو تیار ہیں ۔۔۔ ا ُس مقابلے کو ختم کیا گیا لیکن کسی نے بھی کہیں کسی خوشی کا اظہار نہیں کیا نہ معلوم کیوں؟ یہ تو ایک بہت بڑی کامیابی تھی مسلمانوں کی ۔لیکن ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ اتنی بڑی بات کو کیوں اہمیت نہیں دی گئی ۔اور وہ سارے مولانا بھی جو اس کی مخالفت میں نکلے تھے کہاں جا سوئے ۔
ضروری ہے کہ ہم اُن زہنوں کو جن کے یہاں کسی بھی پیغمبر یا رسول کی کوئی اہمیت نہیں ہے اُنہیں بتایا جائے کہ ہم ایسے نہیں ہیں ہمیں اپنے پیغمبروں سے بہت محبت اور عقیدت ہے ہم نہ نعوزُ بِ اللہ اُن کا مزاق اُڑا سکتے ہیں نہ ہی کوئی گستاخی اُن کی شان میں کر سکتے ہیں نہ کسی کو اجازت دے سکتے کہ وہ اُن کے خلاف کچھ کہے ۔ہم تو مسلمان ہی نہیں ہو سکتے اگر تمام نبیوں تمام الہامی کتابوں پر یقین نہ رکھیں ،یہاں میں ایک بات لکھنا چاہتی ہوں جو مجھ سے ہی متعلق ہے ۔یہاں گھروں پر بھی کبھی کبھی پریچر آتے رہتے ہیں ایک دفعہ میں نے دروازہ کھولا تو ایک صآحب نے مجھے ایک چھوٹی سی کتاب پکڑائی اور کہا کہ اس کا یہ پیراگراف دیکھو کیا کہتا ہے کہ ہمیں امن سے رہنا چاہئے ۔پھر کہنے لگے کہ تم جیسز کو مانتی ہو ۔میں نے کہا ہاں میں مسلمان ہوں میں حضرت عیسیٰ ّعلیہ السلام کو مانتی ہوں کیونکہ انہیں مانے بغیر میرا دین ہی پورا نہیں ہوتا نہ میں مسلمان ہو سکتی ہوں ۔ وہ تینوں حیرت اور اچنبھے سے مجھے دیکھنے لگے ۔میں نے کہا لیکن میں اُنہیں اللہ کا بھیجا ہوا رسول مانتی ہوں تم جس طرح اُنہیں مانتے ہو وہ میں نہیں مانتی ۔ وہ کہنے لگے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ مسلمان جیسز کو مانتے ہیں ہم تو سمجھتے تھے کہ تم انہیں نہیں مانتے میں نے کہا یہ غلط فہمی ہے وہ کچھ خوش کچھ حیران چلے گئے مگر میں سوچ میں پڑ گئی کہ ہم نے اپنے اآپ کو صحیح طریقے پر کہیں روشناس ہی نہیں کرایا ۔ہمیں لوگ صرف اور صرف ہمارے مولویوں کی نظر سے دیکھتے ہیں جو یا تو مارنے مرنے کا درس دیتے ہیں یا فتویٰ لگا دیتے ہیں ۔یا ایک دوسرے کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کئے رکھتے ہیں ہمیں سب ہی کو ان تمام مخالفتوں سے نکل کر متحد ہو کر اپنی طاقت کا اظہار کرنا چاہئے ۔ایک لکڑی بڑی اآسانی سے ٹوٹ جاتی ہے لیکن گٹھے کو توڑنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔
صدارتی ایلیکشن بھی بہ خیر و خوبی ہوگیا ،اور جناب عارف علوی صاحب کے قبضے میں صدارتی کرسی اآگئی ۔ہمیں اُن سے امید ہے کہ وہ واقعئی صدرِ پاکستان بنینگے ۔اور ملک کے لئے کچھ کام کرینگے صرف صدارتی محل قبضے میں نہیں رکھینگے بلکہ ملک کو اپنی خدمات سے ترقی کی راہ پر لانے میں اپنا کردار ادا کرینگے ۔کیونکہ ملک کی خرابیوں کو دور کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جو کچھ ہم سُن اور دیکھ رہے ہیں ۔جس پتھر کو اُٹھاتے ہیں اُس کے نیچے سے بے ایمانی کے انبار نکلتے ہیں ہم حیران ہیں کہ کیا ملک ان لوگوں کا نہیں تھا ،،، جنہوں نے ملک کو لوٹتے وقت کچھ سوچا ہی نہیں صرف اور صرف اپنی ذات کو مد`ِ نظر رکھا ۔خیر کہتے ہیں جب کچھ خوشی ملے تو غم کو بھول کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے اس لئے ہم اللہ کے شکر گزار ہیں کہ کچھ اچھی باتیں ملک میں ہو رہی ہیں جو امید دلاتی ہیں کہ نیا پاکستان ضرور بنے گا نئی چاہتوں ،نئے ولولوں اور نئی شان کے ساتھ ۔۔۔۔۔
اللہ میرے ملک کو اپنی حفاظت میں رکھے اور اسے سنبھالنے والوں کو زندگی عطا فرمائے آمین
پومپیو آکر چلے گئے مگر کوئی چٹپٹی خبر کسی اینکر کو ملی نہ اخبار نویس کو ۔یہ بھی ایک خوش آئیند بات ہے کہ ہمارے تعلقات اچھائی کی طرف جا رہے ہیں ۔ہمیں ایک بات کی خوشی ہوئی جب ہمارے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ میں نے اُن سے پیسوں کی کوئی بات نہیں کی ۔کیونکہ ہم اتنا اناج پیدا کر سکتے ہیں کہ کوئی بھوکا نہ سوئے ۔کاش سب ہی یہ سوچیں کہ دینے والا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہوتا ہے اگر اس طرف پلٹ جائیں تو اللہ برکتوں کے ڈھیر لگا دے گا ،بس پلٹنے کی بات ہے دھیان دینے کا وقت ہے اور خود کو منوانے کا مقام ہے ۔
پاک فوج زندہ باد میرا وطن پائیندہ باد یہ موقعہ ہے کہ پلٹ کر اپنی برائیوں کو دیکھا جائے اور اُن سے چھٹکارا حاصل کیا جائے انشاء اللہ

SHARE

LEAVE A REPLY