کہتے ہیں کہ جھوٹے کو یاد نہیں رہتا کہ اُس نے کیا کہا تھا یعنی اُس کا حافظہ نہیں ہوتا ۔یہ مثال آج کل جس خوبصورتی کے ساتھ نون اور پے پر اور ان کے حواریوں پر صادق آتی ہے اس طرح بہت کم مثا لیں فِٹ بیٹھتی ہیں ۔ایک افطار پارٹی ہوئی جس میں وہ تمام چہرے نظرآئے پورے نور کے ساتھ ( اللہ ہمیں معاف فرمائے )جو عوامی درد اپنے سینوں میں چھپائے ہم پر تیس سال تک باری باری حکومت کرتے رہے لیکن وہ درد جو اآج اُٹھا ہے وہ سِوَا ہے ۔کیونکہ ایک تیسری پارٹی نے بھنگ ڈال دیا ہے ۔ اس با برکت محفل میں جماعت کو دیکھ کر تھوڑا سا دل دکھا کہ یہ وہ پارٹی ہے جو ہمیں ہمیشہ ہی اُصولوں پر کھڑی نظر آئی لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایلیکشن میں اور ایسے معاملات میں جہاں ان کی دال نہ گَل رہی ہو یہ کسی بھی طرف رُخ کر لیتے ہیں ،کسی سے بھی ہاتھ ملا لیتے ہیں ۔اُن کے ساتھ بھی بیٹھ جاتے ہیں جو انکی جماعت کے کردار سے بالکل بھی لگا نہیں کھاتے ۔کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جماعتِ اسلامی کسی بھی صورت کسی بھی کرپشن یا کرپٹ شخص کی طرف نہیں ہو سکتی ۔لیکن کیا کہیں کہ مفاد بڑا ظالم ہوتا ہے وہ کہاں سے کھینچ کہاں لے جاتا ہے یہ ہم سب کے سامنے ہے ۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے بڑے کرپشن زدہ لوگ جس طرح کھل کر جھوٹ بول رہے ہیں اور جس طرح ہم انہیں پزیرائی دے رہے ہیں وہ کسی بھی مہزب قوم کا وطیرہ نہیں ہے ۔ساری دنیا مہنگائی اور بے روزگاری کی لپیٹ میں ہے جس ملک کو بھی اٹھا کر دیکھیں کہیں کم کہیں زیادہ ایک جیسی صورتَ حال ہے لیکن کوئی ملک کے خلاف نہیں جاتا جس طرح ہم اپنے ملک میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی بات ہو سب سے پہلے فوج پر انگلی اُٹھ جاتی ہے ۔یہ کس کا ایجنڈا ہے ہم نہیں جانتے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ ہم شھیدوں کے خون سے بد دیانتی نہیں کر سکتے وہ شھید جو ہماری حفاظت کے لئے جوانی ہو یا بڑھاپا اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں ۔ہم بے حس نہیں ہو سکتے ۔جائز تنقید پر کوئی قد غن نہیں لیکن بلاوجہ تنقید کسی نہ کسی شک کی طرف لے جاتی ہے ۔
اپوزیشن جس طرح خود کو عیاں کر رہی ہے وہاں کسی کو بھی کوئی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ جھوٹےلوگ اپنے ہی کہے کی نفی کرنے سے نہیں ہچکچاتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ بھی شاید جعلی ہاتھ ملاتے ہیں ۔لیکن جس طرح ہم سب نے انکی غلط بیانیوں کو موقعہ دیا ہے پنپنے کا وہ بھی تکلیف دہ ہے ۔ہم ان کے جھوٹ اور دھوکے کے باوجود جس طرح انہیں اہمیت دیتے اور انہیں با کردار ثابت کرتے ہیں کیا وہ کسی بھی تہزیب یافتہ قوم کا عمل ہو سکتا ہے ۔ہم نے جس طرح ان تمام جھوٹوں کو عزت دے رکھی ہے وہ بھی المئیے سے کم نہیں ہے ۔ہمیں یہ خوشی ہے کہ چھہ ہفتے کی چھٹی نے میاں صاحب کی صحت پر خوشگوار اثر ڈالا ہے کہ ہمیں اُن ٹوئٹ سے نجات مل گئی ہے جو روز کسی نہ کسی صورت موجود ہوتے تھے ۔اب ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ ایک اتنا بیمار شخص بغیر علاج کس طرح ٹھیک ہو گیا ؟؟ ویسے تو اب ہمارے ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ہم نے اپنے کردار ختم کر دئے ہیں ۔بیٹی کو آگے آنا تھا وہ آگے آگئی ہیں ۔
ہم سارے روز دیکھتے ہیں کہ وہ غلط بیان لوگ جو روز ہی غلط باتیں کرتے اور میڈیا پر بیٹھ کر دروغ گوئی کو برا نہیں سمجھتے کس دھڑلے سے ہمیں بے وقوف بناتے اور اپنی ناپاک سیاست چمکاتے ہیں ہم معزرت چاہتے ہیں لیکن جس طرح کی سیاست کھیلی جا رہی ہے وہ کہیں سے بھی ملک کے حق میں نہیں ہے ۔سیاست تو نام تھا عوام کے لئے کام کرنے کا نہ کہ اپنے لئے دولت جمع کرنے اور جائیدادیں بنانے کا ملک کمزور ہوا اور ایک طبقہ طاقتور ہوا اور اتنا طاقتور ہوا کہ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں انہیں میڈیا پر بھی دکھاتے ہیں ۔اور انکی باتوں کو سُنواتے بھی ہیں
عدلیہ کہاں ہے نہیں پتہ کیونکہ جب عدل کمزور پڑتا ہے تو بھیڑئے جاگتے ہیں کیونکہ انہیں خوف نہیں ہوتا پکڑے جانے کا ایک سزا یافتہ خاتون پھر باہر نکل آئی ہیں جن کی غلط بیانی کورٹ کے سامنے بھی ہے اور عوام کے سامنے بھی لیکن ہم بالشتئے اُن کے سامنے سرِتسلیم خَم کئے بڑے بڑوں کو جھکتے دیکھ رہے ہیں ۔جس طرح ہم نے ان کل کے بچوں کے سامنے بڑے بڑے سیاست دانوں کو بیٹھے دیکھا ہم حیران ہیں کہ کیا ہونے جا رہا ہے ۔کیا یہ سونے کے چمچے منہ میں لئے بچے ملک سنبھالیں گے ؟؟؟
جس طرح زرداری صاحب نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ بلاول جن کے نام سے زرداری حزف ہے اور مریم جنہوں نے اپنے نام سے صفدر حزف کر دیا ہے اور مولانا کے صاحبزادے آئبدہ ہمارے لیڈر ہو ں گے اور ملک پر حکومت کریں گے ہم اللہ کے آگے ہاتھ جوڑ کر معافی ہی مانگ سکتے ہیں کہ اے میرے مالک ہم سب کو معاف کر دے ۔کہ ہم اپنی بے وقوفیوں اور مجرموں کو سزا نہ دینے کی وجہ سے کہاں سے کہاں آگئے ہیں ۔کہ یہ وراثت بانٹنے والے ملک کو بھی اپنی وراثت سمجھنے لگے ہیں ۔
نیب جب تک سخت نہیں ہوگی ،عدلیہ جب تک جلد فیصلے نہیں کرگی ہم اسی طرح بھٹکتے رہینگے ۔نہ ماڈل ٹائون کے لوگوں کو انصاف ملا نہ بلدیہ ٹائون کے لوگوں کو ۔سارے بڑے بڑے مقدمے اُسی طرح بند پڑے ہیں اور ان کے مجرم کھلے پھر رہے ہیں باہر بھاگ رہے ہیں ،کہاں ہے قانون کہاں ہے انصاف ؟؟
کاش یہ حکومت ہی کچھ ایسا کر جائے کہ انصاف کا حصول آسان ہو جائے ۔اور وہ مظلوم جو بلا قصور گولیوں کا نشانہ بنے اُن کے ورثا کو سکون ملے ۔
بلاول بھٹو نے نیب کا نوٹس وصول کرنے سے انکار کر دیا ،ایسے ہوتے ہیں سچے اور کھرے لوگ ۔
پاکستان زندہ باد
دروغ گو را حافظہ نہ باشد,عالم آرا
1629
0












