میری ایک پوسٹ جو فوج کو مختص بجٹ کے حوالے سے فیس بک پر وڈیو کے ساتھ شائع ہوئی ہے ۔ اس پر فقط چند لوگوں نے موضوع کی اہمیت اور اس کی ہمجہتی کے حوالے سے تجزیاتی گفتگو کی جبکہ اکثریت نے دماغ کا استعمال کیے بغیر ہی اسے پڑھ کر سیاسی ملاں کی طرح فوج مخالف اور ملک مخالف تک کے فتوے جاری کر دیئے ۔ یہ فتووں کا جاری کرنا ایک لعنت اختیار کر چکا ہے جس پر میرا وعدہ رہا بہت تفصیل سے لکھوں گی ۔

ابھی یہ بتانا مقصود ہے کہ میں نے جس رخ سے موضوع پر بات کی وہ ملک کے انتظامی امور میں عقلی فقدان کے حوالے سے کی ۔ یہاں میں اس بات کو بلکل واضح کر دوں کہ شاید کچھ لوگوں کے دل میں غلط فہمی ہو کہ میں نے فوجی بجٹ کے حوالے سے یہ بات نااہل وزیراعظم نواز شریف کے موجودہ بیانیئے کے تناظر میں کی ہے ۔ اول تو مجھے ایسی عوام دشمن سیاست سے کوئی سروکار نہیں اور دوسرا پیدا کرنے والے کا شکر کہ میں اپنے زہن سے سوچتی ہوں اور اپنی اہلیت کے مطابق گفتگو کرتی ہوں ۔ میرے لئے ملک کو کسی قسم کا نقصان پہنچانے والا ، خواہ کوئی کتنا بھی بڑا شخص ہو وہ قابل احتساب اور ناقابل یقین حد تک عوام دشمن ہے ۔ اگر کسی نے ملک کا سرمایہ لوٹا ہے تو اسے قانون کا سامنا کرنا ہو گا ۔ اب یہ عدالتیں جانیں اور ملزم جانیں ۔

میں نے فوج کے بجٹ کا جو تناسب بتایا ہے یہ میری ذاتی تحقیق نہیں ہے بلکہ خود سرکاری اداروں کے اعداد وشمار انہیں کی زبانی ہیں ۔ حالانکہ بہت سے لوگ اس بجٹ کاتناسب 60 فیصد تک بتاتے ہیں جسے کم از کم میری عقل تسلیم نہیں کرتی ۔

اب میرا ایک تیکنیکی نقطہ معاشیات کے ماہرین خاص طور پر سنیں کہ کسی عام ادارے سے لے کر کسی ملک کے بجٹ تک ، ایک طویل عرصے تک طویل مراحل طے کرنے کے بعد بنایا جاتا ہے ۔ ہر ادارہ ، ہر شعبہ وزرت خزانہ کو اپنی ضروریات کے مطابق اپنا بجٹ بھیجتا ہے ۔ جسے حتمی شکل وزارت خزانہ میں بیٹھے ہوئے حکومت کے اپنے معاشی ارسطو دیکھتے ہیں اور مشورہ کر کے منظور کرتے ہیں ۔ میری دلیل یہ ہے کہ اگر فوج وزارت خزانہ سے ملک کے کل بجٹ کا اتنابڑا حصہ اپنے لئے چاہتی ہے تو کیا وزارت خزانہ نے فوج سے یہ مدلل بحث کی کہ جس ملک میں تعلیم ، پانی ، اور صحت کی سہولیات ناگفتہ بہ ہیں وہاں اسلحے کی خرید پر اتنی رقم خرچ کرنے اور کڑوڑوں روپے میزائل پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے ، پھر بھارت سے دشمنی کو دلیل بنا کر اتنی خطیر رقم لینے کی کیا ضرورت آپڑی ؟ ۔

کبھی سوچئے یہ سب پوچھنا حکومت کے زیر انتظام وزارت خزانہ اور حکومت کا ہے ۔ اگر دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ فوج کو واقعی اتنے ہی بجٹ کی ضرورت ہے تو پھر جاننے پر میں اور آپ کیوں سیخ پا ہوں ۔ مگر افسوس اس بات کاہے کہ حکومت خود یہ ساراپیسہ فوج کو دے کر انہیں سڑکوں پر خلائی مخلوق کے نام سے بدنام کرتی ہے ۔

ہم میں ہر شخص جو وطن پاکستان میں پیدا ہوا ہے وہ اس ملک کا مقروض ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اپنی عسکری قابلیت کے اعتبار سے دنیا کی پانچ بڑی افواج میں شامل ہے ۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی عقلمند آدمی فوج کا ادارے کے طور پر مخالف یا دشمن ہو۔ ماضی میں چند فوجی جرنیلوں کی ملک کشی پہ ساری فوج کو نفرت کی نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اس فوج میں میرے آپ کے بچے بیٹے بھائی بہن شامل ہیں ۔۔ لیکن ایک التجا ہے کہ کبھی فوج کے باقی رینکوں کی حالت اور ان کی بے بسی پر بھی غور کریں ۔ دلیل اور جذبات کو گڈمڈ مت کریں ۔ اللہ پاک نے زہن دیا ہے اسے استعمال کرنے کی زحمت کیجئے ۔ سوچنے سے عمر بڑھتی ہے ، گھٹتی نہیں ہے ۔ آپ میں سے کسی کوحق نہیں کہ آپ کسی دوسرے کو ملک دشمنی کا ، کافر کا یا غدار ہونے کا فتوی دیں ۔

دوسرے کی تربیت کرنے سے پہلے اپنی تربیت کیجئے ۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY