عمران خان کی حکومت کا ایک سال ۔۔۔ شمس جیلانی

0
612

مدینہ جیسی حکومت کا دعویٰ کرنا بہت آسان ہے مگر اس کا قائم کرنا اور قائم رکھنابہت مشکل ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں پہلی تو یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ پیوند سرمایہ داروں کو اچھا نہیں لگے گا؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے جو ہاتھ پاؤں ہیں ان کی اکثریت ویسی نہیں ہے جیسی کہ اس نظا م کو چلانے کے لئے ہونا چاہیے اور نہ ہی وہ وسائل موجود ہیں جو ملک کو درکا ر ہیں۔
مدنی ریاست بھی اسی وقت تک چلی جب تک کہ ا سکے پاس حضور ﷺ کی تربیب یافتہ نسل موجود تھی۔ جب اس میں لوگ جوق در جوق داخل ہونے لگے تو صورت حال یکسر تبدیل ہوتے ہوئے تیزی سے دیکھی گئی؟ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے اعلیٰ تربیت یافتہ حضور ﷺ کے نائب بھی کامیاب نہ ہوسکے؟ اسکی وجہ بھی انہوں نے سوال کرنے والوں کو خود ہی بتائی کہ “مجھ سے پہلے والے کامیاب اس لیئے تھے کہ ان کے صلاح کار مجھ جیسے تھے جبکہ میرے مشیر تم جیسے ہیں؟ ان کے اس ارشاد عالیہ سے یہ نہ سمجھ لیا جا ئے کہ اسوقت اچھے لوگ نہیں بچے تھے، تھے تو سہی مگر ان کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی کے شروع میں تھی۔لوگ ایرانی کلچر اور رومن کلچر سے متاثر ہوچکے تھے اور نظام حکومت چلانے کے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو خاصی مشکلات پیش آرہی تھیں جبکہ وہ ایسی ہستی تھے جن پر حضور ﷺ کو ناز تھا اور جو تقویٰ میں درجہ ِ کمال پر پہنچے ہوئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آخر میں وہ بھی حالات سے دلبرداشتہ ہو گئے تھے؟ توہم کیا اور ہماری بساط کیا؟
جبکہ لوگ مدینہ کی ریاست کو اور مسلمان ہونے کوآسان سمجھتے ہیں۔ جبکہ اس راہ پر چلنے والے کو سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ وہ راستہ ہے جس میں پتھر آتے ہیں پھول نہیں برستے؟ اور ملک نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے اس کلچر کا شکار رہا ہے کہ“یہاں وہی شخص حکومت کر سکتا ہے جو دو دا ڑھیں رکھتا ہو ایک کھانے کی اور دوسری کھلانے کی“ایسے میں عمران خان اگر بغیر مناسب ہاتھ پیروں کے کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہ اور ان کے وہ ساتھی جو کہ ان ہی جیسے ہیں قابل ستا ئش ہیں کہ کوشش تو کر رہے ہیں؟ جو کہ تیس سالہ دور ِ خلافت راشدہ کے بعد دیکھنے کو صرف حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ کے دور میں کچھ عرصہ کے لیے ملی تھی، ان کے بعد پھر کسی نے ایساکرنے کی کوشش ہی نہیں کی؟جبکہ عمران خان کو کوئی چیز بھی آج کے پاکستان میں ثابت ہی نہیں ملی ہے؟ اوران کے ساتھ صرف وہ لوگ ہیں جو اس لیے ساتھ ہیں کہ جو اچھا کام کرے اس کا ساتھ دینے کا حکمِ قرآنی موجود ہے؟ جبکہ پاکستان میں صورت حال اس کے قطعی برعکس ہے کہ وہا ں برائی میں ساتھ دینے والے تو بہت ملیں گے اور بھلائی میں کم۔ دوسرا گروپ ان کے ساتھ نوجوانوں کا ہے جو کہ قابلِ ستا ئش اس لیے ہیں کہ اسلام میں جوانی میں نیک رہنا سب سے زیادہ قابل ستائش ہے۔ اس پر دو داڑھ والے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں بے روزگاری بڑھی ہے؟ جبکہ وہاں مصنو ئی طور پر باروزگاردکھانے کے لیے سفید ہاتھی پالنے کا رواج عام ہے چاہیں انہیں لہریں ہی گننے پر کیوں نہ لگانا پڑے؟ ایسے میں ملک کو بھی بچانا ہے،روز گار کے نئے ذرائع بھی پیدا کرنا ہیں۔ ملک کی نیک نامی بھی بحال کرنا ہے۔ کہ جوملک بنک کرپٹ ہونے جا رہا تھا؟ وہ اب رینگنے لگا ہے؟ ترقی یافتہ دنیا کے کسی ملک کی ترقی اس پیمانے سے ناپی جاتی ہے کہ تعمیراتی انڈسٹری میں چہل پہل ہے یانہیں؟ یعنی دنیا یہ دیکھتی ہے کہ نئی بستیوں پر کام ہورہا ہے یانہیں؟اگر ہورہا ہے جیسا کہ وزیر اعظم آئے دن نئی بستیوں کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں تو بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ اس میں نوجوانوں کو بھی کاروبار ملے گا اور اس سے انڈسٹری سے متعلقہ تمام کارخانے بھی چلیں گے؟ جبکہ جولوگ موجودہ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کوشاں ہے اس میں اپنے اور غیر دونوں شامل ہیں کیونکہ اس نظام میں لہریں گننے پر کسی کو اب ملازم نہیں رکھا جاسکتا؟ ملک کا وقار دنیا میں بلند ہوا ہے، اور حکومت بتا رہی ہے کہ ہم پی آئی اے، ریلوے اور پوسٹ آفس کے محکمے خسارے سے نکال کر منافع میں لے آئے ہیں؟ جنہیں پچھلے حکمرانوں نے جان بوجھ کر بٹھایا تھا؟خاص طور پر اسٹیل مل کو؟ موجودہ حکومت نےشاید ابھی تک نہیں چھیڑا ہے باقی سب جگہ سے اچھی خبریں آرہی ہیں؟ جبکہ سب سے بڑے پڑوسی کو یہ حکومت ایک آنکھ نہیں بھائی اور وہ چلاتے رہے کہ ہم نے سابقین پر انویسٹمنٹ کیا ہوا تھا وہ ہمارا ڈوب گیا ہے؟ اور گھبرا ہٹ میں الٹے سیدھے کام کرنا شروع کردیئے؟ نتجہ یہ نکلا کہ خود اپنے ہی جال میں صیاد پھنس گیا؟ اس سے پہلے وہ بہت کامیابی سے اس خطے کی قیادت کے طرف بڑھ رہا تھا اپنے حریف پاکستان کو دنیا سے الگ تھلگ کر چکا تھا، بس اس کے گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں پہنچنے کی دیرتھی؟ کہ کچھ دنیا تو پلٹ گئی کچھ پلٹنے والی ہے یہ ہے عمران حکومت کی کارکردگی جو ہر ایک کو نظر آرہی ہے۔ ہاں جنہوں نے مفادات کے چشمے پہنےہوئے ہیں ان کی بات دوسری ہے؟ جبکہ اس حکومت ابھی کچھ کرنے کو اور کر کے دکھانے کوچارسال باقی ہیں؟
آجکل یہ خبر گرم ہے کہ حکومت نیب کے قانون میں ترمیم کرنے جارہی ہے؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس میں حکومت نیب کے چیر مین صاحب کو بھی اعتماد میں لے لیتی تو سب کو یقین آجاتا کہ حکومت اپنی پالیسی پر قائم ہے کہ اداروں کو فعال کرنا ہے انہیں اس راہ میں مشکلات پیش آرہی ہونگی ہیں اس لیے ترمیم نا گزیر تھی؟ جبکہ ابھی لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مشرف کی طرح این، آر، او کی طرف یہ پہلا قدم ہے؟ مزید ثبوت اس کے آگے چل کرمل جا ئیں گے۔رہا یہ عذ ر کہ سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے اس لئے خوف و ہراس دور کرنا ضروری ہے تو وہ اس سے بھی دور نہیں ہوگا؟ ترمیم کے لیئے اگر حکومت حزب اختلاف کی مدد لے گی تو وہ پہلے اپنے شرائط منوائے گی اگر اس کے مفاد کے خلاف ہوا تو کبھی نہیں مانے گی حکومت آرڈیننس کے ذریعہ کب تک اس معاملہ کو چلا ئیں گے آخر میں وہی ہوگا جو پہلے والے احتسابات کا حشر ہوا؟ بہتر یہ ہے کہ حکومت اپنے خلاف غلط فہمی پیدا نہ ہونے دے ؟ جوکہ مدینے کی حکومت کا پہلا اصول ہے؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کی رہنما ئی فرما ئے۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY