ہوتا ہے شب وروز تماشہ میرے آگے ۔۔ شگفتہ صدیقی‎

0
1352

یہ مصرعہ یاد آیا خبر پڑھ کر کہ نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا.

بہت اچھی خبر ھے. کرپشن کرنے والے ھر شخص کو قرار واقعی سزا ملنی چاھئے. یہ میری اور آپکی دیرینہ خواہش ناتمام تو ھوسکتی ھے لیکن حقیقت اسکے برعکس ھے ۔اسوقت کے تمام گھمبیر مسائل کی طرف سے عوام کی توجہ ھٹانے کے لئے عوام کو یہ لولی پاپ دیا گیا ھے. منائیے جشن. ۔ھم نہیں منا سکتے اسلئے نہیں کہ ھمیں کسی سے کوئی ھمدردی ھے بلکہ ھم جانتے ھیں کہ یہ سیاست ھے۔

گرفتار تو بڑے بھیا بھی ھوئے تھے. اور انکی گرفتاری کا جشن مناتے ھوئے الیکشن جیت لیا گیا عوام ووٹ دے کر گھر آکر چین کی نیند سوگئےبس اب تو خون پسینے سے کمائی لوٹی ھوئی ملک کی دولت واپس آجائے گی. اور پاکستان میں دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی. بھولی عوام یہ بھی نہیں جانتی انکو اصل کرپشن پر تو پکڑا ھی نہیں گیا تھا. جس کے وعدے اور دعوے کئے گئے تھے.تاکہ چھوڑنے کا جواز باقی رھے سوئی ھوئی عوام کے خواب ٹوٹ گئے بڑے بھیا بے گناہ ثابت ھو گئے. خوش فہمی میں رھنے والو!! اب بھی یہ ھی ھوگا چھوٹے بھیا بھی مسکراتے ھوئے باھر آجائیں گے۔

ستر سال سے اس ملک میں ھر دور حکومت میں ایک نیا تماشہ لگایا جاتا ھے. یہ سیاست دان بڑے کمال کے مداری ھیں .اور ان سب کا تعلق ایک ھی قبیلے سے ھوتا ھے ھر سیاستدان کے لئے ضروری ھے کہ وہ اپنے ملک سے مخلص ھو نہ ھو اپنے قبیلے سے انکا مخلص ھونا لازمی ھے۔ھر ایک اپنی ڈگڈگی لے کر آتا ھے ۔کبھی یہ جمہوریت کے لئے تو کبھی مذہب اور قومیت کے لئے بجتی ھے کوئی لسانیت کی تو کوئی بنیادی حقوق کی ڈگڈگی لے کر آتا ھے ۔اپنی ڈگڈگی بجاتے ھیں عوام کو خوش کرتے ھیں عوام تماشہ دیکھتی ھے. اور بچہ جمورا کی طرح چادر اوڑھ کر سو جاتی ھے.

مداری کے تماشہ کا مقصد تماش بین کو خوش کرنا نہیں ھوتا. بلکہ اس سارے تماشے کا مقصد یہ ھوتا ھے کہ وہ تماش بین کو مجبور کردے کہ وہ اپنے جیب کا سکہ نکال کر اسکی جھولی میں ڈال دے. یہ ھی ھورھا ھے یہاں بھی برسہا برس سے مداری آتا ھے اپنا تماشہ دکھاتا ھے عوام کی خون پسینے کی کمائی سے اپنی جیبیں بھرتا ھے اور ایک طرف بیٹھکر اگلی باری کا انتظار کرتا ھے ۔عوام ھر دور میں اپنی خالی جیبوں پر ماتم کرتی ھے اور ایک نئے تماشے کے لئے کھڑی ھوجاتی ھے.

ھم بحثیت پاکستانی کیوں یہ نہیں سمجھتے . چندوں اور عطیوں سے ملک نہیں چلا کرتے . کوئی کہتا ھے قرض اتارو ملک سنوارو. بیوہ اپنے ھاتھ کا چھلا بھی انکی جھولی میں ڈال دیتی ھے. قرضے نہ اتارنے تھے نہ اترے یہ تو تو خراج ھے جو عوام سے انکے جیسے حکمرانوں کو منتخب کرنے پر وصول کیا جاتا ھے.اب ڈیم بناو. ھسپتال بناو. 10 روپے ھی دو مگر دو. اگر نہیں دو گے تو حب الوطنی پر حرف آئے گا. پر ھم کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ نہ تو حب الوطنی ھے اور نہ وطن پرستی. یہ تو” چڑھاوا” ھے جو دولت کے دیوتا اپنی دولت بڑھانے کے لئے چڑھاتے آرھے ھیں اور چڑھاتے رھیں گے جب تک ھم اپنے رویے نہیں بدلیں گے
کیا واقعی ھماری یاداشت اتنی ھی کمزور ھے کہ ھم سب بھول جاتے ھیں یا ھم یاد ھی نہیں رکھنا چاھتے.

اسمبلی میں چلا چلا کر جو لوگ کہا کرتے تھے کہ بجلی , گیس اور بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی کرپشن کو ثابت کرتا ھے. بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں کوئی بل نہ بھرے میں بھی نہیں بھروں گا. اب یہ ھی لوگ مہنگائی کے فضائل بیان کرتے نظر آرھے ھیں .
خزانہ خالی ھے. یہ خزانہ بھرتا کب ھے؟

آمریت ھو یا جمہوریت یہ خالی ھی رھتا ھے. مشرف آئے خزانہ خالی تھا. زرداری آئے خزانہ خالی تھا. نواز شریف ائے خزانہ خالی تھا. اور پھر تبدیلی آگئی خزانہ اب بھی خالی ھے.اور اگر مہنگائی اور نت نئے ٹیکسز کی یہ ھی وجہ ھے تو پھر گذشتہ ساری حکومتیں مہنگائی کرنے پر مجبور بھی تھیں اور حق بجانب بھی. جب اتنا واویلا کیوں تھا. اور اب کیوں نہیں ھے.

نہ تو کسی کی گرفتاری پر اعتراض ھے نہ ھی کرپشن نان ایشو ھے بلکہ یہ تو ام الجرائم ھے. جو لوٹ کر گئے ھیں ان ھی سے وصول کیا جائے انکے حلق میں ھاتھ ڈال کر نکالنے کی جرات کیوں نہیں ھے وہ کیسے بری ھوجاتے ھیں اسے سیاسی انتقام کا نام کیوں دیا جاتا ھے اعتراض اس پر ھے ۔ سارا قہر عام آدمی پر کیوں ٹوٹتا ھے. سارے ٹیکس بھی وہ ھی دے گا. ایمانداری سے سارے بل بھی وہ ھی دے گا. قیمتوں میں اضافے کی بھٹی میں بھی اسکو ھی ایندھن بنایا جائے گا. چندے اور عطیے بھی وہ ھی دے گا. سارے قانون بھی اس پر ھی لاگو ھونگے.

یہ نام نہاد اشرافیہ پہلے بھی ھر قانون سے بالا تر تھی اور بالا تر ھی رھے گی. اعتراض اس پر ھے ۔

یہ بھی جیل یاترا کرکے اگلے الیکشن میں عوام پر احسان کرتے نظر آئیں گے کہ ھم تو آپکی خاطر جیل بھی چلے گئے. انکے جیل کے کمرے میں بھی ایئر کنڈیشن چلے گا. اور غریب کے گھر کی بجلی بھی کٹ جائے گی. جس ریڑھی والے کی ریڑھی الٹ دی گئی بغیر کسی پیشگی نوٹس کے .اسکے گھر چولہا بھی نہیں جلے گا. کوئی پوچھے فٹ پاتھ پر بیٹھکر روزی کمانے پر اسلئے ھی مجبور ھے نا کہ دوکان کا کرایہ نہیں دے سکتا. ھر دور حکومت میں غریب اور سفید پوش کا جینا دوبھر تھا کوئی نئی بات نہیں مگر ان میں سے کسی نے بھی مدینے کی ریاست بنانے کے دعوے اور وعدے نہیں کئے کسی نے بھی حضرت عمر کی تقلید کرنے کا یقین نہیں دلایا تھا.

بجائے ان لوگوں سے شرمندہ ھونے کے انکی روزی روٹی کو مٹی میں ملا دیا گیا. حکمرانوں کی عیاشی میں نہ پہلے فرق پڑا تھا نہ اب پڑے گا. ثابت کوئی کسی کا بھی جرم نہ کرے گا نہ ھونے دے گا کیونکہ “چور کا بھائی گرہ کٹ”. یہ بظاھر ایک دوسرے کے مخالف ھوتے ھوئے بھی ایک دوسرے کے کام ھی آتے ھیں. یقینا” حکومت نومولود ھے پیروں پر کھڑے ھونے میں ٹائم لگے گا.

ھم بھی چاھتے ھیں ھمارا ملک بھی ویسا ھی ھوجائے جیسے کہ ھم سے وعدے اور دعوے کئے گئے تھے. کسی سے بھی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ھم تو کہتے ھیں کہ اس ملک کا نظام ٹھیک ھوجائے چاھے وہ آکر کالا چور ھی کیوں نہ کرے. مگر بزرگ کہہ گئے ھیں کہ “پوت کے پاوں پالنے میں ھی نظر آجاتے ھیں” اللہ رحم فرمائے.

شگفتہ صدیقی

SHARE

LEAVE A REPLY