ہم گزشتہ قسط میں رعیت اور حکمرانوں کے حقوق پربات کر رہے تھے۔اب آگے بڑھتے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ جو دین تجارت کے ذریعہ پھیلا اس دین کے ماننے والوں نے برصغیر ہند میں آکر اس کو چھوڑ دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ہندوستان کی روایات کو اپنا لیا ان کے یہاں ان کے عقیدے کہ مطابق چونکہ پنڈت برہما جی کے سر سے، چھتری سینے سے اور کھتری بر ہما جی کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے اور باقی ان کے پیر سے۔ چونکہ یہاں پہلے برہمن تھے دوسرے نمبر چھتری تھے۔ اس طرح تاجر گھٹیا درجہ میں آتا تھاہم نے بھی وہی طریقہ اپنا یا اور تجارت کو گھٹیا کام سمجھنے لگے۔برہمن چونکہ بن نہیں سکتے تھے راجپوت (چھتری) بن نا پسند کرلیا۔ جبکہ حضور ﷺ، اور عربوں کا عام پیشہ تجارت تھا وہ چھوڑ دیا؟ نتیجہ یہ ہوا کہ آج بنیوں کے ہاتھ میں دنیا کے تمام ملک ہیں بشمول واحد سپر پاور اور ہمارا کام ان کے ایجنٹوں کی صرف خوشامدکرنا رہ گیا۔ کیونکہ آج کی دنیا م یں اس کے بغیر چا رہ نہیں ہے۔اب دنیا کو نہ چاہتے ہوئے یہ کرنا پڑ رہا اور نہ جانے کب تک کر نا پڑیگا؟ اس لیئے کہ سیکنڈ ورلڈ وار کے بعد ان حکمرانوں نے جو دنیا پر اس وقت حکومت کر رہے یہ طے کرلیا کہ شہنشاہیت کی قسم بد ل جا ئے؟ اسی میں انہیں فائدہ نظر آیا کہ فوجی شہنشاہیت کے بجائے مالی شہنشاہیت قائم کر لی جائے۔ کیونکہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہےگھاٹا نہیں ہے؟کہ یہ کلیہ ہے کہ بات اس کی چلتی ہے جس کی جیب میں پیسے ہوں؟ کسی قوم یا فرد کی نہیں چلتی چاہیں کتنا ہی ہوشیار ہو؟ اس میں کنگال کا، نہیں نفع مہاجن کا ہے۔ اب پالیسی یہ ہے کہ انہیں آپس لڑاؤ انہیں ہتھیاروں کی ضرورت پڑیگی اسلحہ کے کا ر خانے ہمارے چلیں گے۔ ہم انہیں قرض دیں گے جس سے وہ ہتھیار خرید یں گے۔ پھر یہ تو کیا ان کے اچھے ہماری بات مانیں گے؟ اس کو آپ نیا ورلڈ آڈر کہہ لیجئے۔ نتا ئج آپ کے سامنے ہیں۔جو کے انسانوں اور ملکوں کی مجبوریوں سے فا ئدہ اٹھانا ہے۔ نام نہاد اسلامی ملکوں سے انہیں صرف اس وجہ ہے خوف ہے کہ اسلام کے پاس ایک مکمل تجارتی نظام ہے جو کہ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے بجا ئے انسانیت کو اس مصیبت سے نجات دلاسکتا ہے۔یہ ہی وجہ پر خاش ہے۔ دنیا کا حال یہ ہے کہ جال میں پھنسے ہوئے پنچھی ہیں جو پھڑ پھڑا تو سکتے ہیں مگر جال پھاڑ اڑ نہیں سکتے؟ اس کا کوئی حل ہے تو یہ ہے کہ توبہ کر کے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ۔ بغیر اس کے کچھ ممکن ہے۔ اس میں مشکل یہ ہے کہ مسلمان معاڈرن بننے پر مجبور ہیں؟وہ ان کی مالی شہنشاہیت کے ایجنٹ تو بن سکتے ہیں اوربن رہے ہیں۔ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس وقت جو صورت حال ہے وہ وہی جو اسلام سے پہلے تھی کہ عرب مانتے دین ابراہیمی کو تھے مگر حرم میں شریف مکہ معظمہ میں تین ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے جن کو یہ پوجتے بھی تھے؟ یہ کیفیت آج کے مسلمانوں کی بھی ہے۔یہاں وہ مثل صادق آتی ہے کہ پیر آپ زہیر ہیں توشفاعت کس کی کریں گے؟ اس تمہید کے بعد میں آپ کو بتاتا ہوں کہ دونوں نظاموں میں فرق کیا ہے؟
اگر مسلمان اپنے دین پر عامل ہوتے تو ایسے ہوتے۔ کہ قرآن اسوہ حسنہ ﷺ دونوں کو مانتے ۔ ان میں سب سے زیادہ اہمیت دو چیزوں کو ہے۔ صدقِ مقال (سچ) بولنا جس پر ہم پچھلی قسطوں میں بات کر چکے ہیں اور اکل حلال (زرق ِحلال) کھاناہے۔ پھر ترجیح کسی کو شریف نام رکھ لینے پر نہیں ہوتی ،کیونکہ اسلام میں ہر معاملہ میں ترجیح متقی کو ہے۔ جس کی یہ دونوں خصلتیں اساس ہیں۔ متقی وہ ہے جو کبھی اس سے باہر نہیں نکلتا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور سول ﷺ یہ کام اس طرح کیس کرتے تھے۔ مجھے ویسے کرنا ہے۔ مثلاً وہ پانی تین گھونٹوں میں پیتے تھے، مجھے بھی تین گھونٹو میں پینا چاہیئے۔ اسلام کااہم رکن نماز ہے اس کے لیئے وضوکرنا ضروری ہے اگر وضوصحیح نہ ہوا تو نماز بھی نہیں ہوگی؟ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اتنا پانی بہایا جائے کہ کوئی وضو خانہ میں جا ئیے تو چاروں طرف پانی ہی نظر آئے آدمی نہ کھڑا ہوسکے نہ بیٹھ سکے۔ اگر اس میں تقویٰ ہو تو فوراً اس کا خیال اس طرف جا ئے گا کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ“ پانی کم سے کم استعمال کرو چاہے تم دریا کے کنارے ہی کیوں نہ بیٹھے ہو“مولوی صاحب سے وعظ سنے گاتو اس میں یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر ایک بال بھی خشک رہ گیا تو وضو نہیں ہوگا۔یہاں صرف پانی بہانے سے وضو نہیں ہوتا اس کے لیئے پہلے نیت ضروری ہے پھر تھوڑے سے پانی سے اچھی طرح بالوں کی جڑوں کا صاف کرنا ہے جہاں سوراخ سے دکھائی دیتے ہیں اس میں گندگی باہر کی بھی یا جو پسینے کے ساتھ آتی ہے او٤ بال کے جڑوں میں پھنسی صاف ہوجا ئے گی تو تھوڑے سے پانی سے بھی وضوع ہوجا ئے گا۔ یہ میں نی آپ کو ایک مثال بتائی؟ اسلام میں ایسا کیا ہے جس میں سب برائیوں کا توڑ ہے؟صرف قرآن کی ہم ایک آیت کو لے لیتے ہیں جو سورہ النسا کی آیت نمبر 36 ہےجس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ جب اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے تو ترجیح کس کودینگے! اپنے قریبی عزیزوں کو۔ پھر یتیموں کو پھر مسافروں کو پھر پڑوسیوں کواور مال آئے گا کہاں سے اس مال سے جوکہ سال بھر آپکے پاس موجو رہا ہے اس کی زکاۃ سے۔ اس سلسلہ میں مختلف فرقوں میں تعداد مختلف ہے۔ اس کے علاوہ جو راہ خد میں ا دیں گے وہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے جس کو چاہیں دیں۔ وہاں آپ کو بتادیا کہ راہ خدا دیں گے تو دس گنا ثواب ہے؟ اور اگر قرض حسنہ میں دیں گے تو اٹھارہ گنا ہے۔ اور وہ وقت پہ ادا نہ کر سکے تو جنتے دن بڑھیں گے اتنا ہی آپ کا ثواب بڑھے گا اگر معاف کردیں تو بہت زیادہ ثواب ہے۔ اگر وہ بینک کرپٹ ہوجائے اور اسلامی ریاست ہو تو قرضہ ادا کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی ارکان کے علاوہ رزق حلال کما نے کے ذرائع میں احادیث میں حضور ﷺ نے تجارت کو پہلا درجہ دیا ہے۔ اور ان تاجروں کو جو اسلامی ہدایا ت کے مطابق تجار ت کریں تو بہت بلند درجہ ہے۔ اور ضرورت مندوں کی سہولتیں کہاں کہاں وہ میں انشا اللہ تفصیل کےاگلی قسط میں پیش کرونگا پڑھنا مت بھولیئے گا۔













