انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے گذشتہ یہاں لئوٹن کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ میزبانی اور نظامت کے فرائض ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت سید حسین شہید سرور ایڈوکیٹ نے انجام دیئے۔
تقریب کے دوران مقررین نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں روکا جائے۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ یہ مظالم ستر سالوں سے جاری ہیں۔ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں اور ہزاروں جبری طور پر گم شدہ ہیں، بے شمار بے نام قبرین دریافت ہوئیں جن میں ماورائے عدالت قتل کے گئے افراد دفن ہیں۔
تقریب کے مہمان خصوصی لوٹن کے سابق میئر کونسلر ریاض بٹ تھے جبکہ صدارت کے فرائض کل جماعتی کشمیر رابطہ کمیٹی کے صدر الحاج نذیر قریشی نے انجام دیئے۔
تقریب کے دوران پروفیسر مسعود ہزاروی، سابق میئرلوٹن کونسلر راجہ وحید اکبر، کونسلر راجہ اسلم خان، تحریک کشمیربرطانیہ کے صدر چوہدری محمد شریف، چیئرمین کشمیرہیومن راٹئس راجہ شبیرخان ایڈوکیٹ، مسلم کانفرنس برطانیہ کے جنرل سیکرٹری شبیرحسین ملک، دیگر شخصیات سید کامران عابد بخاری، نثارگلشن، سید عابد گیلانی، ڈاکٹرظفر قریشی، پروفیسر ممتازبٹ، مقامی کاروباری شخصیت سید امجد علی شاہ، پروفیسر امتیاز چوہدری، شاہد حسین سید اور دیگر موجود تھے۔
تقریب کے شرکاء نے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکنے کے لئے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں جبری اغوا کر کے مار دیا جاتا ہے جو ریاستی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے۔
بھارت کو کشمیریوں پر مظالم سے روکا جائے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق دلوائے جائیں۔ خاص طور پر کشمیریوں کا حق خودارادیت انہیں دیا جائے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیاہے۔

سید حسین شہید سرور

SHARE

LEAVE A REPLY