خود فریبی کے شکار لوگ !
ہماری حکومت اور ہمارا سیاست دان ہمارے دشمن !!
جواب لے کر آئیں !!!
حکومت آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے سیاست دان نے اپنے مفاد کے لئے کشمیر کیس اور ریاستی عوام کے وقار کا سودا کیا ہے۔ اس کاروبار میں انکی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کچھ لوگوں کا بھی حصہ ہے۔
ذمہداری عوام پر بھی عائد ہوتی ہے۔ مختلف مکاتب فکر کو اس قدر
Anaesthetise
کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کھبی نہیں سوچا کہ:
1۔حکومت آزاد کشمیر 24 اکتوبر 1947 کے ڈیکلریشن پر قائیم نہیں رہی۔
2۔ حکومت آزاد کشمیر 8 جولائی 1948 کو کمیشن کے صدر کو لکھے گئے خط پر قائم نہیں رہی۔
3۔ حکومت آزاد کشمیر نے 4 ستمبر 1948 کو کمیشن کے ساتھ طے پائے معاملات کی پاسداری نہیں کی۔
4۔ حکومت آزاد کشمیر نے UNCIP RESOLUTIONS کے تحت وضع کردہ وقار بحال نہیں رکھا۔
5۔ حکومت آزاد کشمیر نے UN template کے تحت اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں
6۔حکومت آزاد کشمیر نے کراچی ایگریمنٹ کے تحت پاکستان کے رائے شماری کے حصے کے کام پر کبھی سوال نہیں اٹھایا
7۔۔حکومت آزاد کشمیر نے کراچی ایگریمنٹ کے تحت رائے شماری کے لئے اپنے حصے کے کام پر عمل نہیں کیا۔
8۔ حکومت آزاد کشمیر نے کراچی ایگریمنٹ کی شق viii کی یک طرفہ تشریح کرکے کشمیر کیس خراب کیا
9۔ حکومت آزاد کشمیر نے ایکٹ 1970 اور ایکٹ 1974 کے تحت رائے شماری کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا
10۔ حکومت آزاد کشمیر نے ہائی کورٹ کے فل بینچ کے اپریل 1999 کے فیصلے پر آج تک عمل نہیں کیا۔
ہم اس حکومت کی ان تمام خامیوں پر پردہ ڈالتے چلے آئے۔ یہ پردہ داری ایک قومی جرم ہے اور اس سے کشمیر کیس اور ریاستی عوام کو ریاست کے تینوں حصوں میں بہت نقصان پہنچا۔
ہم آج تک آزاد کشمیر اسمبلی کے لئے اور سیز سیٹ پر جاری کرپشن بھی نہیں رکوا سکے۔ ایک طاقتور DIASPORA اس خرابی اور کرپشن کا خاتمہ نہیں کرا سکا۔
اگرحکومت آزاد کشمیر کی جان پاکستانی سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی بوتل میں بند ہے، تو ان کا ریاستی باشندوں سے کیا تعلق۔ یہاں بھی ووٹ کو عزت دو کا معاملہ پیش ہے۔
ہم نے آج تک اس خرابی سے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مطلع نہیں کیا۔ کیا مزید مصلحت اور مہلت ممکن ہے ،؟ اگر نہیں تو کیا، ان پہلوؤں سے اقوام متحدہ کو باضابطہ طور آگاہ کیا جائے؟ اپنی رائے دیں۔
میری صدر آزاد کشمیر، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزراء، ممبران اسمبلی اور سیاسی رہنماؤں سے گزارش ہے، کہ وہ آئیندہ بیرون ملک کسی دورے پر آنے سے قبل، ان سوالات کے جوابات ساتھ لے کر آئیں۔
سید نذیر گیلانی













