ہارنے والے اور جیتنے والے برابر نہیں ہوسکتے،فائزہ عباس

0
706

نکلنے کا راستہ ۔ ۔ ۔
تو انہیں چاہیے ہوتا ہے جنہیں بھاگ جانا ہو میدان سے ہمارا سفر بھاگنا نہیں ۔ ۔ ۔ گہرائیوں میں اترنے کا ہنر سیکھنا ہے ۔ ۔ ۔
اور اسکے گہرے اندھیروں میں روشنی کے ان دریچوں کو کھوجنا ہے جو کہیں ہلچل کے باعث ۔ ۔ ۔ محو ہو چکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
ہنر سیکھنے کے لیے صبر اور تحمل کے ساتھ ساتھ برداشت کی ان گنت کانٹوں بھری راہوں پر چلنا پڑتا ہے۔ ۔ خون بھرے پاوں لیے ۔ ۔ ۔چلتے چلے جائیں ۔ ۔ ۔اور مسکراہٹوں کی ہلکی ٹھنڈی پھوار سے ماحول کو پرسکون بنائے رکھنا ۔ ۔ ۔پھر انمول لمحوں اور انمول چیزوں کی چھن جانے پر صبر جمیل سا صبر رکھنا۔ ۔ ۔کہ جو مل گیا اسے یاد رکھ جو ہے کھو گیا اسے بھول جا۔ ۔ ۔ ۔تمہارے ہاتھ خالی یوں۔ ۔ یا کہ بھرے ہوئے تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہییے۔ ۔ ۔ کہ تمہارا کام تو صرف۔ ۔ ۔

محو سفر رہنا ہے۔ ۔ ۔محو تماشہ تو بننا نہیں ہے کہ محو تماشہ تو تماش بین ہوتے ہیں اور تماش بینوں کا کیا کام کہ وہ ہنر سیکھیں انکا کام تو انکھ سیکنا ہے۔ ۔ ۔
مفاد سیکنا ہے۔ ۔ ۔ اپنی خوایشات کے اہتمام سیکنا ہے۔ ۔ ۔

ہنر رو وہ سیکھتے ہیں جنکے اوپر زمہ داری ہو۔ ۔ ۔یا تو انخو دی گئی ہو انکی قابلیت دیکھکر ۔ ۔ یا کہ انہوں نے کے لی ہو اپنے مقصد کی پرواز دیکھکر۔ ۔ ۔ ۔مگر یہ کسی صاحب اخلاص کے سوا ۔ ۔ صاحب علم و عمل کے سوا کرنے کی بات نہییں ہے۔ ۔ ۔ جوبھی اہل علم ہیں۔ ۔ ۔جو بھی اپنے اندر۔ ۔ ۔
صبر ۔ ۔ ۔ برداشت۔ ۔ استقامت۔ ۔ ۔ جونمردی۔ ۔ ۔حمیت و شجاعت رکھتے ہیں وہ ہوس و خواہش کے پیرو کار نہیں پھر بھلے۔ ۔ ۔ ضرورت ان پر پہاڑ بن کر ٹوٹ پڑے یا کہ۔ ۔ ۔ حالات و واقعات کے مسلسل تھپیڑے انکو اس دلدل میں لا کھڑا کریں۔ ۔ ۔ وہ دلدل کو چیر سکتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

پہاڑوں کو توڑ سکتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر مجبور و بے بس ہو کر اپنے خقصد و ھدف خو نہیں چھوڑ سکتے کہ جو ضرورتوں پر گھٹنے ٹیک سکتے ہیں ۔ ۔ مصائب پر ہار سکتے ہیں۔ ۔ ۔ انکا کیا کام بھلا کسی بھی اعلی ھدف کو پانے کا۔ ۔ ۔
جو حالات کے ننگے پن سے کی آگ سے خود کو جھلسنے سے نہ بچا سکتے ہوں وہ پھر کنویہں کہ اس مینڈک کیطرح ہی ہوتے ہیں جنکی چھلانگ انکی دانست میں بہت بلند و اعلی ہوتی یے۔ ۔ ۔

ہارنے والے اور جیتنے والے برابر نہیں ہوسکتے نہ ہی جن بنیادوں پر جیت اور ہار حاصل کی گئی ہو وہایک سی ہو سکتی ہے بہت ممکن ہے ہارنے والا جیت گیا ہو اور جیتنے والا سب کچھ ہی گنوا بیٹھا ہو ۔ ۔ ۔مگر یہ ہنر سیکھنے والوں کی طاتیں ہیں عام جکڑے اور الجھے انسان کہاں ان سب بحثوں اور کتابی باتوں میں الجھ سکتے ہیں حالانکہ کتابی باتیں بھی تو تجربات اور مشاہدات کے علاوہ علم کی گہرائیوں سے وجود میں اتی ہیں ۔ ۔ ۔ مگر ہم سطح پہ رہ کرگہرائی میں خود کو محسوس کرتے ہیں اور گہرائی کے مسافر خو نادان ، جاہل اور بیوقوف سمجھ لئتے ییں حالانکہ ہر انسان وہ ہی کہتا سوچتا اور کر رہا ہوتا ہے جو اسکے علم، مشاہدے اور دانست میں درست ہو۔ ۔ ۔
اب وہ واقعی ہی درست تھا یا نہیں اسکا میعار تو بہت الگ ہو گا۔ ۔ ۔

مگر یم سہل پسندی کو منتخب کر کے جفاکش اور بہادر کیلوانا چاہتتے ہیں۔ ۔ یہی ہمارا المیہ ہے کہ مشکالت کو چیرے بنا روشنیاں آر پار نہیں اسکتیں۔ ۔ ۔

جو مشکالت پر سسکنا سیکھ لیتے ہیں وہ لڑنے سے پہلے ہی ہار چکے ہوتے ہیں۔ ۔ ۔اور ہارے ، تھکے شکست خوردہ لوگ کسی جنگ کے لائق نہیں ہوتے وہ بس بھیڑ بکریوں کیطرح ہانکے جانے کے لائق رہ جاتے ہیں یا پھر گاجر مقلی کیطرح کاٹ کر پھینک دیے جاتے ہیں۔ ۔ ۔

بہادر لوگ نہ خود مرتے ہیں نہ دوسروں کو مارتے ہیں بلکہ زندگی کو جینے کے لیے بندگی کو منتخب کرتے ہیں… اورجینے کے لیے ہر طرح کی موت کی نگاہوں میں نگاہیں ڈالے اسکا سامنا کردار، انتخاب، طرح اخلاص و ھدف کی طہارت سے کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ زندگیاں دینے والوں کی اڑان اور ہوا کرتی ہے اور خواہشات و مجبوریوں کیساتھ ضرورتوں اور بہکاووں کے سمندروں میں بہکنے والوں کی مجبوریاں کمزوریان اور۔ ۔ ۔ بہکنے والے ہار کے قریب ہوتے ہیں اور جیتنے والے صرف جیت کی جانب متوجہ اسی کے سفر پہ گامزن۔ ۔ ۔

فائزہ عباس…

SHARE

LEAVE A REPLY