اپوزیشن کی جانب سے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کی غرض سے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے ٹرم آف ریفرنس (ٹی او آر) جمع کروادی گئیں جبکہ حکومت کمیٹی کے قانونی اور غیر قانونی ہونے لے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے تیار کردہ 10 نکاتی ٹی او آرز کی پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کی۔

جس کے بعد اسے سید نوید قمر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما شفقت محمود کے حوالے کردیا جو پارلیمانی کمیٹی برائے عام انتخابات دوہزار اٹھارہ کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر ہیں۔

اس حوالے سے منعقد ہونے والے دوسرے ان کیمرہ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں کچھ کمیٹی اراکین کی جانب سے آئین کی دفعہ 225 کی روشنی میں کمیٹی کی قانونی اور آئینی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر قانونی رائے حاصل کرنے کے لیے مرکزی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کو خط ارسال کردیا تھا تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے جواب موصول نہ ہونے کے باوجود کاررروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ حکومت یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کے وہ تحقیقات سے بھاگ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ارادے واضح ہیں آئین کے آرٹیکل 225 سے متعلق رائے نہ آنے تک بات آگے نہ بڑھ سکتی تھی مگر ہم نے ایسا نہیں کیا، آئینی ریفرنس آئے یا نا آئے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔

شفقت محمود نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری جماعت کو انتخابات سے متعلق تحقیقات کے لئے کمیٹی بنانے پر کوئی اعتراض نہیں، ریکارڈ کے مطابق سب سے پہلے فواد چودھری نے کہا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی بنا دی جائے، ہمیں کسی صورت انتخابات سے متعلق کمیٹی بنانے پر اعتراض نہیں رہا۔

دوسری جانب اپوزیشن اراکین نے کمیٹی کے قیام کے قانونی جواز کے حوالے سے سوالات پر اٹھانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت اپنے وعدے سے فرار ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

دوسری جانب پی پی پی کے رہنما نوید قمر کا کہناتھا کہ گزشتہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے ٹی آر اوز پیش کریں گی لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے ایسا کوئی مسودہ پیش کرنے کے بجائے مزید وقت کرلیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY