یہ تاریخی کتر بیونت؟۔۔۔ شمس جیلانی

0
681

پہلے تو یہ بتا ئیے کہ آپ کو “کتر بیونت “ کے معنی بھی معلوم ہیں؟ کیونکہ ہم لکھتے ہوئے اکثر بھول جاتے کہ ہم کچھ کم ایک صدی پہلے کہ لوگوں میں شامل ہیں اس وقت کی اردو اور آج کی اردو میں بہت فرق ہے کیونکہ اسوقت نہ پاکستاں تھا نہ اس کی قومی زبان اردو تھی؟۔ ہوا کہ ہم نے اپنے سے صرف دو چار سال چھوٹے ایک دوست سے اس کتر بیونت کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے کہ میں تو اس کے معنے ہی نہیں جانتا؟جبکہ آجکا ہر بچہ اس کے معنی جانتا ہے بشرط ِ ہم انگریزی اور کپیوٹر کی زبان میں اسے سمجھا ئیں؟ وہ لفظ ہے کاپی اینڈ پیسٹ(copy and paste ) جوکہ وہ دن بھر کرتے رہتے ہیں۔ پہلے زمانے میں یہ بہت ہی مشکل کام تھا اس لیئے کہ ایک جملہ ادھر سے ادھر کرنے کے لیے تو نہ جانے کیا کیا جتن کرنا پڑتے تھے اور یہ بہت مہارت کا کام سمجھا تھا۔ اس کے لیےبہت ہی تجربہ کار تاریخ چور تلاش کرنے پڑتے تھے اور پھر بھی اس تمام احتیاط کے باوجود ان کے پکڑے جانے کا خطرہ ہر وقت رہتا تھا اور پکڑے بھی گئے۔ اب کوئی غم نہیں ہے کہ پچاس سال کے بعد آج کی دنیا میں ہر ایک مصنف کی اجارہ داری ختم ہو جاتی ہے اورتاریخی چوروں اور ڈاکوؤں کو آزادی ہے کہ وہ کسی کی تصنیف یا تالیف کی عبارت تو کیا اس کی پوری کتاب ہی اپنے نام سے شائع کرلیں؟ کیونکہ کوئی اب پو چھنے والا ہی نہیں ہے چوری کو وہاں معیوب نہیں سجھا جاتا ہے۔ جبکہ پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ کسی صاحب کو صاحبِ دیوا ن شاعر بننے کے لئیے خود دیوانہ بننا پڑتا تھا۔اب کچھ ہند و پاک کے شہرو ں میں کارخانے کام کر رہے ہیں جو کسی بھی خواندہ یا نا خواندہ کو ادیب یا صاحب دیوان شاعر معقول ماوضہ پر بنا دیتے ہیں۔ ہمارے اس نوٹ کے بعد آپ کو کتر بیونت کے معنی سمجھ میں آگئے ہوں؟ اب ہم آگے بڑھتے ہیں۔
جہاں اسلام میں شدت پسند ی پہلی دفعہ خارجیوں سے آئی یعنی یہ تصور کے ہمارے سوا کوئی دوسرامسلمان نہیں ہے صرف ہم ہی مسلمان ہیں؟ اسی طرح تاریخ میں کتر بیونت کی دوسری بدعت بنو امیہ سے آئی جس کی نشانیاں ہمیں اپنی کتاب سیرت ِ حضرت امام حسین ؑ لکھتے ہوئی نظر آئیں اور ہم نے ان کی نشاندہی وہاں کردی ہے جو حضرات دیکھنا چاہیں وہ مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کی وجہ یہ تھی واقعہ کربلا کو بنو امیہ تاریخ سے یاتو غائب کرنا چاہتے تھے یا پھر کم از کم یزید کو معصوم ضرور ثابت کرنا چاہتے تھے۔ حتیٰ کہ انہوں نے ایک ایسا گروہ بھی پیدا کرلیا تھا جس کی ماباقیات ابھی تک باقی ہیں جو یہ کہنے لگا تھا کہ یہ واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں؟ حالانکہ ایسی جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ پکڑی گئیں اور کامیاب نہیں ہوسکیں کہ حق ہمیشہ حق رہتا ہے اور جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے ہیں۔ جس کو ان کے بعد ابن ِ سعود نے اپنا لیا اس کی وجہ کیا تھی وہ بھی میں جانتا ہوں جس کی وجہ سے انہوں نے جنت معلٰی اور جنت البقیع میں کوئی مزار نہیں چھوڑا ردِ بدعت کے نام پر ڈھادیا؟ اسی طرح کوئی کتاب بھی نہیں چھوڑی کتر بیونت کیئے بغیر جو کہ سعودی عرب میں شائع ہوئی ہو۔ کیونکہ انہیں بہت زیادہ تفصیل شاید پسند نہیں تھی جیسے کہ پاکستان کہ ایک صدر کو پاکستان کا قومی ترانہ اپنے وزنی ہونے کی وجہ سے پسند نہیں تھا کہ وہ زیادہ دیر کھڑے نہیں رہ سکتے تھے؟ اس لیے انہوں نے حکم دیدیا تھا کہ اس کو مختصر کرو جو کہ کردیاگیا۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر بحال ہوگیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو برسرِ اقتدار ہوتے ہیں وہ اقتدار کے نشے میں یہ قطعی بھول جا تے ہیں کہ ہماری یہ کارستانیاں ہمارے ہی دورِ حکومت تک ہی محدود ہیں اس کے بعد نہیں۔ ہمارے بعد جب دوسرے آئیں گے تو وہ ہمارے فیصلوں کو منسوخ کر دیں گے۔ اِنہوں نے تو وہ تفسیر بھی نہیں چھوڑی جو ا پنی غیر جانبداری کی وجہ سے دنیا میں مقبول تھی؟ جوکہ آج کے دور کی سب سے مقبول ترین تفسیر ِ ابن ِ کثیر کہلاتی تھی جس کی خوبی ہی یہ تھی علامہ ابن ِ کثیر ؒ کو جہاں جو بھی حدیث ملی وہ بمع تبصرہِ محدثین اور ان کی رائے وغیرہ کے اس میں سب کچھ شائع کردیا تھاکہ اس کا علمی معیار کیا ہے؟ کہ آگے طالب علم کی مرضی پر بات چھوڑدی تھی کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے؟ اس کی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے کسی پر بھی اپنی رائے زبردستی تھوپنے کی کوشش نہیں کی؟ حالانکہ اسی کے مترجمین نے دوسری زبانو ں میں ترجمہ کرتے ہوئے اپنی رائے قوسین میں پیش کردی جو کہ غیر ضروری تھی اور وہ اکثر کے مسلک کے مطابق تھی۔ لیکن اسی کا ترجمہ عربی سے انگریزی میں کرتے ہوئے سعودیوں نے بہت سی احادیث اس میں سےنکالدیں اور شروع میں ہی نوٹ لگادیا کہ ہم نے اس کو مختصر کر دیا ہے؟ بھلا کوئی ان سے پوچھے توسہی جنہوں نے یہ کام کیا ہے ؟کہ آپ کو کسی دوسرے کی تالیف یا تصنیف میں جو کہ آج اس دنیا میں موجود بھی نہیں ہے کمی یا بیشی کرنے کا حق کس نے دیا؟ ثبوت کے لیئے ویسے تو بہت سی کتابیں ہیں جو وہاں کے سرکاری اداروں کی شائع شدہ ہیں۔ جنکی فہرست اس چھوٹے سے مضمون میں نہیں آسکتی؟ جبکہ میں نے یہاں چند مثالیں پیش کی ہیں کہ انہیں استعمال کرتے ہوئےآپ خود خیال رکھیں ۔
اب اس کے بعد ایک نئی مہم چلی رہی جو کہ پرانے مشاہیر کو ان کے درجہ اولیٰ سے گراکر غیر معروف بنا نے کوشش پر مشتمل ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس کا بانی کون ہے اس کے مقاصد کیا ہیں؟ ہے جو کہ و کی پیڈا میں تبدیلی پیدا کرنے میں لگا ہوا ہے۔خاص طور سے وہ مشاہیر جو اتہاد بین المسلمین کے داعی تھے جیسے کہ حضرت امداد مہاجر مکی رحمہ علیہ جو کہ دیوبند کے بانی تھے اور علمائے دیوبند کے روحا نی پیشوا بھی تھے جن کے خلفا ء راشدین میں مولانا اشرف علی تھانوی جیسے بڑے بڑے نام تھے اور لا تعداد تھے۔ ا ان سے انکا رشتہ نہ صرف استاد بلکہ پیر ِ طریقت کا بھی تھا ان کے نام وہاں سے صاف کردیئے گئے؟ان ہی کی ہدایت کے لیے انہوں نے“ رسالہ ہفت متنازعہ مسائل اور انکا حل نامی رسالہ لکھا تھا“ حضرت امداد مہاجر مکی ؒ کے نام کو شر پسندوں نے از راہ مہربانی بطور معمولی استاد رہنے دیا باقی سب صاف کردیا؟ یہ سب کچھ میں نے نئی نسل کے لیئے لکھا ہے تاکہ وہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کی وجوہات کیا ہیں اور اس تحریک پیچھے کون ہے؟ تاکہ وہ اس کو اپنی اصل پر واپس لے آئیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY