آپ کے نام خط لکھنا میرا پرانا وطیرہ ہے جو میں اس وقت سے لکھتا چلا آرہا ہوں جب آپ کچھ بھی نہ تھے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے آپکونوازا اور پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیا؟ آپ نے ایک ایسی بات کہدی جو تھی “مدینہ جیسی ریاست بنانا “ ممکن ہے یہ آپ کے دل کی آواز ہو اس لیئے کہ دلوں کے راز بندہ خودجانتا ہے یا اللہ سبحانہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اس کی وجہ سے مجھ جیسے لوگوں نے ہی نہیں،بلکہ پوری قوم نے آپ سے بہت سی امیدیں وابسطہ کرلیں؟ شاید آپ نے سوچا نہیں ہوکہ مدینے کی ریاست نبی ﷺ کی موجودگی کے با وجود اکیس سال میں جاکر بنی تھی اور اس کی تکمیل حضرت عمر ؓکی خلافت میں ہوئی تھی۔ جبکہ سب کام ایک ایک کر کے بتدریج ہوئے اور ایک دن میں کوئی چیز نافذ نہیں ہوئی مثلا ً سود بیس سال میں جاکر حج الوداع کے مو قعہ پر حرام ہوا۔ اس وقت تک حضور ﷺ بعض لوگوں سے بیعت اس پر لیتے رہے کہ بیعت کرنے والااور بیعت کرنے والی حتیٰ الا مقدور دین پر عمل کر یں گے اس کے بعد حج الودا ع کے موقعہ پر تکملہ دین ہوا اور وہ آیت نازل ہوئی؟ لیکن ہم نے دین کو پھر وہیں پہنچا دیا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا کہ بعض اور ارا کان ِ اسلام کا نام تک نہیں ہے؟ مگر لوگ روزہ نماز سب ادا کر رہے ہیں مسجدیں بھری ہوئی ہیں حج کے لیے سب سے زیادہ مسلمان مکّہ معظمہ بھی جا تے ہیں۔مگر ان میں وہ کردار اب باقی نہیں ہے جو کہ روزہ نماز اور حج کے بعد میں پیدا ہونا چا ہیئے تھا۔ اس لیئے کہ ہم دین کو علٰحدہ سمجھتے ہیں اور دنیا کو الگ جیسا کہ دوسری قوموں کا عقیدہ ہے؟ جبکہ اسلام میں دنیا تابع ہے دین کے اور اس کا نمونا قرآن نے حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ کو بتایا ہے۔ جسے ہم نے بہت عرصہ پہلے چھوڑ دیا ہے۔ وہ کردار اب کہیں دکھا ئی نہیں دیتا جو کہ حضور ﷺ نے اپنےصحابہ کرام ؓمیں تزکیہ نفس کے ذریعہ پیدا کیا تھا۔ لہذا مدینے کی ریاست ایک دن میں نہیں بن سکتی اس کو بتدریج ہی نا فذ کرنا پڑیگا۔ اور جو لوگ فوراً نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں آپ کو موقع دینا ہوگا۔ مثلاً آپ کے پیش رو اربوں ڈالر کا سودی قرضہ چھوڑ گئے ہیں؟ اور حکم امتنا عی کے ذریعہ سالوں سے سودی کارو بار چلا رہے ہیں؟ بہت سے لوگ انکا نام جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں؟۔ لہذاسود سے فوراً نہیں نکلا جا سکتا۔ شراب پر کیسے اس پارلیمان کے ذریعہ آپ پابندی لگا سکتے ہیں۔ جو ابھی چند مہینوں پہلے شراب پر پابندی لگا نے کے خلاف ووٹ دے چکی ہے؟ ہاں اس سمت میں کوشش شروع کی جاسکتی ہے۔ اگر پاکستان کے مسلمان واقعی اسلامی نظام کے حامی ہیں۔ جس کے لئے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے ان کے بزرگوں نے ملک مانگا تھااور حاصل کیا تھا۔ یہ تو تھیں آپ کی مجبوریاں جو میں سامنے لانا چا ہتا تھا۔ اب دوسری بات پیش خدمت ہے؟
میں آج حسب معمول قرآن کی تلاوت کر رہا تھا جب میں سورہ یونس ؑکی آیت نمبر11سے 16 تک پہنچا تو مجھے کچھ ایسا لگا کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ شاید پاکستانیوں سے ہی مخاطب ہے ؟اس لیئے کہ ہماری آجکل بالکل ہی ویسی ہی حالت ہے جیسی ان کی تھی۔ اس کی شان نزول پر جا ئیں تو یہ وقت وہ ابتدائی دور تھاجس وقت کے حضورﷺ نے نبوت کا دعوہ کیا تھا۔ اور اہلِ مکّہ کو قحط نے گھیر لیا تھا اور وہ گڑ گڑاتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس پہنچے تھے کہ آپ اللہ سے دعا فرما ئیے اور ہم ایمان لانے کو تیار ہیں۔ لیکن وہ پھر ہمیشہ کی طرح جو کافروں کا رویہ رہا ہے پھر گئے۔ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ان آیتوں میں ڈرا رہا ہے۔ کہ ہم پہلے کسی قوم کو آگے بڑھاتے ہیں پھر جب وہ اپنے فرائض کی ادا ئیگی میں کوتاہی برتی ہے تو ہم اس کی جگہ دوسری قوم لے آتے ہیں۔ لیکن ہم عذاب میں اتنی جلدی نہیں کرتے بلکہ نا فر مان قوموں کو وقت دیتے ہیں تاکہ وہ توبہ کی طرف لوٹ آئیں۔ اور دوسری جگہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فر مایا کہ جب نافر مان قوموں کی یہ حالت دیکھتے ہیں کہ عمل میں صفر ہیں لیکن عبادت گاہیں بھری ہوئی ہیں تو ہمیں رحم آجاتا ہے اور عذاب کے ایک دو جھٹکے دے کر روک دیتے ہیں کہ توبہ کرلیں۔ اس امت کامعاملہ اورں سے تھوڑا مختلف ہے اِسے بار بار جھنجھوڑا جا چکا ہے۔ مگر نہ یہ غلطی تسلیم کرتی ہے اور نہ توبہ کرتی ہے۔ ابھی بھی ایک سال سے پوری طرح کرونا کے عذاب میں مبتلا ہے اور اس غلط فہمی میں ہے کہ ہم پہلے کی طرح ویکسین بنا لیں گے اور اس بلا پرقابو پالیں گے؟ ابھی ویکسین بن کر آئی ہی تھی استعمال ہونا بھی شروع نہیں ہوئی تھی جب تک کہ کرونا اپنی نئی جون میں پھر آگیا۔اس لئیے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کو تو صرف ارادہ کرنے کی ضرورت ہوتی اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے جب وہ چاہتا ہے؟ جبکہ سا ئنسداں سالوں لگے رہتے ہیں تب کہیں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ دنیا کب تک اللہ سےجنگ جا ری رکھ سکتی؟ بہتر یہ ہے کہ جنہیں اللہ پر یقین ہے وہ تو فورا ً توبہ کرلیں تو بہتر ہے وہ معاف فر مادے گا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا دستور ہی یہ ہی ہے۔ جبکہ پاکستانی بھی اسی دنیا میں رہتے ہیں انسانی ہمدردی کا تقاضہ یہ تھا کہ وہ نہ صرف خود اپنے لئیے توبہ کرتے بلکہ دوسروں کو بھی احساس دلاتے کہ یہ طریقہ بھی برت دیکھو شاید افاقہ ہو جائے۔لیکن وہ الٹے ان کے ہی پیچھے لگ گئے کہ ہمیں تم راستہ دکھاؤ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ عذاب ہے۔ اس سلسلہ میں چونکہ آپ دنیا کے سامنے بہت اچھا امیج رکھتے ہیں، پاکستان دنیا کی رہنمائی کر سکتا تھا اس طرح دین کی تبلیغ کا آپکو موقعہ ملتا ۔ اور اس کا شکر بھی ادا ہوجا تا جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان دیا اور بھی بہت کچھ دیا بغیر مخالفت کے اسکو ایٹمی طاقت بنادیا، اس اسوقت اس کی وہ اہمیت ہے جو دنیا کے کسی اورملک نہیں ہے۔ جبکہ یہ بنا تھا تو اس کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی۔ یہ حالات کس نے پیدا کیے؟ اللہ نے۔کرونا ہی کہ سلسلہ میں دیکھ لیجئے کہ یہ وہاں باشندوں کو مضبوط ایمون سسٹم کس نے عطا کیا ؟ مومن اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ نے؟ کیا ادا ئے شکر کا یہ ہی طریقہ تھا کہ ہر کا میابی کو اپنے ہی نام کر لیا جا ئے؟ اگر اس کے بجا ئے پاکستانی قیادت اللہ کاشکر ادا کرتی تو اپنے وعدے کے مطابق وہ اورز یادہ دیتا، مگر آپ نے خود کو سزا کا مستحق بنا نا زیادہ مناسب سمجھا جو کہ اسی آیت کا دوسرا حصہ ہے کہ اگر کفرکرو گے تو میرا عذاب بھی شدید ہے آیت نمبر 7سورہ ابرا ہیم ؑ)۔ اس پر لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کفر کب کیا؟ یہ آیت تو کافروں کے بارے میں ہے۔ کیا کفران نعمت کرنااور اس کی مہر بانیوں کا اعتراف نہ کرنا کفر نہیں ہے۔؟ اس کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔ یہ موقع بہترین تھا اس سے فائدہ اٹھا کر مدینہ کی ریاست کی طرف ایک قدم بڑھا دیتے اور جو اس کی مخالفت کرتے وہ خود بخود ننگے ہوجا تے؟ لیکن آپ کی حکومت نے اس کے غضب کو دعوت دی کہ ایک آرڈینینس نا فذ کردیا جو کہ اللہ کی حاکمیت اعلیٰ میں کھلی مدا خلت ہے کیونکہ حدود آرڈیننس وہاں پہلے ہی نافذ ہے۔ اس سے سخت سزا دی جا سکتی تھی جو کہ اس میں موجود ہے۔ اور پاکستان کو مزید قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں تھی بلکہ اللہ کے قوانین کے نفاذ میں لیت اور لعل سے انتظامیہ کے کام لینے کی وجہ سے وہاں جرائم ہوتے ہیں؟ اس طرح آپ نے اللہ کے حدود میں مدا خلت کی، کیونکہ قانون سازی حق ہے صرف اور صرف اللہ کا ہے، آپ کانہیں؟ آپ کا یہ ہے کہ جو قر آن اور سنت میں نہ ہو “اولالعمر“ ہونے کی حیثیت سے روز مرہ کے لیے جو چا ہیں قانون بنا ئیں۔ مشورہ دینا ہمارا کام ہے اس پر عمل کریں نہ کریں آپ کی مرضی ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے (آمین)













