انجمن فروغ اردو ادب کویت کی جانب ایک شام بیاد ملک نور محمد مرحوم
ایک چراغ زیر خاک رکھ دیا
انجمن فروغ اردو ادب کویت کے بانی صدر اور روح رواں کویت کے ادبی سماجی حلقوں کی ھر دل عزیز اور معروف عبداللہ عباسی جو برسوں سے ریڈیو کویت سے منسلک فروغ اردو ادب کی خاطر پرعزم رھتے ھیں
بہت برسوں سے ادبی خدمات اور عالمی مشاعرے کا انعقاد کرتے ھیں، دسمبر چھبیس کو انھوں نے بیاد ملک نور محمد کے سلسلے میں ایک تعزیتی پروگرام کا زوم پر انعقاد کیا
جنت مکانی ملک نور محمد جن کا انتقال چار سال قبل ھوا تھا وہ سماجی خدمات کے حوالے سے کویت میں موجود پاکستانی کمیونٹی کی بہت معتبر
تھے انھوں نے راولپنڈی میں فرینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے زیراہتمام پانچ منزلہ ھسپتال بنا کر ایک مثال قائم کی
وہ کویت میں بھی مختلف اسکولوں میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کرتے تھے انکے ساتھ انکی ٹیم بھی اسی عزم و جانفشانی سے سب کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہتی
وہ کویت میں انتہائ احترام سے دیکھے جاتے تھے انتہائی درد مند ھمہ وقت ضرورت مندوں کی مدد کے لیے تیار
بہت کم گو مگر خاموشی سے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے
بے شمار کام کرتے تھے
آج کے پروگرام میں مرحوم ملک نور محمد کے لیے
کویت میں مقیم سماجی ادبی طبی اور تعلیمی حلقوں کے نمائیندہ افراد کی جانب سے تعزیتی پیغامات نشر ہوئے
اس تقریب کی صدارت برطانیہ سے شاعر ادیب صحافی دانشور اور عالمی اخبار کے مدیر اعلی صفدر ھمدانی نے کی مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا
پروگرام میں شامل دیگر احباب نے ان سے گہری عقیدت کے اظہار کا سلسلہ تا دیر جاری رکھا
مرحوم ملک نورکویتی اور دیگر عربی افراد کے لیے بھی بہت قابل احترام تھے
تقریب میں عبداللہ عباسی اور شاہین رضوی کے علاوہ
ڈاکٹر ظفر شیخ
رانا اعجاز
زبیر شرقی
سائیں رب نواز
ڈاکٹر شجاع
اور دیگر دوستوں نے بھی شرکت کی اور پروگرام دعائے مغفرت پر ختم ہوا
شاہین رضوی













