مہدی حسن ۱۳ جون کو بچھڑے ایک سال اور بیت گیا

0
1032

مہدی حسن 1927ء میں تییرہ جون کو بھارتی ریاست راجستھان کے ایک گاؤں لُونا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اور چچا دُھرپد گائیکی کے ماہر تھے اور مہدی حسن کی ابتدائی تربیت گھر ہی میں ہوئی۔ خود اُن کے بقول وہ کلاونت گھرانے کی سولھویں پیڑھی سے تعلق رکھتے تھے۔مہدی حسن اہل خانہ کے ساتھ 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے اور محنت مزدوری کے طور پر سائیکلیں مرمت کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈیزل انجن مکینک کے کام میں مہارت حاصل کی اور پہلے موٹر اور اس کے بعد ٹریکٹر کے مکینک بن گئے۔ اس دوران بھی وہ موسیقی کے خیال سے غافل نہیں رہے اور ان حالات میں بھی ریاض جاری رکھا۔ 1950ء کی دہائی اُن کے لیے مبارک ثابت ہوئی جب اُن کا تعارف ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی سے ہوا۔ گیلانی کی جوہر شناس شخصیت نے ریڈیو پاکستان لاہور میں ہونے والی موسیقی کانفرنس میں انہیں غزل گانے کا موقع دیا اور مہدی حسن کو ایک نئی راہ مل گئی۔ ساٹھ کی دہائی میں ان کی گائی ہوئی فیص احمد فیض کی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے‘ ہر گلی کوچے میں گونجنے لگی۔ 60 اور 70 کی دہائیوں میں مہدی حسن پاکستان کے معروف ترین فلمی گائیک بن گئے۔ سنتوش کمار، درپن، وحید مراد اور محمد علی سے لے کر ندیم اور شاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پر لب ہلائے۔ سنجیدہ حلقوں میں اُن کی حیثیت ایک غزل گائیک کے طور پر مستحکم رہی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے برِصغیر کے ملکوں کا کئی بار دورہ بھی کیا۔

اُن کے احترام کا یہ عالم تھا کہ مشہور بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر کہتی تھیں کہ مہدی حسن کے گلے میں تو بھگوان بولتے ہیں۔ ملکہ ترنم نور جہاں کا کہنا تھا کہ ایسی آواز صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے، حالانکہ یہ بات خود ان کی شخصیت کے بارے میں کہی جاتی ہے۔ نیپال کے شاہ بریندرا اُن کے احترام میں اُٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔ انہیں مہدی حسن کی کئی غزلیں زبانی یاد تھیں۔80 کی دہائی میں انہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ اور امریکا کے دوروں میں گزارا۔ ان کے شاگردوں میں سب سے پہلے پرویز مہدی نے نام پیدا کیا اور تمام عمر اپنے اُستاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے۔ بعد میں غلام عباس، سلامت علی، آصف جاوید اور طلعت عزیز جیسے ہونہار شاگردوں نے اْن کی طرز گائیکی کو زندہ رکھا۔

شباب کیرانوی مرحوم نے جب فلم ”نیا راستہ“ بنانے کا اعلان کیا تو ایک گیت کے لئے خان صاحب کو بلوابھیجا۔ خان صاحب نے شاعری سننے کے بعد شباب کیرالوی سے کہا کہ آپ یہ گیت احمد رشدی صاحب کی آواز میں ریکارڈ کرالیں، وہ طربیہ گیت گانے کے ماہر ہیں۔ یہ خان صاحب کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے اپنے سامنے احمد رشدی کا نام پیش کیا۔

ادھر کیرالوی صاحب بھی بضد تھے کہ خان صاحب سے ہی یہ گیت گوائیں گے ۔ ان کااصرار اتنا بڑھا کہ خان صاحب کو ہار ماننا پڑا۔انہوں نے گیت گایا جو محمد علی پر فلمبند ہوا ۔ گو کہ فلم ہٹ نہیں ہوئی مگر صرف خان صاحب کے گیت کی بدولت شباب صاحب ایک بڑے مالی خسارے سے بچ گئے ۔ گیت کے بول تھے”مجھے کر دے نا دیوانہ تیرے انداز مستانہ “

سانسوں کو سروں میں ڈھال دینے کے ماہر مہدی حسن نے 13 جون سن 2012ء کو کراچی میں زندگی کی آخری سانس لی، طویل جدوجہد اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اپنے کام سے ان کی گہری وابستگی ہمیشہ ان کو چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھے گی

انٹر نیٹ مواد

SHARE

LEAVE A REPLY