بلوچستان میں ذرائع ابلاغ کے ادارے :
عہدِ حاضر میں ذرائع ابلاغ میں کتاب ،اخبار ، رسائل ، ٹیلی فون ، ریڈیو ، ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ شامل ہیں ۔ انٹرنیٹ وہ قوی ترین ذریعہ ابلاغ ہے کہ جس میں کہ جس پر یہ سبھی دیگر ذرائع سمٹ کر آگئے ہیں ۔ لیکن جب ہم بلوچستان میں ان ذرائع ابلاغ کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں تو ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کے مراکز کا آغاز قیامِ پاکستان سے قبل کا موجود ہے ۔کیونکہ انگریز کے دور میں ہی ۱۸۷۶میں کوئٹہ ایجنسی کے قیام کے بعد بلوچستان میں سماجی تبدیلیوں کی رفتار تیز تر ہوئی ۔ انگریزوں نے سب سے پہلے اپنی چھاؤنیاں قائم کیں جس کے بعد انھوں نے اسکول ، ہسپتال ، ڈاکخانے اور سب سے بڑھ کر ریلوے کی پٹڑیوں کا ایک جال بچھا دیا ۔
تاہم قیامِ پاکستان کے بعد دیگر ذرائع ابلاغ کی تاریخ کچھ اس طرح سے ہے ۔
بلوچستان میں ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی سینٹرکا قیام :

ریڈیو پاکستان کوئٹہ مرکز :
بلوچستان میں 17 اکتوبر1956 میں کوئٹہ میں ایک کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا افتتاح ہوا۔اس کے تقریبا 27 سال بعد 1981 میں تربت میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ساتھ اور خضدار میں 250 واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشنوں کا افتتاح ہوا۔پھر اس کے آٹھ سال بعد 1989 میں سبی میں 250 واٹ ٹرانسمیٹر کے ریلے سٹیشن کا افتتاح ہوا۔
۔1996 میں لورالائی میں 10 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔۔1997 میں ژوب میں 10 کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے ریڈیو سٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔۔2005 میں گوادر مٹھی میں ایف ایم اسٹیشن قائم ہوئے۔اس وقت بلوچستان میں سرکاری اور پرائیویٹ تقریبا 10 ریڈیو اسٹیشنز کام کر رہے ہیں ۔
۔1998 میں ماس میڈیا کے متعلق کیئے گئے ایک ملک گیر سروے کے مطابق ریڈیو کی سب سے زیادہ لسننگ بلوچستان میں تھی جہاں 39.72 فیصد گھرانوں میں ریڈیو بطور ذریعہ اطلاعات/ معلومات استعمال ہوتا تھا ۔
نیز پاکستان میں سب سے زیادہ ریڈیو سیٹس بلوچستان کے گھروں میں تھے جہاں 57.4 فیصد گھروں کی ملکیت میں ریڈیو سیٹس تھے ۔
ریڈیو پاکستان پر بلوچی پروگراموں کا سلسلہ:۔
اگرچہ بلوچستان میں سب سے پہلا ریڈیو اسٹیشن 1956 میں قائم ہوا تاہم ریڈیو پاکستان کراچی سے بلوچی پروگرامز پیش کرنے کا سلسلہ اس سے بہت پہلے کا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی نامور علمی و ادبی شخصیت مولانا خیر محمد ندوی نے “بلوچ ایجوکیشنل سوسائٹی ” کے توسط سے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ کراچی میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، لہٰذا ان کے لیے ریڈیو پاکستان میں بلوچی زبان میں پروگراموں کا وقت مختص کیا جائے، چنانچہ ان کی کوششوں سے 25 دسمبر 1949ء کو ریڈیو پاکستان سے پہلی مرتبہ بلوچی پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور وہ خیر محمد ندوی صاحب ہی اس پروگرام کے انچارج متعین ہوئے۔
۔ 1955ء کو ایک وفد کے ہمراہ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات پیر علی محمد راشدی سے مطالبہ کیا کہ بلوچی زبان کا مرکزی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ ہے، لہٰذا وہاں سے بھی بلوچی پروگرام شروع کیے جائیں، یہ مطالبہ بھی منظور ہوا۔
اور یوں ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے اردو کے علاوہ تین مقامی زبانوں بلوچی ،براہوی اورپشتو میں بھی ہمیشہ سے معلوماتی اور تفریحی معیاری پروگرامز پیش کیئے جاتے رہے ہیں ۔ کوئٹہ ریڈیو سٹیشن سے ذرائع ابلاغ کے پروگرامز میں ہمیشہ بہت ہی قابل شخصیات نے شرکت کی ۔جن میں عطا شاد ، پروفیسر مجتبی حسین ،پروفیسر کرار حسین وغیرہ شامل ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی ٹی وی کوئٹہ مرکز :

پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز 26 نومبر 1964ء کو لاہور کے اسٹیشن سے ہوا۔ جبکہ 26 نومبر 1967 کو کوئٹہ ٹی وی اسٹیشن کے لیئے کام کا آغاز ہوا۔
کوئیٹہ میں ٹی وی کا باقاعدہ آغاز 26 نومبر 1972 کو ھوا۔ پہلے جنرل مینیجر شہزاد خلیل تھے۔ یہاں سے اردہ۔ بلوچی۔ براہوی اور پشتو زبانوں میں پروگرام ھوتے تھے۔
ابتدا میں بلوچی زبان میں پیش کیئے جانے والے ڈراموں میں ” ریک نا ماڑی ” شامل ہے ۔ جو کہ معروف بلوچی ڈرامہ نگار اے ڈی بلوچ کی تحریر تھا ۔ اے ڈی بلوچ نہ صرف فنکار اور ڈرامہ نگار ہیں بلکہ انہیں 8 زبانوں پر عبور بھی حاصل ہے ۔
کوئٹہ ٹیلی وژن سے نیوز ریڈنگ کا کا شعبہ بھی شروع دن سے فعال رہا۔ اس وقت رات 9 بجے کی قومی خبریں ھر اسٹیشن پر الگ الگ ھوتی تھیں۔ اور ھر جگہ دو نیوز کاسٹر ایک مرد اور ایک خاتون مل کر پیش کرتے تھے۔ کوئیٹہ میں پہلے دو نیوز کاسٹر عارفہ رضوی اور تنویر اقبال تھے۔
پاکستان ٹیلی ویژن لمیٹڈ نے 14اگست 2005کو بلوچی ،براہوی اورپشتوزبان میں پہلا علاقائی چینل پی ٹی وی بولان قائم کیا جس کا صدردفترحالی روڈ کوئٹہ میں پی ٹی وی کوئٹہ سنٹرکی عمارت میں بنا۔
بلوچستان کے اخبارات :۔
اگرچہ قیامِ پاکستان سے قبل بھی بہت سے کثیر الاشاعت اردو اخبارات ایسے تھے جو کہ بعد میں پاکستان کی پہچان بنے ہیں ۔ البتہ بلوچستان میں ان کا اجرا قیامِ پاکستان کے فورا بعد نہین ہوا ۔ بلکہ مختلف زمانوں میں یہ ممکن ہو سکا ، مثلا جنگ کوئٹہ کہ جس نے اکتیس مارچ 1974 سے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے اشاعت کا آغاز کیا۔ اسی طرح دیگر ملک گیر اخبارات کے مراکز بھی کوئٹہ میں قائم ہوتے چلے گئے ۔
بلوچستان کے مقامی اخبارات میں روزنامہ اعتماد کوئٹہ ، بلوچستان کا کثیر الاشاعت روزنامہ ہے اور اس اخبار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ کوئٹہ سے بطور روزنامہ شائع ہونے والا پہلا اخبار ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اردو اخبارات میں روزنامہ بلوچستان ، رونامہ آزادی ، ڈیلی بلوچستان ایکسپریس
اور انگریزی جرائد میں یہ انم مشہور ہیں ۔
The Balochistan Post
Balochistan Express
بلوچی زبان میں اخبار و جرائد کا اجرا:۔
مولانا خیر محمد ندوی نے بلوچی زبان کو فروغ و استحکام بخشنے کے واسطے مختلف زمانوں میں درج ذیل اخبار و جرائد نکالے:۔
۔ 1 ۔ کراچی سے “ینگ بلوچستان ” کے نام سے اخبار۔
۔2 ۔ ماہنامہ “اومان”1951ء تا 1961ءکو اس وقت نکالا، جب بلوچی رسم الخط بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔
۔3 ۔ ماہنامہ “اولس”، میر جعفر خان جمالی کے ہاتھ سے افتتاح کروایا۔
۔4 ۔ ماہنامہ” سوغات” کراچی، 1978ء کو یہ دینی و تبلیغی مجلہ جاری فرمایا













