علی لکھا جو صفدر تو قلم نے ہاتھ چومے ہیں

0
1524

ملائک سُن کے نعرہ یا علی کا خوب جھومے ہیں
نشے میں چاند سورج اور سبھی افلاک گھومے ہیں

علی کا نام اسم نور ہے سدرہ سے بالا ہے
میرے سب لفظ چھوٹے ہیں مناقب میں جو لکھے ہیں

یہ کاغذ پر جو لکھا ہے علی مولا علی مولا
یوں لگتا ہے ہزاروں چاند ہر نکتے میں بکھرے ہیں

کبھی مُشکل زمیں سے آسمانوں تک ہے جب آئی
خدا شاہد ہے نبیوں سے بھی یہ ہی نام سنتے ہیں

علی کے نام پہ دریاؤں کی بھی سانس رَکتی ہے
کیا ایسے معجزے اہل مودت نے بھی سوچے ہیں

ہر اک قطرے سے آتی ہے صدا حیدر علی حیدر
بنام مرتضی صحرا پہ یہ جو ابر برسے ہیں

یہ میرے ساتھ برسوں سے ہوا ہے معجزہ اکثر
علی لکھا جو صفدر تو قلم نے ہاتھ چومے ہیں
صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY