عالمی وبا کے باعث نئے سال کی زیادہ تر استقبالیہ تقریبات منسوخ

0
630

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے عائد پابندیوں کے باعث نئے سال کا استقبال روایتی انداز میں نہیں کیا جا رہا۔ اکثر ممالک میں نئے سال کی خصوصی تقریبات یا تو منسوخ کر دی گئی ہیں یا بہت محدود تعداد میں لوگوں کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں جہاں نئے سال کے جشن کا آغاز ہوتا ہے، وہاں حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی پابندیوں کے پیش نظر اپنے گھروں میں رہیں۔ سڈنی برج پر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کے لیے لوگوں کی ایک مختصر تعداد کو آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

نیا سال 2021 اس بار امریکہ میں نئے صدر کے استقبال کا سال بھی ہے۔ جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لئے کانگریس کا اجلاس چھ جنوری کو ہو گا۔ جب کہ ری پبلکن پارٹی کے سینیٹر جوش ہالی نے کہا ہے کہ وہ کانگریس میں الیکٹورل کالج سے بائیڈن کی کامیابی پر اعتراض اُٹھائیں گے۔بائیڈن کی نامزد کردہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ بائیڈن 20 جنوری کو ہی صدارت کا حلف اُٹھائیں گے۔

نیو یارک کا ٹائمز سکوائر نئے سال کی تقریبات اور نیو ائیر بال ڈراپنگ کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ مگر اس مرتبہ ان تقریبات کیلئے لوگوں کو ٹائمز سکوائر میں جانے کی اجازت نہیں ہے، ماسوائے ان چند درجن فرنٹ لائن ورکرز کے جو کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ لوگوں کو تقریبات کے مقام پرجانے سے روکنے کیلئے پولیس نے سخت انتظامات کیے ہیں۔

آسٹریلیا میں سڈنی کے ہاربر برج پر فائر ورکس کو گزشتہ سال 10 لاکھ لوگوں نے دیکھا تھا، مگر اس سال وہاں سناٹا ہے۔ آسٹریلیا کے دوسرے سب سے گنجان آباد شہر میلبورن کے مئیر نے کہا ہے کہ برسوں سے جاری آتش بازی کی تقریب کو منسوخ کرنا ایک بہت مشکل فیصلہ تھا، جو ہمیں کرونا وبا کی وجہ سے کرنا پڑا۔

نیوزی لینڈ جو سڈنی سے دو گھنٹے آگے ہے اور جس کے بہت سے جنوبی بحرالکاہل کے جزائر میں کوویڈ کا کوئی کیس نہیں ہے، وہاں سال نو کی تقریبات کو ہمیشہ کی طرح منایا گیا۔

چین میں کاونٹ ڈاون تقریب میں چند مہمانوں کو مدعو کیا گیا، جب کہ دوسری تمام روایتی تقریبات منسوخ کر دی گئیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY