ٹرمپ نے بطور صدر پہلے انتظامی حکم نامے پر دستخط کر دیے

0
387

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اپنا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس میں وفاقی اداروں کو سابق صدر براک اوباما کے صحت عامہ سے متعلق قانون کے قواعد میں نرمی کرنے کا کہا گیا ہے۔

ملک کے پینتالیسویں صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے کچھ دیر بعد اوول آفس میں نائب صدر مائیک پینس، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف ریئنس پریئبس اور دیگر اہم قانون سازوں کی موجودگی میں انھوں نے اس حکم نامے پر دستخط کیے۔

پریئبس کا کہنا تھا کہ اس حکم نامے کا مقصد 2010ء کے ‘افورڈ ایبل کیئر ایکٹ’ کے “اقتصادی بوجھ” کو کم کرنا ہے۔ یہ قانون اوباما کیئر کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

ٹرمپ اپنی پوری صدارتی مہم کے دوران اس قانون کی مخالفت کرتے رہے اور انھوں نے متعدد بار اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس قانون کو ختم اور تبدیل کر دیں گے۔

اس حکم نامے کے مندرجات کے بارے میں مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک اور بل پر دستخط کیے جس میں سابق جنرل جیمز میٹس کو بطور وزیر دفاع کام کرنے کا کہا گیا ہے۔ میٹس ساڑھے تین سال قبل تقریباً چار دہائیوں سے زائد عرصے تک فوج میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعد سبکدوش ہوئے تھے۔

بعد ازاں ٹرمپ نے باضابطہ طور پر اپنے نئے وزیر دفاع جیمز میٹس اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر جان کیلی کے توثیق پر بھی دستخط کیے۔

علیحدہ سے منعقد ہونے والی ایک تقریب میں نائب صدر پینس نے میٹس اور کیلی سے ان کے منصب کا حلف لیا۔

نئے صدر نے صحافیوں سے مختصراً بات کرتے ہوئے اپنے دن کے بارے میں کہا کہ ” یہ بہت مصروف تھا، لیکن اچھا تھا۔ یہ ایک خوبصورت دن تھا۔”

SHARE

LEAVE A REPLY