وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے شہدا کے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔

وزیراعظم سے ملاقات کے لیے متاثرہ خاندانوں کو سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی بلایا گیا۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رہنما ایم ڈبلیو ایم آغارضا نے بتایا کہ وزیراعظم نےکہا کہ بلیک میلنگ کا لفظ پی ڈی ایم کی قیادت کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ طے پائے گئے معاملات پر عملدرآمد ہوگا۔

آغا رضا نے کہا کہ ان کا کوئی ذاتی کوئی ایجنڈا نہیں تھا، دھرنا شہداء کے لواحقین کی جانب سے دیا گیا۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنما نے کہا کہ وفاق کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے کی رقم بعد میں دی جائےگی۔

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں آپ سے تمام وعدے پورے کریں گے۔ پہلی دفعہ کسی حکومت نے لکھ کردیا ہے سارے وعدے پورے کریں گے۔

ہزارہ برادری کے متاثرین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ فکر نہ کریں آپ سے تمام وعدے پورے کریں گے۔ سانحہ مچھ کے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہرارہ کمیونٹی کے ساتھ یہ پہلا واقعہ نہیں، آپ کے ساتھ بڑے سانحے واقعے ہوئے۔ اور بہت سے لوگ شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی پر حملہ افسوسناک ہے، ہزارہ برادری کےساتھ ظلم پردکھ اورافسوس ہے۔ ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کیلئےاقدامات کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کی نسل کشی کی جارہی ہے۔پچھلی بار جب مذمت کی تو انہوں نے مجھے دھمکیاں دی۔ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانا چاہتا ہے،

انہوں نے کہا کہ ہمیں پتا ہے دنیا میں شیعہ، سنی فساد پھیلانے کی کون سازش کر رہا ہے، ایران،سعودی عرب میں تعلقات بہتری کے لیے پوری کوشش کررہا ہوں، فتنہ،فساد پھیلانے والوں کے پیچھے جائیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارت ملوث ہے

SHARE

LEAVE A REPLY